Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

حماس: نیتن یاہو کا اصل ٹھکانہ جیل ہے جہاں اسے جرائم کی سزا ملنی چاہیے

نیو یارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قابض اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نتن یاھو کے خطاب پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے بھرپور تقریر قرار دیا ہے، اور اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ خطاب اس بحران کی عکاسی کرتا ہے جس کا شکار بنیامن نتن یاھو غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں صیہونی جرائم کی روشنی میں خود ہو رہا ہے۔

تحریک نے بنیامن نتن یاھو کے خطاب پر اپنے جوابی بیان میں کہا کہ “سفاکانہ جھوٹ” اب دنیا کے ممالک اور عالمی رائے عامہ کے سامنے قابلِ قبول نہیں رہے ۔ انہوں نے غزہ کی پٹی پر مسلط کی جانے والی جنگ، بھوک و پیاس کی پالیسیوں اور زندگی کے تمام لوازمات کی تباہی کے ذریعے اسرائیل کا اصل چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے۔

حماس نے بنیامن نتن یاھو کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ قابض اسرائیل کی فوج دنیا کی “سب سے زیادہ اخلاقی” فوج ہے، اور اس بات کی تأكيد کی کہ یہ دعویٰ اس سفاکیت سے یکسر متصادم ہے جو غزہ نے بچوں اور خواتین سمیت عام شہریوں کے قتل کی صورت میں دیکھی ہے، اس کے علاوہ ان رپورٹس اور آزادانہ امم متحدہ کی کمیٹیوں کے انکشافات کے برعکس ہے جو پٹی میں کیے جانے والے جنگی جرائم کی نشاندہی کرتی ہیں۔

تحریک نے اس بات پر زور دیا کہ مجرم بنیامین نتن یاھو نے غزہ کی پٹی پر اپنی وحشیانہ جنگ کے بارے میں جو کچھ کہا ہے، اور پٹی میں کی جانے والی منظم نسل کشی کا جو انکار کیا ہے، اسے اقوام متحدہ کی رپورٹس اور دنیا بھر کے لوگوں کی طرف سے براہ راست دیکھے گئے قتل عام، بھوک ، نسل کشی کے مناظر جھٹلاتے ہیں، اس کے علاوہ اس کے اپنے فوجیوں اور افسروں کے وہ اعترافات اور عام شہریوں کے قتل پر ان کا جشن منانا بھی اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جن کے ساتھ قابض ریاست کے فاشسٹ وزراء اور رہنماؤں کی طرف سے فلسطینیوں کے قتل اور ان کے جبری انخلاء کے مطالبات بھی شامل ہیں۔

حماس نے اس امر کو بھی سراہا کہ بنیامن نتن یاھو کی تقریر کے دوران جنرل اسمبلی ہال سے بڑی تعداد میں وفود کا بائیکاٹ کر کے باہر چلے جانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ صیہونی حکومت کو کس قدر بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی کا سامنا ہے، فلسطینیوں کے ساتھ عالمی یکجہتی کا دائرہ کار کتنا وسیع ہو رہا ہے جو ان کے حقِ خودارادیت اور اپنی ریاست کے قیام کے حق کی تائید کرتا ہے۔

حماس نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی سازشوں سے خبردار کیا، اور اس طرف اشارہ کیا کہ بنیامن نتن یاھو وہاں فلسطینی عوام کے وجود سے انکار کر رہا ہے اور یہودی آباد کاروں کے حملوں کو سیاسی سرپرستی فراہم کر رہا ہے، ان پالیسیوں اور حملوں کا بھرپور مقابلہ کرنےکی ضرورت ہے۔

اپنے بیان کے آخر میں حماس نے اس بات پر تنقید کی کہ انٹرنیشنل کریمینل کورٹ کو مطلوب شخص بنیامن نتن یاھو کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرنے کی اجازت دی گئی،انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس کا اصل ٹھکانہ دہشت گرد مجرموں کی جیلیں ہونی چاہئیں، تاکہ اسے بین الاقوامی اور انسانی انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan