تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سات اکتوبر 2023 ء کوفلسطین سے شروع ہونے والے معرکہ طوفانِ اقصیٰ نے نہ صرف مغربی ایشیاء کے عسکری و سیاسی ماحول کو بدلا ہے بلکہ اس نے عالمگیر پیمانے پر عالمی آرڈر کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔طوفانِ اقصیٰ دنیا کا مستقبل تبدیل کررہا ہے ایک ایسا بیانیہ ہے جس کی تصدیق آج کے بدلتے ہوئے عالمی حالات، مغربی طاقتوں کے اخلاقی زوال اور بین الاقوامی اداروں کی بے بسی سے ہو رہی ہے۔ یہ معرکہ عالمی سطح پر ایک بڑے جیو پولیٹیکل اور سٹریٹجک الٹ پھیر کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے، جس کے اثرات بالخصوص مغربی دنیا اور اس کے بنے بنائے عالمی نظام پر بڑی شدت سے مرتب ہو رہے ہیں۔آج اس معرکہ کو شروع ہوئے تین سال کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن دنیا میں کوئی بھی ایسا شخص موجود نہیں ہے جو یہ کہہ سکے کہ طوفان اقصیٰ صرف سات اکتوبر تک محدود تھا بلکہ ہر ذی شعور کو یہی لگتا ہے کہ طوفان اقصیٰ ابھی تک جاری و ساری ہے۔یہی حقیقیت ہے۔
مغربی دنیا اور بالخصوص امریکہ و یورپی ممالک کی جانب سےغاصب صیہونی ریاست کی بے دریغ اور بے لوث حمایت نے ان کے نام نہادقوانین پر مبنی عالمی نظام کے کھوکھلے پن کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ دہائیوں سے مغرب کی جانب سے پیش کیے جانے والے انسانی حقوق، جمہوریت، آزادانہ صحافت اور بین الاقوامی قانون کے اصول غزہ کی تباہی اور نسل کشی کے سامنے اپنے معنی کھو چکے ہیں۔
بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) اور اقوام متحدہ کے اداروں کے احکامات و حقائق پر مبنی رپورٹس کو نظر انداز کرنے کے مغربی طرزِ عمل نے بین الاقوامی قانون سازی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کی وجہ سے دنیا اب ایک ایسے کثیر القطبی نظام کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے جہاں مغربی اجارہ داری کو کھلے عام چیلنج کیا جا رہا ہے۔
اس معرکے نے مغربی ممالک کے اندرونی سیاسی اور سماجی ڈھانچے میں ایک بڑا فکری و نسل در نسل شگاف پیدا کر دیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار امریکہ اور یورپ کی سڑکوں، یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میںغاصب صیہونیوں کے بیانیے اور ریاستی تسلط کے خلاف ایک بڑی عوامی بیداری لہر کی صورت میں ابھری ہے۔ نوجوان نسل، بالخصوص نسلِ نوجسے Gen Z کہا جہا رہاہے،جس کا بنیادی ذریعہ معلومات اب مغربی مین اسٹریم میڈیا نہیں بلکہ براہِ راست اور آزاد ذرائع ہیں، غاصب صیہونیوں کے بیانیے کو رد کر چکی ہے۔ مغرب میں فلسطین کے حق میں اٹھنے والی یہ آوازیں اور طلبہ کی تحریکیں آئندہ سالوں میں مغربی ممالک کی داخلی سیاست، انتخابات اور خارجہ پالیسیوں پر دور رس اثرات مرتب کریں گی۔
عالمگیر معاشی و اسٹریٹجک محاذ پر، طوفانِ اقصیٰ کے بعد بحرِ احمر، باب المندب اور خلیجی راستوں پر پیدا ہونے والے تناؤ نے عالمی اقتصادی چیلنجز کو جنم دیا ہے۔ سپلائی چین کے معطل ہونے، عالمی بحری تجارت کے اخراجات میں اضافے اور ایندھن کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ نے مغربی معیشتوں پر مزید دباؤ ڈالا ہے جو پہلے ہی افراطِ زر اور معاشی بحران کا شکار تھیں۔ یمن کی مسلح افواج اور خطے کے دیگر مزاحمتی محاذوں کی جانب سے دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں پر تسلط کے اس عملی مظاہرے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مغربی تسلط اب دنیا کی واحد فیصلہ کن طاقت نہیں رہا، اور آئندہ کی عالمی اقتصادی اور عسکری توازنِ طاقت میں نئی علاقائی قوتوں کے مفادات کو تسلیم کرنا پڑے گا۔
معرکہ طوفان اقصیٰ کے تسلسل میں آئندہ کے لیے، فلسطین کی تحریکِ آزادی کو مضبوط کرنے اور عالمی مستقبل کو تبدیل کرنے کے حوالے سے چند اہم نکات واضح ہو کر سامنے آتے ہیں۔یہ فلسطین کاز کی حمایت کرنے والوں کے لئے اہم بھی ہیں اور ان کے لئے ایک بڑی کامیابی کا درجہ بھی رکھتے ہیں۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور ڈیجیٹل محاذ پر صیہونی پروپیگنڈے کی شکست اور مظلوم فلسطینیوں کا سچا بیانیہ دنیا بھر میں پہنچنا جو مغرب کی نظریاتی اجارہ داری کو ختم کر رہا ہے۔مغربی ممالک اور صیہونی بلاک کی اجارہ داری کے مقابلے میں ابھرتی ہوئی طاقتوں اور علاقائی بلاکس کا مضبوط ہو رہے ہیں، یہ سب کچھ طوفان اقصیٰ کی بدولت حاصل ہو رہاہے اور کہا جا سکتا ہے کہ طوفان اقصیٰ دنیا کی سیاست کا مستقبل تبدیل کر رہاہے۔عالمی عدالتوں میں غاصب صیہونی حکومت کےجنگی جرائم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے فیکٹ فائنڈنگ ریکارڈز کا استعمال فلسطینی بیانیہ کی ایک بڑی کامیابی ہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ریکارڈ کے استعمال سے صیہونیوں کے غاصبانہ تسلط کی تمام بنیادوں کو مستقل طور پر ختم کیا جائے۔مستقبل میں مغربی دنیا میں عوامی رائے عامہ کی تبدیلی، جو مستقبل کے حکومت سازوں کے لیے صیہونی حمایت کو ایک معاشی و سیاسی بوجھ بنا دے گی یہ بھی طوفان اقصیٰ کے تسلسل کا نتیجہ ہے۔
فلسطین کے اس طوفان اقصیٰ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ حقِ خودارادیت اور آزادی کی سچی جدوجہد کے سامنے جدید ترین طاقت اور مغربی سیاسی و عسکری سرپرستی بھی پائیدار نہیں ہو سکتی۔ دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں استعماری طاقتوں کا زوال اور مظلوم اقوام کی آزادی خواب نہیں بلکہ ایک منطقی اور یقینی حقیقت بنتی دکھائی دے رہی ہے۔یہی طوفان اقصیٰ کا مستقبل ہے اور اسی لئے یہ بات کی جا رہی ہے کہ طوفان اقصیٰ دنیا کا سیاسی منظر نامہ تدیل کر رہاہے۔ آج یورپی حکمرانوں کے لئے انتخابات میں جانا بھی ایک چیلنج بن چکا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ اگر فلسطین کے بیانیہ کی مخالفت کے ساتھ انتخابات میں گئے تو عوام ہمیں مسترد کر دیں گے۔ یہی مسئلہ آج دنیا کی نام نہاد سپر پاور کے صدر ٹرمپ کو درپیش ہے کہ جن کی عوامی مقبولیت اب 34 فیصد سے مزید کم ہو کر 23 فیصد ت جا پہنچی ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ طوفان اقصیٰ اپنی آب و تاب کے ساتھ جاری ہے اور دنیا کے نظام کی تبدیلی میں اہم سنگ میل کی حیثیت اختیار کر رہاہے۔