قاہرہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ایک اعلیٰ سطحی قائدانہ وفد نے جس کی قیادت سیاسی بیورو کے رکن اور قومی تعلقات کے دفتر کے سربراہ حسام بدران کر رہے تھے، مصری دارالحکومت قاہرہ میں فلسطینی دھڑوں اور قوتوں کے ساتھ ملاقاتوں کا ایک سلسلہ انجام دیا، جن میں سیاسی پیش رفت، پارلیمانی اور قومی کونسل کے انتخابات کے معاملے اور قومی اتحاد کو فروغ دینے کے طریقوں پر بات چیت کی گئی۔
’حماس‘ نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا کہ اس کے وفد میں حسام بدران کے علاوہ غازی حمد، علی برکہ، سہیل الہندی اور محمود مرداوی شامل تھے، اس نے تحریک جہاد اسلامی، فتح تحریک کے ڈیموکریٹک ریفارم کرنٹ، پاپولر فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین، تحریک احرار فلسطین، پاپولر فرنٹ – جنرل کمانڈ، فلسطین میں مزاحمتی کمیٹیوں اور ڈیموکریٹک فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین کے نمائندوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ مشاورت میں فلسطینی کاز کی پیش رفت پر بات کی گئی، جس میں پارلیمانی انتخابات اور فلسطینی قومی کونسل کے انتخابات پر خصوصی توجہ دی گئی، اس کے ساتھ ساتھ قومی اتحاد کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
جماعت کے بیان کے مطابق شرکاء نے ملاقاتوں کے دوران پارلیمانی اور قومی کونسل دونوں میں فلسطینیوں کے اپنے نمائندے منتخب کرنے کے حق کی تصدیق کی، اور اس عمل کی مخالفت کا اظہار کیا جسے انہوں نے ’تقرری، نظر انداز کیے جانے اور انفرادیت‘ سے تعبیر کیا۔
’حماس‘ نے کہا کہ فریقین اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ فلسطینی دھڑوں، قوتوں اور شخصیات کے درمیان مشاورت اور ہم آہنگی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، انتشار کو ختم کرنے کے لیے کام کیا جائے گا، اور جمہوری اور شراکت داری کی بنیادوں پر تنظیم آزادیٔ فلسطین کی ازسرنو تعمیر و فعالیت پر غور کیا جائے گا، اس کے علاوہ ایک مشترکہ قومی حکمت عملی کی تشکیل پر بھی زور دیا گیا۔
قاہرہ کی یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب آنے والے مہینوں میں طے شدہ انتخابی مرحلے سے پہلے فلسطینی قوتوں کے درمیان تحکات اور مشاورت میں تیزی آ رہی ہے، جبکہ انتخابات سے متعلق بعض قوانین اور طریقہ کار بالخصوص قومی کونسل کی تشکیل اور بیرون ملک مقیم فلسطینیوں کی نمائندگی کے مکینزم پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔
فلسطینی دھڑوں بشمول ’حماس‘، جہاد اسلامی اور پاپولر فرنٹ نے نو ستمبر کو ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا، جس میں قومی کونسل کی تشکیل میں ’تقرری، نظر انداز کیے جانے اور انفرادیت‘ کے اقدامات پر اعتراض کیا گیا تھا، اور اس کی تشکیل کے طریقہ کار پر ایک جامع قومی مباحثے کی طرف لوٹنے کا مطالبہ کیا تھا سیاسی روابط کا تسلسل ہیں۔
قاہرہ میں ’حماس‘ کے وفد کی مشاورت ان سیاسی رابطوں کا تسلسل ہے جو تحریک نے گزشتہ ہفتوں کے دوران انتخابات کے حوالے سے فلسطینی قوتوں کے ساتھ کیے تھے، کیونکہ اس سے قبل تحریک، پاپولر فرنٹ اور احرار تحریک کے درمیان مشاورت ہو چکی تھی، جبکہ گزشتہ اگست کے دوران بھی قاہرہ میں فلسطینی ملاقاتیں ہوئی تھیں جن میں انتخابی مرحلے اور پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اتحاد بنانے کے امکانات پر بات چیت کی گئی تھی۔
