Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

فلسطین

مغربی کنارے میں رن اوور حملہ، صیہونی فوجی شدید زخمی، حملہ آور شہید

مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ مغربی کنارے کے وسط میں واقع مکابیم فوجی چوکی کے قریب کار تلے کچلے جانے کے نتیجے میں ایک صیہونی فوجی شدید زخمی ہو گیا، جبکہ اس واقعے کے بعد قابض اسرائیلی فوج نے رام اللہ اور البیرہ گورنری کے تمام داخلی اور خارجی راستہ بند کر دیا۔

قابض فوج نے فوجی چوکی کے قریب کار تلے روندے جانے کے واقعے کے بعد بتایا کہ اس نے جائے وقوعہ پر اضافی نفری روانہ کر دی ہے۔

دوسری جانب وزارتِ صحت نے اطلاع دی ہے کہ مذکورہ علاقے میں قابض فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں 29 سالہ نوجوان محمود محمد محمود سليمان شہید ہو گیا، قابض حکام نے اس کا جسد خاکی اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

ادھر صیہونی ایمبولینس سروس نے بتایا کہ ایک شخص چوکی کے قریب کار کی ٹکر سے زخمی ہوا ہے، تاہم اس کی شناخت یا زخموں کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

واقعے کے بعد قابض فوج نے سخت ترین اقدامات نافذ کرتے ہوئے رام اللہ اور البیرہ گورنری کو ملانے والے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو بند کر دیا، جس کے نتیجے میں شہریوں کو محصور ہونا پڑا اور ان کی نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی۔

اسی تناظر میں مقامی ذرائع نے بتایا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں رام اللہ کے قریب کار کے ذریعے حملے کی کوشش کے بہانے ایک فلسطینی شہری کو شہید کر دیا گیا۔

یہ پیش رفت مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں جاری میدانی کارروائیوں اور جھڑپوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جب کہ فلسطین انفارمیشن سینٹر “معطی” نے رواں ستمبر کی پہلی تاریخ سے لے کر بیس تاریخ تک فائرنگ، چاقو باری، کار تلے کچلنے اور مسلح جھڑپوں پر مشتمل 6 “نوعی” کارروائیوں کا ریکارڈ درج کیا ہے۔

اور اگست سنہ 2026ء کے دوران، مرکز نے مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں قابض اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں کی ملیشیا کے خلاف 280 مزاحمتی کارروائیوں کی دستاویزکاری کی، جو صیہونی پالیسیوں اور یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کا جواب تھیں۔

مرکز کی دستاویزکاری سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہودی آباد کاروں کے حملوں کا براہِ راست مقابلہ کرنے کے لیے 46 کارروائیاں کی گئیں، اس کے علاوہ قابض فوج کے ساتھ مختلف شکلوں میں 220 جھڑپیں ہوئیں، اور ایک پیٹرول بم پھینکنے کے ساتھ ساتھ مختلف تصادم پوائنٹس پر 7 عوامی مظاهرے اور ریلیاں بھی نکالی گئیں۔

یہ اعداد و شمار مغربی کنارے کے اضلاع اور مقبوضہ بیت المقدس میں مسلسل میدانی کشیدگی کی نشاندہی کرتے ہیں، جو کہ نوآبادیاتی یلغار میں تیزی اور فلسطینی شہروں اور قصبوں پر قابض فوج کے بار بار کے چھاپوں کے ساتھ ساتھ جاری ہے۔

فلسطین انفارمیشن سینٹر “معطی” کے اعداد و شمار کے مطابق، سال کے آغاز سے لے کر گذشتہ اگست کے اختتام تک یہودی آباد کاروں کے حملوں کی تعداد 4,357 تک پہنچ گئی، جو کہ سال 2025ء کے دوران درج ہونے والے کل 3,818 حملوں سے تجاوز کر گئی ہے۔

اسی سیاق و سباق میں، وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن نے رصد کیا ہے کہ گذشتہ اگست کے مہینے میں مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں قابض فوج اور یہودی آباد کاروں نے فلسطینی شہریوں، ان کی زمینوں اور املاک کے خلاف 2,030 حملے کیے۔

اسی مہینے میں یہودی آباد کاروں کے حملے 628 حوادث تک پہنچ گئے، جن کے نتیجے میں 164 شہری زخمی ہوئے یا انھیں براہِ راست نقصان پہنچا، جب کہ ان حملوں میں 21,508 درختوں کی توڑ پھوڑ اور اکھاڑا جانا بھی شامل تھا، جن میں 19,375 زیتون کے درخت بھی شامل تھے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan