تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غاصب صیہونیوں کے تسلط کا زوال اگر سمجھنا ہو تو ہمیں خاص طور پر صیہونی بلاک یعنی امریکہ اور اس کے حواریوں کی موجودہ سیاسی و عسکری پوزیشن کا مطالعہ کرنا ہو گا اور پھر فیصلہ کرنا ہو گا کہ آج امریکی و صیہونی بلاک پہلے سے زیادہ طاقتور ہے یا کمزور ہو کر زوال کی طرف جا رہاہے۔ کسی بھی طاقت اور نظریہ کا زوال ایک دن یا چند دن کی داستان نہیں ہوتا ۔اس کے لئے ایک طویل جدوجہد اور استقامت کی ضرورت ہوتی ہے۔ دور حاضر میں ہمیں یہ مزاحمت، استقامت، صبر، جدوجہد اور ڈٹ کر مقابلہ کا جذبہ اگر کسی جگہ نظر آتا ہے تو وہ فلسطین مزاحمت کا محور ہے کہ جس محور میں فلسطین کے ساتھ ایران، لبنان، یمن، عراق اور ان کی مزاحمتی قوتیں اور فورسز شامل ہیں۔یعنی یہ کہا جا سکتا ہے کہ فلسطین کی حماس، جہاد اسلامی، ایران، القدس فورس، حزب اللہ لبنان، انصار اللہ یمن اور عراق کی حشد الشعبی فورسز کو ملا کر فلسطینی محور مزاحمت کہا جاتا ہے۔
غاصب صیہونی تسلط کے بارے میں بات کرتے وقت ہم ہر گز بھی سات اکتوبر سنہ 2023 ء کو انجام پانے والے طوفان اقصیٰ کے معرکہ کو فراموش نہیں کر سکتے۔ کیونکہ یہ ایک ایسا تاریخی معرکہ ہے جس نے نہ صرف فلسطین کے روشن مستقبل کا فیصلہ کیا ہے بلکہ دنیا کی تمام سیاسی چال بازیوں وک بھی الٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے۔ طوفانِ اقصیٰ نے مغربی ایشیاءکے سیاسی، عسکری اور جیو پولیٹیکل نقشے پر ایسے گہرے نقوش ثبت کیے ہیں جنہیں بظاہر کسی وقتی معاہدے یا فوجی تسلط سے مٹانا ممکن نہیں رہا۔
آج اس مزاحمت کے محور میں یمن ایک ایسا ابھرتا ہو خورشید ہے جس نے دنیا کے تمام مظلوم اقوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کا کام کیا ہے۔انصار اللہ یمن کے قائد سید عبدالملک بدرالدین الحوثی کا 7 اکتوبر کی مناسبت سے کیا جانے والا مفصل خطاب اس بات کی بین دلیل ہے کہ یہ معرکہ صرف ایک جغرافیائی خطے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پورے خطے کی مزاحمتی تحریکوں کو ایک واحد اور نپی تلی حکمتِ عملی کے تحت متحد کر دیا ہے۔
غاصب صیہونی ریاست اسرائیل جو کئی دہائیوں سےناقابلِ تسخیرہونے کے زعم میں مبتلا تھی اور جس نےابراہیمی معاہدات کے ذریعے عرب دنیا میں بغیر کسی لوٹائے گئے حق کے قبولیت حاصل کرنے کا وہم پال رکھا تھا، طوفانِ اقصیٰ نے اس کے اس بنیادی نظریے کو یکسر زمین بوس کر دیا ہے۔ یہ معرکہ حقیقت میں فلسطین کاز کی احیاء اور خطے میں طاقت کے توازن کی تبدیلی کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا ہے۔
اس معرکے کا سب سے اہم پہلو فلسطینی اور لبنانی مزاحمتی تنظیموں کا یہ واضح اور غیر متزلزل اعلان ہے کہ دشمن کے درندانہ مظالم، مسلسل بمباری اور قیادت کی شہادتوں کے باوجود مزاحمت کا راستہ ترک نہیں کیا جائے گا۔ حزب اللہ لبنان اور غزہ کی القسام بریگیڈز و القدس بریگیڈز نے اپنے عملی کردار سے یہ ثابت کیا ہے کہ مزاحمت محض ایک فوجی ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک نظریہ اور مقصد ہے، جو افراد کے بدلنے سے ختم نہیں ہوتا۔
انسانی حقوق اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس، بشمول اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (UNHRC) اور مختلف عالمی حقوق کے اداروں کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹس، اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ غزہ پر مسلط کی جانے والی جنگ میں صیہونی فورسز نے جنگی جرائم اور اجتماعی سزا (Collective Punishment) کا ارتکاب کیا۔ اس کے باوجود، لبنانی و فلسطینی مزاحمت نے محاذِ جنگ پر دشمن کو نبرد آزما رکھا اور ثابت کیا کہ کسی بھی پائیدار سیاسی حل کی بنیاد صرف اور صرف حقِ خودارادیت اور زمینی حقیقت پر رکھی جا سکتی ہے۔
اسی فکری و عسکری تسلسل میں یمن کی مسلح افواج اور انصار اللہ کے کردار نے اس معرکے کو بین الاقوامی اور اقتصادی جہت عطا کی۔ جیسا کہ سید عبدالملک الحوثی نے اپنے خطاب میں واضح کیا، باب المندب اور بحرِ احمر میںغاصب صیہونی، امریکی اور برطانوی جہاز رانی کا موثر محاصرہ دراصل غزہ کے مظلوموں کی عملی نصرت ہے۔ بین الاقوامی تجارتی ڈیٹا اور پورٹ اتھارٹی رپورٹس کے مطابق، بحرِ احمر کے اس بلاکیڈ کی وجہ سے صیہونی بندرگاہ ایلات کی سرگرمیاں تقریباً معطل ہو گئیں اور عالمی بحری کمپنیوں کو راس امید (Cape of Good Hope) کا طویل راستہ اختیار کرنا پڑا، جس سے عالمی لاجسٹکس کے اخراجات میں بے حد اضافہ ہوا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے کی مزاحمتی تحریکوں نے اب دشمن کو اس کے معاشی و تجارتی حصار میں گھیرنے کی صلاحیت پیدا کر لی ہے، جو مستقبل میں فلسطین کی آزادی کی تحریک کے لیے ایک مضبوط ترین اقتصادی ڈھال بن کر سامنے آئی ہے۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ مزاحمت کا مقصد صرف مسلح مزاحمت نہیں ہے بلکہ زندگی کے تمام شعبوں میں مزاحمت ہے اور یہی کام فلسطین مزاحمت کے محور نے کر کے دکھا دیا ہے۔
مستقبل میں تحریکِ آزادیِ فلسطین کو مضبوط کرنے کے لیے اس معرکے نے چند بنیادی راستے متعین کیے ہیں۔ سب سے پہلا نقطہ عالمی سطح پر بائیکاٹ، ڈائیوسٹمنٹ، اور پابندیاں (BDS) کی تحریک کو مزید منظم کرنا ہے، تاکہ صیہونی معیشت پر پڑنے والے اثرات کو مستقل بنایا جا سکے۔ دوسرا نقطہ یہ ہے کہ عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) میں چلنے والے مقدمات کا بھرپور سیاسی و قانونی متابعت کی جائے، تاکہ اس غاصبانہ تسلط کی اخلاقی اور قانونی حیثیت کو دنیا بھر میں باضابطہ طور پر ختم کیا جا سکے۔ تیسرا اور سب سے اہم نقطہ، امتِ مسلمہ کے عوام اور حریت پسند فورسز کا آپس میں مضبوط رابطہ ہے، جو سفارتی اور میڈیا کے محاذ پر صیہونی بیانیے اور خبروں کی سنسرشپ کو توڑ کر حقیقی صورتحال کو دنیا کے سامنے لانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ خطے میں ہونے والی جیو پولیٹیکل تبدیلیوں کا فلسطین کاز پر انتہائی گہرا اور دور رس اثر مرتب ہو رہا ہے۔اسی طرح فلسطین کی مزاحمت بھی خطے کے حالات پر اور عالمی سیاسی منظر نامہ پر اپنے گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ ماضی میں جو عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی استواری کو ایک سیاسی مجبوری سمجھ رہے تھے، انصار اللہ اور خطے کی مزاحمتی تحریکوں کے اس جرات مندانہ موقف کے بعد اب ان کے لیے غاصب صیہونی ریاست سے کھلے عام پینگیں بڑھانا انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔
غاصب صیہونی ریاست کا یہ بیانیہ کہ وہ خطے کا سب سے بڑا دفاعی اور انٹیلی جنس ضامن ہے، مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے۔ خطے کا نیا ابھرتا ہوا توازنِ طاقت اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ مستقبل کی تمام تر علاقائی خریطہ کاری (Regional Order) میں فلسطین اور اس سے منسلک تمام مزاحمتی دھاروں کو ایک مرکزی فریق کے طور پر تسلیم کرنا پڑے گا۔ یہ تبدیلیاں اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہیں کہ استعمار کا دورِ تسلط اختتام پذیر ہےاور امریکی و صیہونی بلاک زوال کی طرف ہے اور فلسطینی عوام کا اپنی سرزمین، قبلہ اول اور خود مختار ریاست کی واپسی کا خواب اب ایک حقیقت پسندانہ ہدف بن چکا ہے۔