Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

غزہ

ملبے تلے دبے فلسطینی شہداء کی شناخت کا امکان روز بروز کم ہو رہا ہے: ریڈ کراس

غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ بیت المقدس میں ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے ترجمان پیٹ گرِفتھ نے خبردار کیا ہے کہ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے اہم ثبوتوں کے ضائع ہونے اور جسدِ خاکی نکالنے کے راستے میں درپیش شدید مشکلات کے باعث غزہ میں شہداء کی شناخت ممکن بنانے کے امکانات روز بروز معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

پیٹ گرِفتھ نے بتایا کہ نہ پھٹنے والا صیہونی بارود اور دھماکا خیز مواد لاشوں کو نکالنے کے آپریشنز میں شدید خطرات کا باعث بن رہا ہے، جبکہ ریسکیو اہلکار ملبہ ہٹانے کے لیے انتہائی سست رفتاری سے کام کرنے پر مجبور ہیں اور ایک وقت میں صرف چند سینٹی میٹر ملبہ ہی ہٹا پاتے ہیں، جس نے شہداء کے جسدِ خاکی تک رسائی اور ان کی شناخت کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صیہونی فورسز کی طرف سے طبی بنیادی ڈھانچے کی منظم تباہی نے صحت کے کارکنوں کو شہداء کی شناخت کے لیے شدید ترین وسائل کی قلت کے باعث تدریجی طور پر ابتدائی اور روایتی طریقوں پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

یہ شدید مشکلات لاپتہ افراد کے خاندانوں کو ایک نامعلوم انتظار کی کربناک دلدل میں دھکیل رہی ہیں؛ کیونکہ ثبوتوں کے ضائع ہونے اور معائنے و توثیق کے ذمہ دار طبی نظام کو پہنچنے والے شدید نقصان کی وجہ سے کسی جسدِ خاکی کا ملبے سے برآمد ہو جانا بالضرور اس بات کی ضمانت نہیں بنتا کہ اس کی شناخت ممکن ہو سکے گی۔

یہ گہری تشویشناک تنبیہ غزہ میں ملبہ ہٹانے کے راستے میں حائل پہاڑ جیسے چیلنجز کے درمیان سامنے آئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ڈویلپمنٹ پروگرام کی طرف سے گذشتہ ستمبر میں جاری کردہ تخمینوں کے مطابق غزہ کا ملبہ لگ بھگ 61 ملین ٹن تک پہنچ چکا ہے، جس کے نیچے 8,000 سے 10,000 کے قریب شہداء کے جسدِ خاکی دبے ہوئے ہو سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے نے اشارہ کیا کہ وہ ریڈ کراس سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر انسانی باقیات کے مقامات کی نشان دہی کرنے اور ملبہ ہٹانے کے دوران انہیں ترجیح دینے کے لیے کوشاں ہے تاکہ ان کے ساتھ شایانِ شان سلوک اور خاندانوں کے لیے ان کی صحیح توثیق کو یقینی بنایا جا سکے۔

شہداء کے جسدِ خاکی کو نکالنے کی ضرورت محض ایک انسانی پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ صیہونی مظالم کے ثبوتوں کی حفاظت سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں حقوقِ انسانی کی صورت حال پر اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر فرانسسکا البانیز نے گذشتہ سات ستمبر کو خبردار کیا تھا کہ قابض صیہونی فورسز کی جانب سے ملبہ ہٹانے کا عمل صیہونی ریاست کے ہولناک مظالم کے ثبوتوں کو مٹانے اور انسانی باقیات کی برآمدگی میں رکاوٹ بننے کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملبے کی مکمل صفائی سے پہلے عدالتی ثبوتوں (فارنزک ایویڈینس) کو اکٹھا کرنا اور شہداء کی شناخت کو حتمی بنانا انتہائی لازمی ہے۔

ان دلدوز حالات میں وقت کا گزرنا لاپتہ افراد کے سوگوار خاندانوں کے المیے میں ایک اور المناک اضافہ بن رہا ہے؛ جہاں غمزدہ خاندان اپنے پیاروں کے انجام کے منتظر ہیں اور ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے ان تک پہنچنے کی مسلسل کوششیں کر رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ تمام تر ثبوت جن سے ان جسدِ خاکی کو ان کے نام واپس مل سکتے تھے، آہستہ آہستہ مٹتے جا رہے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan