Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

حماس کا عالمی یومِ اساتذہ پر فلسطینی تعلیمی نظام کے تحفظ پر زور

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں تعلیمی نظام کے تحفظ، تعلیم کے تسلسل کے لیے سازوسامان کی فراہمی، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے خلاف قابض اسرائیل کی خلاف ورزیوں پر اس کا محاسبہ کرنے کے لیے بین الاقوامی اقدام کا مطالبہ کیا ہے۔

حماس نے عالمی یومِ معلم کے موقع پر جو ہر سال پانچ اکتوبر کو منایا جاتا ہے، جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ قابض دشمن نے غزہ کی پٹی میں اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے نوے فیصد سے زیادہ بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے، ایک ہزار پچاس سے زائد مرد و زن اساتذہ کی شہادت کا سبب بنا ہے۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ تعلیم کو نشانہ بنانے کا یہ سلسلہ مغربی کنارے اور بیت المقدس تک پھیلا ہوا ہے، جہاں اساتذہ کو گرفتاری، تعاقب، تنگ کرنے اور قتل کا سامنا ہے۔ تحریک نے ان حملوں کو فلسطینیوں کے حقِ تعلیم کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

تحریک نے عالمی برادری اور متعلقہ اداروں کو ان خلاف ورزیوں کو روکنے، انہیں جرم قرار دینے، تعلیمی شعبے کی پشت پناہی کرنے اور تعلیمی عمل کے جاری رہنے کے لیے ضروری ذرائع فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔

اس نے عرب اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ، مغربی کنارے اور القدس میں تعلیمی نظام کی حمایت کریں، انسانی، مادی اور محفوظ ماحول کے حالات پیدا کریں، اور طلبا کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے قابل بنانے کے لیے ضروری متبادل فراہم کریں۔

حماس نے فلسطینی مرد و زن اساتذہ کے کردار کو سراہا جو جنگ کے اثرات اور وسائل کی کمی کے باوجود اپنا فریضہ ادا کرتے رہے ہیں، اور ان حالات کا مقابلہ کرنے میں ان کی حمایت کی اہمیت پر زور دیا جو ان کے کام کے تسلسل کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

مقبوضہ بیت المقدس کے حوالے سے تحریک نے تعلیم اور اس کے نصاب کو یہودائز کرنے اور اس کے اداروں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو مسترد کیا، اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات شہر کی عرب اور اسلامی شناخت کو مٹا نہیں سکتے اور نہ ہی اس کے ساتھ مقدسی نسلوں کے وابستگی کے جذبے کو کمزور کر سکتے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں تعلیمی شعبے کے نقصانات رہائش کے بحران، نقل مکانی اور بنیادی خدمات کے انہدام کے ساتھ گڈمڈ ہو رہے ہیں۔ فلسطینی مرکزی بیورو برائے شماریات کی طرف سے عالمی یومِ رہائش کے موقع پر جاری کردہ ایک بیان سے ظاہر ہوا ہے کہ گذشتہ 16 جون تک پٹی کی تقریباً 82 فیصد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں اور زیادہ تر آبادی کی مسلسل نقل مکانی جاری ہے، جو طلبا اور اساتذہ کے تعلیمی عمل میں باقاعدگی سے شرکت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دوچار کر رہی ہے۔

اس حقیقت کے پیشِ نظر، تعلیم کی بحالی کا تعلق سیکھنے کے لیے محفوظ مقامات کی فراہمی، تعلیمی عملے کی حمایت، اور بے گھر خاندانوں کو استحکام اور بنیادی خدمات تک رسائی کے قابل بنانے سے ہے، جو تباہ شدہ اسکولوں اور اداروں کی بحالی کے متوازی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan