یروشلم – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی حکومت کے انتہا پسند وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے دیگر وزارتوں کے بجٹ کی قیمت پر ’ایلیٹ اسیران‘ کے مقدمات کے لیے مختص رقم میں 900 ملین شیکل اضافے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ اس خاص عدالت میں ذمہ داریاں سنبھالنے پر ججوں کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کہ کہیں انہیں بین الاقوامی پابندیوں اور سفری رکاوٹوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
قابض اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ نے رپورٹ کیا کہ ایتمار بن گویر ان مقدمات کے لیے سنہ 2027ء کے ریاستی بجٹ میں سے اضافی رقم مختص کروانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے بدلے میں تعلیم، ماحولیاتی تحفظِ اور بہبود سمیت دیگر وزارتوں کے بجٹ سے 180 ملین شیکل کٹوتی کی جائے گی، جبکہ ان وزارتوں کی جانب سے اپنی رقم میں کمی کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔
ایتمار بن گویر نے اپنے اس مطالبے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ 340 نئے جیل اہلکاروں کو بھرتی کرنے اور مقدمات کی سماعت کے دوران اسیران کی حراست کے لیے ایک خصوصی دستہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب جیلوں کا محکمہ جدید تکنیکی آلات کی خریداری، ایک مخصوص ڈائریکٹوریٹ کے قیام اور تمام زیرِ مقدمات اسیران کو ایک جگہ منتقل کرنے کے لیے ایک علیحدہ ہولڈنگ سینٹر کی تعمیر کے بجٹ کا مطالبہ کر رہا ہے۔
اس کے برعکس اخبار نے باخبر ذرائع کے حوالے سے نقل کیا کہ قومی سکیورٹی کی وزارت نے ان مقدمات کے لیے ضروری تیاریاں ابھی تک شروع ہی نہیں کی ہیں۔
قابض اسرائیلی جیل انتظامیہ کا تخمینہ ہے کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کے حملے میں شرکت کے الزام کے تحت حراست میں لیے گئے غزہ کے اسیران کے خلاف مقدمات کا آغاز سنہ 2028ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران ہوگا، جو کہ کنیسٹ کی جانب سے گذشتہ مئی میں منظور کیے گئے ایک قانون پر مبنی ہے، جس کے بعد حکومت نے اس کے نفاذ کے لیے ایک ارب شیکل کے تین سالہ بجٹ کی منظوری دی تھی۔
اس وقت ایک خصوصی ملٹری کورٹ کے قیام کی کارروائیاں جاری ہیں، جو سات اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک قابض صہیونی عقوبت خانوں میں قید 250 سے زائد اسیران پر عائد کیے گئے الزامات کی سماعت کرے گی۔
انسدادِ دہشت گردی کے قانون اور قتل و دیگر جرائم کی دفعات کی بنیاد پر ان اسیران پر ’نسل کشی‘، ’ریاست کی خودمختاری یا اس کی علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے‘، ’جنگ چھیڑنے‘ اور ’جنگ کے دوران دشمن کی مدد کرنے‘ جیسے الزامات عائد کیے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
قانون کے مطابق قابض فوج کا چیف آف اسٹاف اسیران کے مقدمات کی ڈائریکٹوریٹ کی تیاریوں کا ذمہ دار ہوگا اور ملٹری پراسیکیوٹر جنرل کی سفارش پر پراسیکیوٹرز مقرر کرنے کا اختیار بھی اسی کے پاس ہوگا۔ یہ سماعتیں کثیر الجہتی عدالتی بینچوں کے سامنے منعقد کی جائیں گی، جن میں سے ہر ایک تین ججوں پر مشتمل ہوگا، اور ان میں کم از کم ایک ایسا جج شامل ہوگا جو ماضی میں ملٹری کورٹ کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکا ہو۔
اسی سیاق و سباق میں ’ہارٹز‘ نے انکشاف کیا کہ موجودہ اور ریٹائرڈ ججوں نے حال ہی میں اس خصوصی عدالت میں اپنی تعیناتی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، بالخصوص ان میں سے کچھ جو سول عدالتوں میں عدالتی عہدوں پر فائز ہیں یا رہ چکے ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ وہاں عدالتی فرائض انجام دینے سے وہ غیر ملکی ریاستوں کی پابندیوں یا ان کے علاقوں میں داخلے پر پابندی کی زد میں آسکتے ہیں۔
اخبار نے عدالتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ قابض اسرائیلی عسکری عدالتوں کے ججوں کے خلیجی ممالک میں قیام یا ان کے راستے سفر کرنے پر پہلے ہی پابندی لگ چکی ہے، کیونکہ اسیران کے مقدمات میں ان کی شمولیت کے نتائج کا شدید خوف پایا جاتا ہے۔
علاوہ ازیں متعدد ججوں کو یہ بھی اندیشہ ہے کہ مقدمات کی سماعت کے دوران ان کی شناخت افشا ہونے سے ان کے سفر پر مزید پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، جبکہ شخصیات کی حفاظت پر مامور ایک مخصوص سیکیورٹی یونٹ کا تحفظ حاصل ہونے کے باوجود ان کی ذاتی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
