Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

غزہ

تباہ شدہ غزہ میں تعلیم کی نئی امید، 7 لاکھ فلسطینی طلبہ کا تعلیمی سال شروع

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں تین سالہ مسلط کردہ جنگِ نسل کشی کے بعد تعلیمی عمل کو بحال کرنے کی ایک مشکل ترین کوشش کے طور پر ہفتے کے روز تقریباً 7 لاکھ طلبہ و طالبات نے تعلیمی سال 2026/2027 کا آغاز کر دیا۔ یہ واپسی ایسے استثنائی حالات میں ہو رہی ہے جہاں تعلیمی ادارے اور سکول وسیع پیمانے پر تباہی کا شکار ہو چکے ہیں، وسائل کی شدید کمی ہے اور ہزاروں طلبہ خیموں، عارضی جگہوں یا آن لائن تعلیم کے ذریعے پڑھنے پر مجبور ہیں۔

اس سال تعلیم کی طرف واپسی ایسے ماحول میں ہو رہی ہے جہاں زیادہ تر سکولوں کی عمارات یا تو اسرائیلی بمباری سے تباہ ہو چکی ہیں یا پھر بے گھر ہونے والے افراد کے لیے پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے پڑھائی کا سلسلہ روایتی سکولوں کے بجائے عارضی متبادل ذرائع سے جڑا ہوا ہے۔

غزہ میں وزارتِ تعلیم کے منصوبے کے مطابق نئے تعلیمی سال میں تقریباً تین لاکھ 50 ہزار طلبہ کو ہدف بنایا گیا ہے، جبکہ گزشتہ سال یہ تعداددو لاکھ70 ہزار تھی، اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا) نے بھی حاضری اور آن لائن تعلیم کا ایک ایسا ماڈل اپنایا ہے جس کے ذریعے لاکھوں طلبہ کو تعلیم دی جا رہی ہے اور مرحلہ وار عارضی تعلیمی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔

سکولوں سے باہر اضطراری واپسی

غزہ میں وزارتِ تعلیم کے تعلقات عامہ اور اطلاعات کے ڈائریکٹر جنرل احمد عائش النجار نے کہا کہ وزارت نے ایک لچکدار تعلیمی پلان تیار کیا ہے جو اس اصول پر مبنی ہے کہ بچوں کا تعلیم کا حق سکولوں کی تعمیر نو کا انتظار نہیں کر سکتا۔

النجار نے صفا ایجنسی کو دیے گئے بیانات میں واضح کیا کہ اس پلان میں قابلِ استعمال سکول، عارضی تعلیمی مراکز، خیموں میں قائم تعلیمی پوائنٹس، جہاں وسائل میسر ہوں وہاں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال شامل ہے۔

وزارت نے اعلان کیا کہ تعلیمی سال کا آغاز انتظامی طور پر 16 ستمبر کو ہو چکا ہے جبکہ طلبہ کی باقاعدہ پڑھائی 19 ستمبر سے شروع ہوئی ہے۔

النجار نے بتایا کہ وزارت کا تخمینہ ہے کہ استعمال ہونے والے سکولوں اور تعلیمی پوائنٹس کی تعداد گزشتہ سال کے تقریباً 270 سے بڑھ کر اس سال تقریباً 320 ہو جائے گی، جس سے تعلیمی دائرہ کار کو وسعت دینے اور مزید طلبہ کو جگہ دینے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کی طرف واپسی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام طلبہ روایتی سکولوں کی عمارتوں میں واپس جا رہے ہیں، کیونکہ تعلیمی ڈھانچہ بڑے پیمانے پر تباہ ہو چکا ہے اور کئی سکول اب بھی پناہ گزینوں کے زیرِ استعمال ہیں۔

تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر جاری کردہ ایک بیان میں وزارتِ تعلیم و اعلیٰ تعلیم نے تصدیق کی کہ شراکت داروں کے تعاون سے تقریباً پانچ لاکھ طلبہ کو دوبارہ درسگاہوں تک لایا گیا ہے اور متبادل تعلیمی جگہیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دستیاب وسائل کے تحت درجنوں فیلڈسکولوں کو فرنیچر اور ضروری سامان سے لیس کیا گیا ہے۔

انروا کا حاضری اور آن لائن تعلیم کا ماڈل

دوسری طرف انروا کے ترجمان عدنان ابو حسنہ نے کہا کہ ایجنسی ایک ایسا تعلیمی ماڈل اپنا رہی ہے جو طلبہ کے سیکھنے کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے حاضری اور آن لائن تعلیم کو باہم ملا کر پیش کرتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایجنسی نے تعلیمی سال کے آغاز پر 86 تعلیمی جگہیں قائم کی ہیں، اور سلامتی، جگہ، اساتذہ اور بنیادی سہولیات کی دستیابی کی بنیاد پر تدریسی عمل کو بتدریج وسعت دی جائے گی۔

اس ماڈل کا ہدف پہلی سے نویں جماعت تک کے طلبہ ہیں، جن میں آن لائن تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد تقریباً دو لاکھ 2 لاکھ 80 ہزار ہے، جبکہ حاضری کی بنیاد پر ابتدائی ہدف 72,051 طلبہ کا ہے، جسے دستیاب حالات کے مطابق بڑھا کر تقریباً ایک لاکھ تک کیا جا سکتا ہے۔

ابو حسنہ کے مطابق حاضری کی بنیاد پر تعلیم ہفتے میں تین دن، روزانہ چار گھنٹوں کے حساب سے دی جائے گی، جبکہ آن لائن پلیٹ فارمز اور تعلیمی چینلز کے ذریعے طلبہ کو رہ نمائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔

خیمے: ایک عارضی متبادل جو مناسب تعلیمی ماحول فراہم نہیں کرتا

خیمے اور عارضی جگہیں تعلیمی عمل جاری رکھنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں، تاہم النجار کا ماننا ہے کہ یہ ایک اضطراری حل ہیں جنہیں سکولوں کا مستقل متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ ماحول ہمیشہ مناسب تعلیمی اور صحت کے حالات فراہم نہیں کرتا، خاص طور پر گرمیوں میں شدید گرمی اور سردیوں میں سردی کے دوران، اس کے علاوہ سازوسامان اور وسائل بھی بہت محدود ہیں۔

وزارتِ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق نقصانات اور تباہی یا پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہونے کی وجہ سے تقریباً 97 فیصد تعلیمی عمارات کام کے قابل نہیں رہیں۔

تعلیمی عملے اور طلبہ کی بھاری جانی نقصان

وزارتِ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی جنگ کے دوران تقریباً 17 ہزار طلبہ اور تعلیمی شعبے سے وابستہ 770 افراد شہید ہو چکے ہیں۔

نقصانات صرف جانی اور عمارات تک محدود نہیں ہیں، بلکہ النجار نے بتایا کہ وزارتِ تعلیم کا صدر دفتر بھی مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور وزارت اپنا بیشتر فرنیچر، سازوسامان اور ٹرانسپورٹ کھو چکی ہے۔

تعلیمی سال کے آغاز پر جاری بیان میں وزارت نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ طلبہ کے روشن مستقبل اور تعلیمی نظام کی مکمل بحالی کے لیے اپنی جدوجہد ہر ممکن طریقے سے جاری رکھیں گے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan