Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

اسرائیل میں طبی شعبے کو دھچکا، دو سال میں 1370 ڈاکٹر ملک چھوڑ گئے

تل ابیب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) طوفانِ الاقصیٰ معرکے اور اس کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے تلاطم خیز اثرات نیز اس کے ساتھ پیدا ہونے والے سکیورٹی، سیاسی اور معاشی اضطراب کے سایہ میں قابض اسرائیل کا صحت کا نظام بحران سے دوچارہوا ہے۔ اس بحران کے دوران اسرائیل سے ڈاکٹروں کے فرار کی شدید لہر پیدا ہوئی اور اس میں اضافے سے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس دوران طبی ماہرین کے ایسے نقصان کی انتباہات جاری کی جا رہی ہیں جن کا نعم البدل ممکن نہیں، بالخصوص اہم شعبہ جات میں طبی سہولیات کی فراہمی کا معیار برقرار رکھنے کی صلاحیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔

میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے پیر کے روز تل ابیب کے قریب واقع رمات گان کی آبادی میں ڈاکٹروں کی ہجرت کے موضوع پر منعقدہ ایک کانفرنس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار نے بیرونِ ملک کام کے لیے جانے والے ڈاکٹروں کی تعداد میں نمایاں اضافے کو بے نقاب کیا، جو طوفانِ الاقصی اور اس کے بعد کے واقعات کے نتیجے میں اسرائیلی صحتی نظام کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز کو ظاہر کرتا ہے۔

پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق کلالیت میڈیکل ڈائیگنوسٹک انسٹی ٹیوٹ کے بیرونِ ملک جا کر کام کرنے والے ڈاکٹروں کی سالانہ اوسط تعداد سنہ 2019ء تک سالانہ نو ڈاکٹر تھی، جو سنہ 2023ء کے بعد سے بڑھ کر سالانہ 33 ڈاکٹر ہو چکی ہے، یعنی اس میں ساڑھے تین گنا سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔

کمیونٹی میڈیسن کے شعبے میں سالانہ فرار ہونے والے ڈاکٹروں کی اوسط تعداد تین سے بڑھ کر 18 ہو گئی، یعنی چھ گنا اضافہ ہوا، جبکہ کلالیت کے ہسپتالوں میں یہ اوسط چھ سے بڑھ کر 15 ڈاکٹر سالانہ تک پہنچ گئی۔

یہ اعداد و شمار سات اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد کے حالات کے تناظر میں خاص اہمیت حاصل کر جاتے ہیں، کیونکہ کانفرنس کے دوران کیے گئے سروے کے نتائج اور تقاریر سے ظاہر ہوا کہ سیکیورٹی اور سیاسی حالات، معاشی عوامل کے ساتھ مل کر ڈاکٹروں کے قیام یا فرار کے فیصلے میں انتہائی اثر انداز عوامل بن چکے ہیں۔

اہم شعبہ جات کو ماہرین کی فرار کا سامنا

اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ امراضِ چشم ان شعبوں میں پہلے نمبر پر ہے جنہیں ڈاکٹر چھوڑ رہے ہیں، جس کے بعد امراضِ اطفال (پیڈیاٹرکس) کا نمبر آتا ہے، جبکہ ہسپتالوں سے ڈاکٹروں کے فرار کا شکار ہونے والے شعبوں میں بچوں اور نوجوانوں کا نفسیاتی علاج، امراضِ چشم، ریڈیالوجی اور بحالی صحت شامل ہیں۔

یہ اشاریے اس خدشے کو جنم دے رہے ہیں کہ ہجرت کے اثرات طبی عملے کی عددی کمی سے آگے بڑھ کر ایسے شعبوں کو متاثر کریں گے جنہیں سالہا سال کی تعلیم، تربیت اور عملی تجربے کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے فرار ہونے والے ڈاکٹروں کا متبادل لانا ایک انتہائی دشوار کن کام بن جاتا ہے اور بعض طبی سہولیات کے تسلسل نیز بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کی ہسپتالوں کی صلاحیت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

کانفرنس میں ہسپتالوں کی میڈیکل یونین کی جانب سے سنہ 2024ء کے دوران کیے گئے ایک سروے کے نتائج پیش کیے گئے، جس سے ظاہر ہوا کہ اس ایک سال کے دوران 50 ڈاکٹرز فرار ہو چکے ہیں، جن میں سے 14 ڈاکٹرز ایخیلوف اور رابن میڈیکل سنٹرز سے تھے۔

نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ 53 ڈاکٹروں نے بیرونِ ملک فیلوشپ اور تربیتی پروگراموں میں شمولیت اختیار کی اور پھر وہاں اپنے قیام کی مدت میں توسیع کر دی، جن میں سے اکثر کا تعلق شیبا اور ایخیلوف میڈیکل سنٹرز سے تھا؛ یہ ایک ایسی پیش رفت ہے جو عارضی تربیتی قیام کے قابض اسرائیل سے باہر مستقل پیشہ ورانہ سکونت میں تبدیل ہونے کے خدشات کو تقویت دیتی ہے۔

تجربہ کار ترین ڈاکٹروں سے محرومی کی انتباہات

شارون ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایتان لافون نے خبردار کیا کہ تحقیق کے لیے مخصوص بنیادی ڈھانچے اور آپریشن تھیٹرز کی کمی، کام کے شدید دباؤ کے ساتھ مل کر نوجوان ڈاکٹروں کو بیرونِ ملک ہجرت پر اکساتی ہے۔

ڈاکٹر لافون نے کہا کہ جو ڈاکٹرز جا رہے ہیں وہ ان کے تخمینے کے مطابق قابض اسرائیل میں طب کے معیار کا بنیادی ستون ہیں اور صحتی نظام کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان کی مسلسل ہجرت سے طبی اداروں پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عملے کی کمی کے باعث ملازمین کی بھرتی کے لیے ہسپتالوں کے درمیان مقابلہ سخت ہو جاتا ہے اور مرکزی اور دور دراز کے علاقوں کے درمیان طبی صلاحیتوں کی تقسیم کا توازن بگڑ جاتا ہے، جس سے صحتی سہولیات کے حصول میں تفاوت مزید گہرا ہو سکتا ہے۔

اس واقعے کی سنگینی اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب اعلیٰ تجربے اور صلاحیت کے حامل وہ ڈاکٹرز جنہوں نے تربیت اور اختصاص میں سالہا سال گزارے ہیں، بیرونِ ملک مستقل قیام کی طرف جا رہے ہیں، جس کا مطلب صحتی نظام سے ایسے تجربات کا ضیاع ہے جن کا متبادل نئے ڈاکٹروں کی فراہمی کے باوجود جلد ممکن نہیں ہے۔

کینسر کے ماہرین (آنکولوجسٹ) خدشات کی صفِ اول میں

دوسری جانب تل ابیب یونیورسٹی کے فیکلٹی آف میڈیسن کے سربراہ پروفیسر ایڈو وولف نے انکشاف کیا کہ ڈاکٹروں کی ہجرت کے اثرات اہم ترین طبی شعبوں میں واضح طور پر ظاہر ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ کینسر کے پانچ سے 10 کے درمیان ماہر ڈاکٹرز قابض اسرائیل چھوڑ کر جا چکے ہیں اور واپس نہیں آئے۔

پروفیسر وولف نے ان ماہرین کے ضیاع کی سنگینی سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ”ہمارا سب سے مضبوط ریزرو“ ہیں اور فرار ہونے والے ڈاکٹروں کے نام لینا ہی اس مسئلے کے حجم کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے، اور انہوں نے اس بات کی تاکید کی کہ اس وقت ان کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ بیرونِ ملک تحقیقی اداروں کی جانب سے محققین کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے باعث اسرائیلی اداروں کے لیے ان سے مقابلہ کرنا اور بہترین طبی ماہرین کو متوجہ کرنا یا اپنے پاس برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، جس سے تجربات کی بیرونی طبی و تحقیقی مراکز کی طرف مسلسل منتقلی کی راہ ہموار ہوتی ہے جو کام اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے زیادہ پرکشش ماحول فراہم کرتے ہیں۔

اسی طرح میڈیکل ایسوسی ایشن میں ٹرینیز فورم کی ڈاکٹر لیا کاہانوف نے اشارہ کیا کہ سکیورٹی اور سیاسی حالات اس بحران میں ایک اہم عنصر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ عدم استحکام کی صورتِ حال ڈاکٹروں کے احساسِ تحفظ کو بھی متاثر کرتی ہے۔

یہ بیانات ہجرت کے فیصلوں میں سیکیورٹی، سیاسی، معاشی اور پیشہ ورانہ عوامل کے باہمی تداخل کو اجاگر کرتے ہیں، ایک ایسے وقت میں جب قابض اسرائیل کو طوفانِ اقصی کے بعد بھڑکنے والی جنگ کے طویل اثرات کا سامنا ہے اور اس کے صحتی نظام کی اپنے اہل عملے کو برقرار رکھنے کی صلاحیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

تین سال میں 1370 ڈاکٹر فرار

یہ انتباہات تل ابیب یونیورسٹی کی تیار کردہ ایک ایسی اسٹڈی کے بعد سامنے آئے ہیں جسے قابض اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ نے شائع کیا تھا، جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ سنہ 2023ء سے سنہ 2025ء کے درمیان 1370 ڈاکٹر قابض اسرائیل چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

یہ اعداد و شمار ان خدشات کو تقویت دیتے ہیں کہ ڈاکٹروں کی ہجرت انفرادی واقعات سے آگے بڑھ کر ایک مسلسل بڑھتے ہوئے چیلنج میں تبدیل ہو چکی ہے، بالخصوص طوفانِ اقصی کے بعد کے سیکیورٹی، سیاسی اور معاشی حالات کے مسلسل اثرات کے پیشِ نظر۔

جہاں یہ اشاریے اس واقعے کی وسعت کو بے نقاب کرتے ہیں، وہیں اسرائیلی صحتی شعبے کے اندر تشویش کی اصل وجہ تجربہ کار ترین ڈاکٹروں کا ضیاع، باریک شعبہ جات میں کمی کو پورا کرنے کی صلاحیت میں کمی اور باقی ماندہ ماہرین پر ہسپتالوں کے درمیان بڑھتا مقابلہ ہے، جو صحتی نظام کے استحکام اور اس کی سہولیات کی فراہمی کی صلاحیت کو مسلسل بڑھتے ہوئے چیلنجز کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan