بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں تقریباً 30 فوجی مقامات سے اپنی موجودگی کو مسلسل وسعت دے رہی ہے، جن میں آٹھ مضبوط قلعہ بند اڈے بھی شامل ہیں۔ جنوبی لبنان سے انخلا کے لیے جاری امریکی ثالثی میں مذاکرات کے باوجود اسرائیلی فوج علاقے میں اپنی عسکری موجودگی مزید مستحکم کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی عبوری فورس برائے لبنان (یونیفل) نے حال ہی میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے لبنانی سرزمین کے اندر اپنی موجودگی میں اضافہ کیا ہے اور بلیو لائن کے قریب قائم سابقہ پوزیشنوں سے آگے بڑھتے ہوئے اپنی فوجی تعیناتی کو مزید مضبوط کیا ہے۔
یونیفل کی ترجمان کینڈس آرڈیئل نے دی نیشنل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال مارچ میں کشیدگی میں اضافے سے قبل اسرائیلی فوج کی بلیو لائن کے قریب اور اس کے شمال میں پانچ مضبوط قلعہ بند پوزیشنیں تھیں، جبکہ رواں سال بلیو لائن کے شمال میں مزید تین نئی مضبوط پوزیشنیں دیکھی گئی ہیں۔ بلیو لائن وہ اقوام متحدہ کی مقرر کردہ حد ہے جو لبنان کو اسرائیل اور مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں سے جدا کرتی ہے۔
دی نیشنل کے مطابق پرانے فوجی اڈے 2024 میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے دوران قائم کیے گئے تھے، جبکہ خیام، مارون الرأس اور میس الجبل میں تین نئے اڈے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان وسیع تر امریکی۔ایرانی جنگ کے دوران دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے بعد قائم کیے گئے۔
یونیفل نے بتایا کہ اس نے جنوبی لبنان میں اسرائیل کی جانب سے قائم کیے گئے نام نہاد سکیورٹی بفر زون کے اندر تقریباً 20 دیگر عارضی فوجی پوزیشنیں بھی دیکھی ہیں۔ یہ زون لبنانی علاقے کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ مستقل اڈوں کے برعکس ان عارضی پوزیشنوں میں فوجی آتے جاتے رہتے ہیں اور اکثر گھروں یا دیگر موجودہ عمارتوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔
یونیفل کی ترجمان نے کہا کہ امن فوجی اسرائیلی فوج کی موجودگی کو اب بھی درجنوں مقامات پر دیکھ رہے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ فوجی کسی ایک مقام پر کتنے عرصے تک موجود رہتے ہیں۔
فوجی اڈوں اور چوکیوں میں اضافے سے جنوبی لبنان کے سکیورٹی زون میں اسرائیلی فوج کی بڑھتی ہوئی اور مستحکم موجودگی ظاہر ہوتی ہے، جبکہ امریکی ثالثی میں جاری مذاکرات کا مقصد جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلا کو یقینی بنانا ہے۔ مجوزہ انتظام کے تحت حزب اللہ اپنے ہتھیار چھوڑے گی اور لبنانی فوج علاقے کا کنٹرول سنبھالے گی۔
دوسری جانب اسرائیل نے حالیہ ہفتوں میں اس زون کی حدود میں بھی توسیع کی ہے اور اپنی جانب سے قائم کردہ نام نہاد ”یلو لائن“ سے آگے بتدریج پیش قدمی کی ہے۔ دی نیشنل کی سابقہ رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے آبادیوں کو خالی کرانے، عمارتیں مسمار کرنے اور ریموٹ کنٹرول بلڈوزروں کے ذریعے سڑکوں کو بند کرنے سمیت مختلف طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔