Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

لبنان

لبنان میں اسرائیلی جارحیت کے مقاصد ناکام بنا دیے، نعیم قاسم کا مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان

بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے اتوار کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لبنان میں مزاحمت نے قابض اسرائیلی جارحیت کے منصوبے کو روک دیا ہے اور اسے اپنے مقاصد حاصل کرنے سے محروم کر دیا ہے۔ انہوں نے بڑی قربانیوں کے باوجود اس کے جاری رہنے پر زور دیا۔

حزب اللہ کے دو سابق سیکرٹری جنرلز شہید سید حسن نصر اللہ اور شہید سید ہاشم صفی الدین کی دوسری برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قاسم نے کہا کہ مزاحمت نے قابض اسرائیلی فوج کا مقابلہ کیا اور لبنان میں قبضے کو مستحکم کرنے اور بستیوں کے قیام کو روکا۔

انہوں نے واضح کیا کہ مزاحمت اسرائیلی عسکری جتھوں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہی، جن کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ان کی تعداد تقریباً 90 ہزار سپاہیوں اور افسران تک پہنچ گئی تھی، یہ افواج نہ تو مزاحمت کو توڑ سکیں اور نہ ہی زمین پر اپنے مقاصد مسلط کر سکیں۔

جنوبی لبنان میں مزاحمت کی پامردی

قاسم نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ مجاہدین نے بمباری اور تباہی کے باوجود بریگیڈز اور قابض فوج کے دسیوں ہزار فوجیوں کی پیش قدمی کو روک دیا اور متعدد جنوبی قصبوں اور مقامات پر ثابت قدمی کے جاری رہنے کا ذکر کیا۔

انہوں نے بنت جبیل، خیام، عیتا الشعب، ناقورہ، بياضہ اور علی الطاهر سمیت دیگر علاقوں کا شمار ان مقامات کے طور پر کیا جہاں ان کے بقول اسرائیلی عسکری کارروائیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے پامردی کا مظاہرہ کیا گیا، اور یہ واضح کیا کہ علی الطاهر میں یہ پامردی تین ماہ تک جاری رہی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مقابلہ ایسے اسرائیل کے ساتھ ہوا جسے ان کے بقول وسیع امریکی حمایت حاصل ہے، انہوں نے یہ مانا کہ قربانیوں کا حجم مزاحمت کے راستے سے پیچھے ہٹنے کا باعث نہیں بنتا۔

قاسم: ہم شکست قبول نہیں کریں گے

قاسم نے اپنے سابقہ ​​مؤقف کو دہرایا جس میں انہوں نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اسرائیل، ان کے تخمینے کے مطابق میدان میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا خواہ تصادم کا دورانیہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو جائے۔

انہوں نے قابض فوج کی جنوبی علاقوں کی طرف واپسی کی کوشش کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں طویل وقت لگ سکتا ہے، اور یہ کہ اسرائیلی افواج کے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی صلاحیت ابھی تک امتحان کا شکار ہے۔

انہوں نے اس ضمن میں حزب اللہ کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مزاحمت کو زمین کی آزادی، اور قبضے کے مقابلے میں خودمختاری اور خود کفالت کے حصول کی ضمانت کے طور پر دیکھتی ہے، اور اس بات کی تصدیق کی کہ مزاحمت کا مفہوم کسی مخصوص گروہ تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ہر اس شخص کو شامل کرتا ہے جو مزاحمت کرتا ہے۔

جنوبی لبنان میں مسلسل اسرائیلی جارحیت

قاسم کے یہ بیانات جنوبی لبنان میں ہونے والی اسرائیلی عسکری جارحیت کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں، جس میں فضائی حملے، توپ خانے کی گولہ باری اور خودکار ہتھیاروں سے سرچ آپریشنز شامل تھے، اس کے علاوہ متعدد سرحدی قصبوں میں گھروں اور تنصیبات کو دھماکے سے اڑانا اور عسکری نقل و حرکت بھی جاری رہی۔

یہ جارحیت جنوبی لبنان میں صورتحال کے انتظامات کے حوالے سے جاری تنازع کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جو امریکہ کی زیر سرپرستی چلنے والے سفارتی اور سیکیورٹی عمل کے موازی ہے۔

حالیہ میدانی پیش رفت نے جنوبی علاقے کو کشیدگی کے دائرے میں رکھا ہے، باوجود اس کے کہ اسرائیلی فوج کے انخلا اور ان علاقوں میں لبنان کی فوج کی تعیناتی سے متعلق ایک مرحلہ موجود ہے جہاں سے قابض افواج کو انخلا کرنا ہے۔

اس تناظر میں قاسم کے بیانات حزب اللہ کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ قابض دشمن کے مقابلے میں مزاحمت کے آپشن کو جاری رکھے ہوئے ہے، ایسے وقت میں جب جنوب میں عسکری پیش رفت سیکیورٹی اور خودمختاری کے انتظامات اور سرحد پر صورتحال کے مستقبل کے بارے میں لبنانی بحث کے ساتھ گڈمڈ ہو رہی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan