Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

غزہ

سات اکتوبر سے پہلے فلسطینیوں کی جلاوطنی، قبضہ اور محاصرہ: طوفانِ اقصیٰ کا پس منظر

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سات اکتوبر سنہ 2023ء کسی خلا میں جنم نہیں لے رہا تھا اور نہ ہی اس تاریخ سے پہلے فلسطین کسی پرامن اور مستحکم حقیقت میں سانس لے رہا تھا جو اچانک جنگ میں بدل گئی۔

ایک صدی سے زیادہ عرصے کے دوران فلسطینی سرزمین پر جلاوطنی، بے دخلی، غاصبانہ تسلط، استعمار، زمین کی چوری اور محاصرے کی تہیں ایک کے بعد ایک جمتی چلی گئیں، جبکہ فلسطینی مسئلے کے بنیادی سوالات، جن میں زمین، بیت المقدس، پناہ گزین، سرحدیں اور خودمختاری سرفہرست ہیں کا کوئی منصفانہ اور پائیدار حل نہیں نکالا جا سکا۔

ایک فلسطینی زاویہ نظر سے ’طوفانِ اقصیٰ‘ اس طویل پس منظر سے کٹا ہوا کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ سیاسی افق کی بندش، فلسطینی ریاست کے قیام کے مواقع کی پامالی، استعماری منصوبے کے پھیلاؤ، مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور غزہ کی پٹی پر جاری محاصرے کے طویل سالوں کے بعد سامنے آیا۔

غزہ نے سات اکتوبر میں قدم کسی پرامید اور مستحکم زمین پر کھڑے ہو کر نہیں رکھا تھا اور نہ ہی یہ تصادم کسی ایک صبح کی پیداوار تھا۔

محاصرہ زدہ شہر کئی طویل سال ایک گھٹن زدہ محاصرے، بار بار مسلط کی جانے والی جنگوں، مسلسل بمباری اور جانوں، گھروں اور زندگی کی بنیادی ضروریات کے ضیاع میں گزار چکا تھا، جبکہ قابض ریاست بیس لاکھ سے زائد فلسطینیوں پر بغیر کسی واضح سیاسی افق کے ایک بند گلی کا ماحول مسلط کیے ہوئے تھی۔

مغرب کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں استعماری سرگرمیوں، دھاووں، گرفتاریوں، بے دخلی اور زمینوں پر قبضے کا دائرہ پھیل رہا تھا، جبکہ اس امید کا دامن سکڑتا جا رہا تھا جو قابض تسلط کے خاتمے اور فلسطینیوں کو ان کے حقوق کی فراہمی پر منتج ہوتی۔

یہی وجہ ہے کہ سات اکتوبر کو اس پس منظر سے الگ کرکے دیکھنا اس واقعے کی وضاحت کرنے کے بجائے اس بیانیے کو دوبارہ زندہ کرنا ہے جو فلسطینی کردار کو کہانی کے آخری لمحے میں سمیٹ دیتا ہے اور پچھلی دہائیوں کے دوران جمع ہونے والے ظلم، جلاوطنی اور محاصرے کو یکسر نظر انداز کر دیتا ہے۔

جہاں تک غزہ کا تعلق ہے تو وہ سات اکتوبر کو ایک ایسے معرکے کے میدان میں تبدیل ہونے سے پہلے جنگوں، محاصرے اور تباہی کے کئی برسوں کی یادیں اپنے سینے میں سمیٹے ہوئے تھا، جس نے مسئلہ فلسطین کو ایک بار پھر دنیا کے لیےمرکزِ نگاہ میں لا کھڑا کیا، ایسے وقت میں جب اسے پسماندہ کرنے اور بین الاقوامی توجہ کے دائرے سے باہر رکھنے کی برسوں کوششیں کی جا چکی تھیں۔

بلفور اعلامیہ سے لے کر نکبہ تک… بڑی تبدیلی کا آغاز

فلسطین میں جدید تبدیلی کی جڑیں برطانوی مینڈیٹ کے دور سے جا ملتی ہیں، خاص طور پر سنہ 1917ء کے بلفور اعلامیہ کے اجرا کے بعد جس نے فلسطین میں ”یہودی قوم کے لیے ایک قومی وطن“ کے قیام کی حمایت کی، ایسے وقت میں جب یہ ملک غالب عرب فلسطینی آبادی کا مسکن تھا۔

مینڈیٹ کے برسوں کے دوران فلسطین میں یہودی ہجرت میں تیزی آئی اور زمین، ہجرت اور ملک کے مستقبل کے حوالے سے تناؤ اور جھڑپیں بڑھتی گئیں، جو کہ سنہ 1947ء کی تقسیم کی قرارداد، اور پھر سنہ 1948ء کی جنگ پر منتج ہوئیں جس کا اختتام قابض اسرائیلی ریاست کے قیام اور لاکھوں فلسطینیوں کی ان کے شہروں اور دیہاتوں سے جبری بے دخلی پر ہوا۔

چنانچہ فلسطینیوں کے لیے نکبہ کوئی ایسا عسکری واقعہ نہیں تھا جو جنگ کے خاتمے کے ساتھ ختم ہو گیا ہو، بلکہ یہ ایک مستقل حقیقت میں بدل گیا۔ اپنے وطن سے باہر بے گھر پناہ گزین، اجڑے ہوئے دیہات، چھینی گئی زمینیں اور بکھرے ہوئے خاندان جن کی واپسی کا سوال آج بھی زندہ ہے۔

سنہ 1967ء… تسلط کا دائرہ وسیع

سنہ 1967ء کی جنگ کے بعد اسرائیل نے مغربی کنارے بشمول ”مشرقی بیت المقدس“ اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا، جس سے مسئلہ فلسطین ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا جس کی خصوصیت فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی عسکری کنٹرول کا تسلسل تھی۔

اس وقت سے لے کر اب تک فلسطینیوں کے لیے کشمکش کا تعلق صرف اس پناہ گزین المیے سے نہیں رہا جو نکبہ نے پیدا کیا تھا، بلکہ اس کا تعلق غاصبانہ تسلط کے سائے میں بسر ہونے والی روزمرہ کی زندگی سے بھی بن گیا۔ فوجی ناکے، گرفتاریاں، زمینوں پر قبضے، گھروں کی مسماری، استعماری توسیع اور پے در پے دھاوے۔

جیسے جیسے دہائیاں گزرتی گئیں، استعمار تناؤ کی شکل طے کرنے والے سب سے مؤثر شعبوں میں سے ایک بن گیا، کیونکہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کا دائرہ پھیلتا گیا، جبکہ فلسطینیوں کے لیے ایک آزاد اور قابلِ عمل ریاست کے قیام کے لیے دستیاب رقبہ سکڑتا گیا۔

بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی طرف سے جولائی سنہ 2024ء میں جاری کردہ ایک مشاورتی رائے میں عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی موجودگی کا تسلسل غیر قانونی ہے۔ اسرائیلی پالیسیاں اور طریقۂ کار جن میں استعمار اور الحاق شامل ہیں، حقِ خود ارادیت کے فلسطینی عوام کے حق میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

پہلی انتفاضہ… قابض نظام کا اندر سے پھٹ پڑنا

دسمبر سنہ 1987ء میں غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں پہلی فلسطینی انتفاضہ پھوٹ پڑی، جو قابض ریاست کے خلاف فلسطینیوں کی عوامی مزاحمت کے نمایاں ترین ابواب میں سے ایک تھی۔

فلسطینی قابض ریاست کے مقابلے میں سڑکوں پر نکل آئے اور ہڑتالوں، مظاہروں، بائیکاٹ اور سول نافرمانی کا دور دورہ ہوا، جبکہ اسرائیل نے انتفاضہ کا مقابلہ ظلم و جبر، گرفتاریوں اور عسکری ہتھکنڈوں کے ذریعے کیا۔

اس مرحلے پر اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کی بنیاد رکھی گئی، جو بعد میں فلسطینی میدان کے نمایاں ترین کرداروں میں سے ایک بن گئی۔

یہ انتفاضہ صرف ایک سکیورٹی محاذ آرائی نہیں تھی۔ اس نے مسئلہ فلسطین کو بین الاقوامی توجہ کے مرکز میں لا کھڑا کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ قابض ریاست کا تسلط دائمی استحکام پیدا نہیں کر سکتا اور مسئلہ فلسطین کے حل کے بغیر غائب ہونے کا کوئی امکان نہیں۔

اوسلو… ریاست کی وہ اُمید جو پوری نہ ہو سکی

نوے کی دہائی میں تنازعہ اوسلو معاہدات کے ساتھ ایک نئے سیاسی راستے پر منتقل ہو گیا، جس نے فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے ایک دور کا آغاز کیا ۔ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے کچھ حصوں میں فلسطینی اتھارٹی قائم کی۔

لیکن ان معاہدوں نے تنازعے کے بنیادی فائلوں کو حتمی شکل نہیں دی، بیت المقدس، پناہ گزین، بستیاں، سرحدیں، سکیورٹی اور خودمختاری۔

جبکہ فلسطینی اس بات کے منتظر تھے کہ عبوری مرحلہ قابض ریاست کے تسلط کے خاتمے اور ریاست کے قیام کی طرف ایک راستہ ثابت ہوگا، استعماری توسیع کا سلسلہ جاری رہا، مغربی کنارے کے وسیع و عریض رقبے پر اسرائیلی کنٹرول برقرار رہا، جبکہ بنیادی نوعیت کے مسائل التوا کا شکار رہے۔

چنانچہ اوسلو کی طرف سے جگائی جانے والی امید بتدریج فلسطینی حلقوں میں اس بڑھتے ہوئے احساس میں بدل گئی کہ سیاسی راستہ قابضانہ تسلط کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوا، بلکہ اس نے اس کے انتظام کے طریقے کو نئے سرے سے منظم کر دیا ہے۔

دوسری انتفاضہ… اعتماد کا انہدام

سنہ 2000ء میں کیمپ ڈیوڈ کے مذاکرات کی ناکامی اور بیت المقدس میں تناؤ کے بڑھنے کے ساتھ ہی دوسری فلسطینی انتفاضہ بھڑک اٹھی۔

یہ مرحلہ پہلی انتفاضہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ خونریز تھا، اس نے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے وسیع عسکری آپریشنز کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے اندر فلسطینی حملوں کو بھی جنم دیا۔

انتفاضہ نے تشدد کے دائرے کو دوبارہ زندہ کیا، جبکہ مذاکراتی راستے پر اعتماد کو شدید دھچکا لگا۔

اس وقت سے سیاسی تصفیے کا خیال فلسطینی عوام میں کمزور تر ہوتا چلا گیا، جبکہ اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں میں اپنی سکیورٹی اور عسکری گرفت کو مزید مضبوط کیا۔

سنہ 2005ء… غزہ کے اندر سے انخلا تنازع کا خاتمہ نہیں کرتا

سنہ 2005ء میں اسرائیل نے ’فائر بندی‘ کا منصوبہ نافذ کیا اور غزہ کی پٹی کے اندر سے بستیوں کو خالی کر کے انخلا کیا، لیکن اس نے پٹی سے جڑے ہوئے بنیادی امور پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا، جبکہ غزہ زمین، سمندر اور فضا کے مختلف درجات میں محاصرے میں ہی رہا۔

سنہ 2006ء کے پارلیمانی انتخابات میں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کی فتح اور پھر سنہ 2007ء میں غزہ کی پٹی پر اس کے کنٹرول کے بعد یہ خطہ تقسیم اور محاصرے کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا۔

اس وقت سے غزہ کے دو ملین سے زائد فلسطینی ایک محدود جغرافیایی رقبے پر طویل محاصرے کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں افراد اور اشیاء کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں ہیں، اور بجلی، پانی، صحت اور معیشت کے شعبے مسلسل زوال کا شکار ہیں۔

غزہ… محاصرے سے لے کر بار بار کی جنگوں تک

سنہ 2008ء سے سنہ 2023ء کے دوران غزہ کی پٹی کو بار بار عسکری جارحیت کا سامنا کرنا پڑا، جن میں سنہ 2008ء تا 2009ء، 2012ء، 2014ء کی جنگیں اور اس کے بعد کے کشیدہ ادوار نمایاں ترین تھے۔

ہر بار جنگ کسی عارضی جنگ بندی معاہدے پر ختم ہوتی، جبکہ تنازع کے گہرے اسباب کو حل طلب ہی چھوڑ دیا جاتا۔

غزہ کا فلسطینی جنگ سے نکل کر محاصرے میں، اور محاصرے سے نکل کر نئی جنگ میں داخل ہوتا رہا، جبکہ تباہی، غربت، بے روزگاری اور بنیادی ڈھانچے کے زوال کے اثرات جمع ہوتے چلے گئے۔

اس طرح غزہ فلسطینیوں کے لیے اب محض ایک عسکری محاذ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسے بند سیاسی اور انسانی واقعے کی علامت بن چکا ہے جہاں لاکھوں فلسطینی خود کو ایک محدود جگہ کے اندر قید محسوس کرتے ہیں، بغیر کسی واضح سیاسی افق کے۔

سنہ 2021ء… بیت المقدس اور الاقصیٰ کا ایک بار پھر تصادم کے مرکز میں لوٹنا

سنہ 2021ء میں شیخ جراح محلے سے جڑے ہوئے تناؤ اور مسجد اقصیٰ پر قابضانہ دھاووں کے بعد بیت المقدس سے ایک بار پھر معرکہ پھوٹ پڑا۔

تصادم فوری طور پر غزہ کی پٹی تک پھیل گیا، اور اسرائیل اور حماس ایک نئے عسکری معرکے میں الجھ گئے۔

اس سال کے واقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ تنازع سے الگ تھلگ فائلیں نہیں ہیں، بلکہ یہ فلسطینی شعور کے دل میں زندہ ہیں، اور بیت المقدس میں موجودہ حیثیت میں کوئی بھی تبدیلی ایک وسیع محاربے کو بھڑکا سکتی ہے جو شہر کی حدود سے باہر تک پھیل جائے۔

سنہ 2022ء اور 2023ء… مغربی کنارہ دہکتے ہوئے انگاروں پر

سات اکتوبر سے پہلے مغربی کنارہ سالوں کی تاریخ کے سب سے بڑے کشیدہ ادوار میں سے ایک سے گزر رہا تھا۔

دھاوں، گرفتاریوں اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ تیز ہو چکا تھا، اس کے ساتھ ساتھ یہودی آباد کاروں کے حملوں، زمینوں کے غصب اور بستیوں کی توسیع میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور کے مطابق، سنہ 2023ء میں آباد کاروں کے پرتشدد واقعات کی ریکارڈ تعداد درج کی گئی جو فلسطینیوں اور ان کی املاک کو نشانہ بناتے تھے، جب کہ اقوام متحدہ نے سنہ 2006ء میں ان اعداد و شمار کو ریکارڈ کرنا شروع کیا تھا تب سے یہ سب سے بلند سطح تھی۔

بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ مسلسل تناؤ کے مرکز میں رہی، جبکہ مسجد اور اس کے گردونواح کے موجودہ زمینی حقائق کو تبدیل کرنے کے لیے دائیں بازو کے اسرائیلی حلقوں کی طرف سے بار بار اشتعال انگیز مطالبات کیے جاتے رہے۔

اسی دوران اسرائیل میں تاریخ کی تقریباً سب سے زیادہ دائیں بازو کی انتہا پسند حکومت اقتدار پر قابض تھی، جس میں ایسے وزراء شامل تھے جنہوں نے استعمار کی حمایت اور فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی تسلط کو پھیلانے کے واضح موقف کا برملا اعلان کیا۔

انتہا پسند حکومت… اور استعمار کی مسلسل پیش قدمی

اکتوبر 2023ء سے قبل کشیدگی صرف سیکیورٹی کی سطح تک محدود نہیں تھی، بلکہ یہ ایک سیاسی حقیقت بھی تھی۔

سنہ 2022ء کے آخر میں بننے والی اسرائیلی حکومت میں انتہا پسند دائیں بازو کی شخصیات شامل تھیں جنہوں نے فلسطینیوں کے تئیں انتہائی سخت رویے اپنائے، اور بستیوں کی توسیع اور مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول کو مضبوط کرنے کی بھرپور حمایت کی۔

اس کے مقابلے میں حقیقی سیاسی تصفیے کا ذکر منظرنامے کے حاشیے پر دھکیلا جا چکا تھا۔

جبکہ فلسطینی قیادت سیاسی بندش اور دو ریاستی حل کے خاتمے کی بات کر رہی تھی، زمینی حقیقت بالکل الٹ سمت میں حرکت کر رہی تھی: بستیاں پھیل رہی تھیں، زمینیں چھینی جا رہی تھیں، حملے بڑھ رہے تھے اور بیت المقدس کو نئی حقیقتیں مسلط کرنے کی مزید کوششوں کا سامنا تھا۔

چنانچہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ قابض ریاست نہ صرف بحران کا انتظام کر رہی ہے، بلکہ اسے کہیں زیادہ گہرائی کے ساتھ دوبارہ جنم دے رہی ہے۔

7 اکتوبر سے قبل… بغیر کسی فرار کے گہرے ہوتے ہوئے بادل

سات اکتوبر سے پہلے کے مہینوں میں فلسطینی منظرنامہ ایک عظیم دھماکے کے بڑھتے ہوئے اشارے دے رہا تھا۔

غزہ ایک طویل محاصرے کی چکی میں پس رہا تھا، مغربی کنارہ بڑھتے ہوئے عسکری اور استعماری دباؤ تلے تھا، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ تناؤ کے طوفان میں گھیرے ہوئے تھے، سیاسی افق تقریباً معدوم ہو چکا تھا، جبکہ گرفتاریاں، دھاوے، خونریزی اور جبری بے دخلی کا سلسلہ جاری تھا۔

یہی وجہ ہے کہ وہ سوال جو خود بخود فلسطینی سطح پر ابھرا وہ یہ نہیں تھا کہ: سات اکتوبر کیوں پیش آیا؟

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan