Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اقوام متحدہ

انروا کو 10 کروڑ ڈالر کے مالیاتی خسارے کا سامنا، خدمات کی فراہمی خطرے میں

مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امداد اور کام کرنے والے ادارے ’انروا‘ کے قائم مقام کمشنر جنرل کرسچن سوندرز نے ادارے کو درپیش ایک غیر معمولی مالیاتی بحران سے خبردار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سال 2026ء کے دوران نقد امداد کے بہاؤ میں تقریباً 10 کروڑ ڈالر کا خسارہ متوقع ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پناہ گزینوں کو بنیادی خدمات کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے اضافی مالی امداد کی ضرورت ہے۔

سوندرز نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسویں اجلاس کے موقع پر انروا کے حوالے سے منعقدہ وزرا کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کے پناہ گزینوں کے حالات تیزی سے مشکل ہو رہے ہیں اور مستقبل کی امید کم ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ غزہ پٹی میں جنگ بندی نے کچھ حد تک سکون فراہم کیا ہے، لیکن لاکھوں فلسطینی اب بھی گہرے عدم تحفظ کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ موسم سرما کی آمد، فنڈز کی شدید کمی اور بنیادی اشیا کی ترسیل پر مسلسل پابندیاں غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی فراہمی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف انسانی ضروریات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ پٹی کی 94 فیصد آبادی مناسب سر چھپانے کی جگہ سے محروم ہے، جبکہ 90 فیصد آبادی کو صاف پانی کے حصول میں بار بار تعطل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ 98 فیصد خاندان نکاسی آب کے گندے پانی، ملبے اور چوہوں سمیت ماحولیاتی خطرات کے قریب زندگی بسر کر رہے ہیں۔

10 لاکھ سے زائد مستفیدین

سوندرز نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ انروا کے 10 ہزار سے زائد ملازمین غزہ کی پٹی میں تقریباً 17 لاکھ افراد کو خدمات اور امداد کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس میں 80 سے زائد ہنگامی پناہ گاہوں کا انتظام، لاکھوں بچوں کی تعلیم کی بحالی، ہفتہ وار تقریباً 70 ہزار طبی مشورے فراہم کرنا اور ایک لاکھ سے زائد افراد کے لیے پانی، صفائی ستھرائی اور نکاسی آب کی خدمات شامل ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں انروا کے آپریشنز کا حجم اب بھی بہت بڑا ہے اور مقامی معاشرے کا ادارے پر اعتماد اب بھی قائم ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ انروا ایک ایسی تنظیم ہے جو بڑی انسانی اور اسٹریٹجک قدر کی حامل ہے، یہ موجودہ انسانی امداد کے ساتھ ساتھ بحالی اور تعمیر نو کے دونوں مراحل میں ایسے امتیازی مواقع اور مہارتیں رکھتی ہے جن کا نعم البدل تلاش کرنا مشکل ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارہ

سوندرز نے اس بات سے خبردار کیا کہ مغربی کنارے کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور روز بروز مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی نے ایسی سطح اختیار کر لی ہے جو خطے میں سنہ 1967ء کے بعد سے نہیں دیکھی گئی، یہ سب یہودی آباد کاروں کے جاری تشدد کے سائے میں ہو رہا ہے جس نے جینا محال کر رکھا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں انروا کے کام کو محدود کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات ادارے کے ہیڈ کوارٹر، پیشہ ورانہ تربیتی مرکز،سکولوں اور صحت سے متعلق بنیادی ڈھانچے پر قبضہ کرنے کی حد تک پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات نہ تو فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق میں کمی کر سکتے ہیں اور نہ ہی مسئلہ فلسطین کے حل میں کوئی مدد فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’انروا‘ مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں اپنے کام کے ساتھ ساتھ اردن، لبنان اور شام میں بھی اپنا ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے اس طرف توجہ مبذول کرائی کہ مالیاتی بحران نے ادارے کو کفایت شعاری اور اخراجات پر قابو پانے کے اقدامات کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جن میں خدمات کی فراہمی کے اوقات میں 20 فیصد کمی کے ساتھ ساتھ زیادہ تر مقامی ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتیاں شامل ہیں۔

فنڈنگ کا بحران اور کفایت شعاری کے اقدامات

سوندرز نے واضح کیا کہ مالی بحران کے تناظر میں ادارے کو اپنی خدمات میں کمی کرنا پڑی ہے، جبکہ رواں سال کے دوران نقد فنڈز کے بہاؤ میں خسارہ اب بھی تقریباً 10 کروڑ ڈالر تک ہے۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ انروا زیادہ موثر اور کم خرچ خدمات فراہم کرکے، ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا کر، شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنا کر اور فلسطینی نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور روزگار کے ذرائع پر توجہ مرکوز کرکے بدلتے ہوئے سیاسی اور مالیاتی ماحول سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

جہاں تک غیر جانبداری کا تعلق ہے تو سوندرز نے ادارے کی غیر جانبداری سے متعلق آزادانہ جائزہ رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد جاری رکھنے کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ 50 میں سے 41 سفارشات کو مکمل طور پر نافذ کر دیا گیا ہے جو کہ 80 فیصد سے زیادہ بنتا ہے، جبکہ بقیہ زیادہ تر سفارشات پر بھی عمل درآمد جاری ہے۔

انہوں نے ادارے کے عملے کے وقار اور غیر جانبداری کے تحفظ اور رکن ممالک کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے عزم پر زور دیا۔ انہوں نے غلط معلومات کے ذریعے حقائق کو مسخ کرنے، رائے عامہ کو متاثر کرنے اور پناہ گزینوں کی خدمت کرنے کی انروا کی صلاحیت کو کمزور کرنے کی مسلسل کوششوں کا بھی ذکر کیا۔

فوری فنڈنگ کی اپیل

سوندرز نے تمام ممالک سے پرزور اپیل کی کہ وہ انروا کو مضبوط سیاسی اور مالی امداد فراہم کریں، مطالبہ کیا کہ اسے اس کے دائرہ کار کے مطابق مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں کام کرنے کی آزادی دی جائے تاکہ اس کی مہارت، بنیادی ڈھانچے اور معاشرے کے اعتماد سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ادارے کے آپریشنز کو جاری رکھنے، اس کے کام کے طریقوں کو جدید بنانے اور پناہ گزینوں کے لیے خدمات کا تسلسل یقینی بنانے کے لیے ضروری فنڈنگ فراہم کی جائے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan