Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

500 سابق یورپی عہدیداروں کا اسرائیل کے خلاف ٹھوس اقدامات کا مطالبہ

پیرس (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) پانچ سو سابق یورپی سفارت کاروں، وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں نے یورپی یونین سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض اسرائیل کے یہودی آباد کاری پر اپنے روایتی اعتراض کو معاشی اور تجارتی نوعیت کے ٹھوس عملی اقدامات میں تبدیل کرے۔ انہوں نے انتباہ جاری کیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کے قریب نام نہاد ای ون (E1) منصوبے کو عملی جامہ پہنانے سے اس شہر کا فلسطینی ماحول سے رابطہ مزید کٹ جائے گا اور جغرافیائی طور پر جڑی ہوئی ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات ہمیشہ کے لیے پٹڑی سے اتر جائیں گے۔

فرانسیسی روزنامے ’لیبراسیون‘ میں شائع ہونے والے ایک تحریری مضمون میں تمام دستخط کنندگان نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس تعمیراتی منصوبے اور بستیوں کی پشت پناہی کرنے والے مالیاتی اور خدماتی اداروں پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں، یہودی بستیوں کے ساتھ یورپی تجارت کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے اور یورپی یونین اور قابض ریاست کے درمیان طے پانے والے شراکت داری معاہدے کے تجارتی احکام کو فی الفور معطل کیا جائے۔

یہ اہم مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قابض حکومت اس منصوبے کے پہلے مرحلے کے لیے ٹھیکے دینے کی تیاریوں میں مصروف ہے، جس میں ایک ہزار دو سو سے زائد یہودی آبادکاری یونٹس کی تعمیر شامل ہے۔ اس پیش رفت نے یورپی مؤقف کو ایک کڑے امتحان میں لا کھڑا کیا ہے کہ آیا وہ یہودی بستیوں کے مضر اثرات پر محض زبانی جمع خرچ اور انتباہات تک محدود رہتا ہے یا اسے روکنے کے لیے عملی اور جرات مندانہ اقدامات اٹھاتا ہے۔

دستخط کنندگان کی اس اہم فہرست میں فرانس کے دو سابق وزرائے اعظم دومینيك دو فيلبان اور آلن جوبے، اٹلی کے سابق وزیراعظم ماسیمو داليما، بیلجیم کے ای لوتيرم، سویڈن کے اسٹیفان لوفین کے علاوہ یورپی پارلیمنٹ کے دو سابق صدور جوزيب بوريل اور انريكي بارون كريسبو بھی شامل ہیں۔

سابق یورپی عہدیداروں نے اس بات پر شدید تنبیہ کی ہے کہ آئی ون منصوبے کی تکمیل سے مقبوضہ بیت المقدس باقی ماندہ مقبوضہ مغربی کنارے سے مزید کٹ جائے گا، اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے راستے میں ناقابلِ تسخیر رکاوٹیں کھڑی ہو جائیں گی۔ اس منصوبے کا خطرہ براہ راست اس کے محل وقوع، فلسطینی علاقوں کے باہمی ارتباط پر پڑنے والے منفی اثرات، اس میں شامل آبادکاری یونٹس کی ہولناک تعداد سے جڑا ہوا ہے۔

قابض حکومت نے اس منصوبے کو کئی دہائیوں تک سرد خانے میں رکھنے کے بعد گذشتہ برس باقاعدہ منظور کر لیا تھا، جبکہ اسرائیلی عدالت نے ستائیس ستمبر کو اس ٹینڈر کے عمل کو ایک ماہ کے لیے مؤخر کرنے کا حکم صادر کیا، تاکہ اس متنازعہ فائل کا اثر رواں ماہ اکتوبر کے آخر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات پر نہ پڑے۔

اس تاخیر کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ یہ تباہ کن منصوبہ اب بھی عملی نفاذ کے لیے میز پر موجود ہے، جس کے سدباب کے لیے دستخط کنندگان یورپی سطح پر ایسے مؤثر اقدامات کا نفاذ چاہتے ہیں جو اس منصوبے کے جملہ شراکت داروں اور یہودی بستیوں کے تجارتی مفادات کو براہِ راست نشانہ بنائیں۔

دستخط کنندگان نے یورپی یونین کی سست روی اور کارکردگی پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ یونین نے اس منصوبے کو زمین پر اترنے سے روکنے کے لیے اب تک کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا، بین الاقوامی قانون کی مبینہ خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے بعض یورپی ممالک کی طرف سے یہودی بستیوں کے خلاف اٹھائے جانے والے انفرادی اقدامات کی تعریف کی، تاہم دوسری طرف انہوں نے جرمنی اور اٹلی سمیت چند دیگر ممالک کو کڑے ہاتھوں لیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ یورپی یونین کی سطح پر مشترکہ اور متفقہ اقدامات کو اپنانے کی راہ میں جان بوجھ کر رکاوٹیں حائل کر رہے ہیں۔

انہوں نے یورپی کمیشن سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ ایسے قانونی اور قانون سازی کے مسودات پیش کرے جو آئی ون منصوبے اور یہودی بستیوں کی تعمیر و ترویج میں ملوث مالیاتی اداروں اور سروس پرووائڈرز پر کڑی پابندیوں کا راستہ ہموار کریں، تاکہ ان تمام عناصر کو اس کے دائرے میں لایا جا سکے جو اس خونی تعمیرات کی مالی معاونت کرتے ہیں اور اس کے تسلسل کو یقینی بناتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یورپی یونین کو فوری طور پر یہودی بستیوں کے ساتھ ہر قسم کی تجارتی لین دین پر پابندی عائد کر دینی چاہیے اور قابض ریاست کے ساتھ اپنے شراکت داری معاہدے کے تجارتی باب کو معطل کرنا چاہیے، تاکہ یورپی معاشی تعلقات کو توسیع پسندانہ آباد کاری کے خلاف عملی مؤقف کے ساتھ نتھی کیا جا سکے۔

دستخط کنندگان نے بارہ اکتوبر کو ہونے والے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے آئندہ اجلاس کو ان فیصلوں اور اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آخری تاریخ کے طور پر مقرر کیا ہے اور فلسطینی ریاست کے مستقبل پر اس منصوبے کے تباہ کن اثرات سے ایک بار پھر خبردار کیا ہے۔

سابق یورپی عہدیداروں کی یہ آواز ایک ایسے وقت میں بلند ہوئی ہے جب یورپ میں یہودی بستیوں کے خلاف عوامی اور سیاسی تحریک میں وسعت آرہی ہے، اور بعض ممالک اپنے اقدامات کو مذمتی بیانات سے آگے بڑھا کر اس کی حمایت کرنے والی شخصیات اور اداروں پر پابندیوں اور کاروباری اداروں کو اس کے پراجیکٹس میں حصہ لینے سے روکنے تک لے جا رہے ہیں۔ تاہم یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ تمام اقدامات تاحال یورپی یونین کے مشترکہ فیصلوں، ملکی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات اور تجارتی تجاویز کے درمیان بکھرے ہوئے ہیں جنہیں تمام رکن ممالک کی باقاعدہ منظوری کی ضرورت ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ان کے اثرات کا دائرہ کار ہر ملک میں مختلف اور محدود نظر آتا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan