الخلیل (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں قابض اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز مسلسل نویں دن بھی فوجی کارروائیاں اور سخت محاصرہ جاری رکھا۔ اس دوران بڑے پیمانے پر فوجی کمک تعینات کی گئی، فلسطینیوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، گرفتاریاں کی گئیں اور شہریوں کو بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ سیکڑوں خاندان بدستور جبری بے دخلی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
قابض اسرائیلی فوج نے الخلیل کے مغربی علاقے دیر بہا محلے کی جانب مختلف داخلی راستوں سے بڑی تعداد میں فوجی کمک روانہ کی۔
اسرائیلی فوج نے ان گھروں پر بھی دھاوے بولے جن کے مکینوں کو پہلے ہی جبری طور پر بے دخل کیا جا چکا تھا۔ فوجیوں نے گھروں میں توڑ پھوڑ کی اور وہاں موجود سامان کو الٹ پلٹ کرکے تباہ کردیا۔
یہ کشیدگی ایک روز بعد مزید بڑھی جب اسرائیلی فوج کے انجینئرنگ اور دھماکا خیز مواد کے یونٹوں نے دیر بہا میں احمد اور حمودہ الجعبری کے گھروں کے اندر دھماکا خیز مواد نصب کیا اور دونوں عمارتوں کو بیک وقت ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکے سے اڑا دیا۔
ان دونوں فلسطینیوں کو 23 اکتوبر کو الخلیل کے شمال میں فرش الہوا چیک پوسٹ پر اسرائیلی فوجیوں نے گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔
اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے فخریہ دعویٰ کیا کہ یہ مکانات فائرنگ کے اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر مسمار کیے گئے، جس میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے تھے۔
قابض فوج کی بے گھر خاندانوں پر کارروائیاں، رہائشی عمارت کو فوجی اڈے میں تبدیل کردیا
اسرائیلی فوج نے الجلدا اور دیر بہا محلوں کے رہائشیوں پر آنسو گیس کے گولے اور اسٹن گرینیڈ فائر کیے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ کارروائی جمعہ کی نماز کے بعد الجلدا چوک کے قریب ہونے والے ایک پُرامن احتجاج کے بعد کی گئی۔ احتجاج میں خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت بے گھر خاندانوں نے شرکت کی اور اپنے گھروں کو واپس جانے کا حق دینے کا مطالبہ کیا۔
اسرائیلی فوجیوں نے ایک رہائشی عمارت کو فوجی بیرک میں تبدیل کردیا اور اس کی چھت پر اسنائپرز تعینات کردیے۔
اسرائیلی فوج نے وادی ابو قتیلہ کے داخلی راستے کو پتھروں سے بند کردیا اور لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے دھمکی دی کہ بند کیے گئے محلوں کے قریب آنے والے کسی بھی شخص کو گولی مار دی جائے گی یا گرفتار کرلیا جائے گا۔
دوسری جانب فلسطینی سول ڈیفنس کے عملے نے شہریوں کو خبردار کیا کہ اسرائیلی فوج کی کارروائیوں سے متاثرہ علاقوں میں دھماکا خیز مواد اور فوجی باقیات انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ رہائشی محلوں کے اندر فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔
فوجی کارروائیوں کے آغاز سے اب تک 115 سے زائد فلسطینی گرفتار
الخلیل میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے آغاز سے اب تک گرفتار کیے گئے فلسطینیوں کی تعداد 115 سے تجاوز کرگئی ہے، جن میں ایک نوجوان خاتون بھی شامل ہے۔
اسرائیلی فوج نے مختلف محلوں میں چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے دخلت وادی الکرم کے علاقے سے عمر شاور کو گرفتار کیا، جبکہ الجلدا اور دیر بہا کے علاقے سے ایک اور نوجوان کو حراست میں لے لیا۔
اس کے علاوہ سیکڑوں فلسطینیوں کو عارضی طور پر حراست میں رکھا گیا، جن میں سے سات افراد کو ہتھکڑیاں لگا کر اسرائیلی فوجیوں نے بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔
فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ یہودی آبادکاروں نے فوجی پابندیوں کے شکار علاقے تل الرمیضہ میں زیتون کی فصل کی کٹائی کے دوران راغب ابو عیشہ خاندان کے پانچ افراد پر حملہ کیا۔
آبادکاروں نے خاندان کے افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ان پر مرچوں کا اسپرے کیا۔
اس حملے میں چار افراد کو چوٹیں آئیں اور وہ بے ہوش ہوگئے، جبکہ پانچویں شخص کا ہاتھ ٹوٹ گیا، جسے علاج کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔
780 سے زائد خاندان متاثر، 537 خاندان مکمل طور پر بے گھر
اسرائیلی محاصرے اور جبری بے دخلی کے باعث تقریباً پانچ ہزار فلسطینی انتہائی کٹھن حالات سے دوچار ہیں۔
متاثرہ خاندانوں کی تعداد 780 سے تجاوز کرگئی ہے، جن میں سے 537 خاندانوں کو مکمل طور پر ان کے گھروں سے بے دخل کیا جا چکا ہے۔
الخلیل کی امداد و بحالی کمیٹی نے تصدیق کی ہے کہ 537 بے گھر خاندانوں کا اندراج کیا گیا ہے، جن میں مجموعی طور پر 3,361 افراد شامل ہیں۔ ان میں 232 شیر خوار بچے، 1,193 بچے، 326 بزرگ، 147 حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین، 32 معذور افراد اور دائمی بیماریوں میں مبتلا 213 افراد شامل ہیں۔
یہ اعداد و شمار اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے بڑھتے ہوئے انسانی بحران کی عکاسی کرتے ہیں، کیونکہ سیکڑوں خاندان اپنے گھروں تک رسائی سے محروم ہیں اور مسلسل فوجی پابندیوں کے باعث بے دخلی کے مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
تعلیمی سرگرمیاں متاثر، روزانہ معاشی نقصان 12 ملین شیکل تک پہنچ گیا
محاصرے کے اثرات صرف جبری بے دخلی اور گرفتاریوں تک محدود نہیں بلکہ الخلیل میں تعلیمی سرگرمیاں اور معاشی زندگی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
گزشتہ ہفتے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث پورے الخلیل گورنری میں 589 اسکولوں کے تقریباً 2 لاکھ 62 ہزار طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی۔
66 اسکولوں میں بالمشافہ تدریسی عمل تاحال معطل ہے، جس کے باعث 2,872 طلبہ کلاسوں میں حاضر نہیں ہو پا رہے۔
ان میں سے 2,198 طلبہ براہِ راست فوجی محاصرے کی زد میں ہیں، جبکہ مزید 674 طلبہ کو جبری طور پر بے دخل کیا گیا ہے اور وہ اپنے تعلیمی اداروں تک نہیں پہنچ سکتے۔
اس محاصرے کے معاشی اثرات بھی انتہائی سنگین ہیں۔
الخلیل چیمبر آف کامرس کے مطابق کاروباری سرگرمیوں کی بندش سے روزانہ 10 سے 12 ملین شیکل تک براہِ راست معاشی نقصان ہو رہا ہے، جبکہ صرف دودھ اور ڈیری کے شعبے کو روزانہ تقریباً ایک ملین شیکل کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
اسرائیلی فوجی کارروائیاں نویں روز میں داخل ہونے کے باوجود محاصرہ، جبری بے دخلی، گرفتاریاں اور تعلیمی و تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹیں جاری ہیں، جبکہ سیکڑوں فلسطینی خاندان اب بھی اپنے گھروں کو واپس جانے سے محروم ہیں۔