برلن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جرمنی کے دارالحکومت برلن میں مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ دلنشین اور بھرپور یکجہتی کا ایک شاندار مظاہرہ کیا گیا، جس کے دوران شرکاء نے فلسطین کے سرسبز پرچم لہرائے اور غزہ پٹی پر قابض اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت اور نسل کشی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے زبردست نعرے بازی کی۔ یہ مظاہرہ صیہونی دشمن کے حامیوں کے ایک گروہ کے سامنے شدید کشیدہ ماحول اور بالمواجہ تصادم کے درمیان منعقد ہوا۔
یہ مظاہرہ غزہ میں جاری سفاکانہ جنگ کی مذمت، قابض اسرائیل کو فراہم کی جانے والی سیاسی و عسکری امداد کے فوری خاتمے، اور فلسطینی عوام کے خلاف صیہونی مظالم کا محاسبہ کرنے کے مطالبات پر مبنی ان مسلسل عوامی تحاریک کا حصہ ہے جو یورپ کے متعدد شہروں میں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔
مظاہرین نے فلسطین، لبنان اور ایران کے پرچم اٹھا رکھے تھے اور ’’اسرائیل تیرے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے‘‘ جیسے نعرے لگائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے غزہ پٹی میں صیہونی سفاکیت کی پرزور مذمت پر مبنی اور صیہونی ریاست کے لیے جرمن حکومت کی امداد کو بند کرنے کا مطالبہ کرنے والے بینرز اٹھا رکھے تھے۔
اس احتجاجی مارچ کے دوران ایک نمایاں بینر خصوصی توجہ کا مرکز بنا جس پر تحریر تھا کہ ’’ایک نسل کشی کسی دوسری نسل کشی کا جواز نہیں بن سکتی‘‘۔ یہ جملہ فلسطینیوں کے خلاف ڈھائے جانے والے مظالم کے صیہونی جواز کو مکمل طور پر رد کرنے اور جنگ کے فوری خاتمے اور عام شہریوں کے تحفظ کی اشد ضرورت پر زور دیتا ہے۔
مارچ میں تقریباً 3 ہزار 500 افراد کی شرکت
برلن پولیس کے مطابق ’’متحدون من أجل فلسطين‘‘ (فلسطین کے لیے متحد) نامی تنظیم کی جانب سے منعقدہ اس احتجاجی مظاہرے میں تقریباً 3 ہزار 500 افراد نے شرکت کی۔ یہ مارچ وفاقی چانسلری کے ہیڈکوارٹر اور جرمن پارلیمنٹ کی عمارت کے درمیانی علاقے سے شروع ہوا، جو عالمی یومِ عمل کے موقع پر کی جانے والی یکجہتی کی تحاریک کا حصہ تھا۔
مظاہرین نے غزہ پٹی پر قابض اسرائیل کے عسکری حملے کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا، اور جرمن حکومت سے زور دے کر کہا کہ وہ قابض دشمن کے لیے اپنی ہر قسم کی حمایت بالخصوص عسکری امداد کو فوراً بند کرے، بالخصوص ایسے وقت میں جب جنگ کے اثرات فلسطینیوں کے لیے ہولناک انسانی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔
غزہ کی حمایت میں یورپی بیداری کا مسلسل سفر
فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کی یہ تحاریک دیگر یورپی شہروں تک بھی پھیل چکی ہیں، جن میں لندن، میلان، روم اور وارسا شامل ہیں، جہاں ہزاروں مظاہرین نے سڑکوں پر نکل کر غزہ پٹی پر جاری سفاکانہ جارحیت کے خاتمے اور اپنی حکومتوں پر قابض اسرائیل کی حمایت بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔
یہ عوامی احتجاج ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب مظلوم فلسطینیوں کے خلاف صیہونی مظالم کا احتساب کرنے اور اسے بارود کی فراہمی روکنے کے عالمی مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ یہ تحاریک اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ مظاہرین کو درپیش سیاسی و سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود یورپی عوام کے دلوں میں مسئلہ فلسطین کا درد پوری طرح سے زندہ و جاوید ہے۔
