غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں دراڑوں اور ساختی نقص کا شکار عمارتوں کے باعث شہریوں کی زندگیوں کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر بین الاقوامی، اقوام متحدہ اور عرب اداروں کے حکام اور نمائندوں نے جمعرات کو بحران سے نمٹنے کے لیے ایک ہنگامی منصوبے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ اتفاق غزہ میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس میں مختلف بین الاقوامی، اقوام متحدہ اور عرب اداروں کے 35 نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنگین انسانی اثرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی انسانی ردعمل کو مؤثر بنانے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔
غزہ کے حکومتی میڈیا دفتر نے بتایا کہ اجلاس غزہ شہر میں ’’السعادہ‘‘ عمارت منہدم ہونے کے واقعے کے بعد طلب کیا گیا، جس نے غزہ کی پٹی میں سیکڑوں خستہ حال اور دراڑوں کا شکار عمارتوں کو لاحق خطرات کی جانب دوبارہ توجہ مبذول کرائی۔
شرکا نے بحران سے نمٹنے میں اقوام متحدہ، بین الاقوامی اور عرب اداروں کے مطلوبہ کردار کے ساتھ امدادی اور لاجسٹک تعاون بڑھانے کے طریقہ کار پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں متعدد ہنگامی سفارشات پیش کی گئیں، جن میں انہدام کے خطرے سے دوچار سیکڑوں عمارتوں کے حوالے سے فوری اقدامات سرفہرست تھے۔
شرکا نے شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے عملی اور پیشگی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور ’’السعادہ‘‘ عمارت کے سانحے کی دوبارہ تکرار روکنے کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس ضمن میں غزہ کی حکومتی وزارتوں اور اداروں نے اعلان کیا کہ وہ ہنگامی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے اور ضروری سہولیات فراہم کریں گے۔ منصوبے میں عارضی پناہ گاہوں کے کیمپ قائم کرنے کے لیے اراضی مختص کرنا اور شہریوں کو خطرناک عمارتوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کرنا بھی شامل ہے۔
شرکا نے عالمی سطح پر انسانی ہمدردی کی اپیل جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ثالثوں پر زور دیا کہ وہ بھاری مشینری اور ضروری آلات کے علاوہ خطرناک عمارتوں کے معائنے، انہیں سہارا دینے، منہدم کرنے اور ملبے کو منظم کرنے کے لیے درکار ایندھن اور لبریکنٹس غزہ میں داخل کرنے کی اجازت دلانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
یہ اقدامات ’’السعادہ‘‘ عمارت کے انہدام کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے۔ جنگ کے دوران اس عمارت کو نقصان پہنچنے کے ساتھ اس میں دراڑیں پڑ گئی تھیں، تاہم بے گھر خاندانوں کو خطرے کے باوجود وہاں رہنے پر مجبور ہونا پڑا، جس کے نتیجے میں بدھ کی صبح عمارت وہاں موجود شہریوں پر منہدم ہوگئی۔
شہری دفاع کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق چھ منزلہ عمارت کے انہدام کے نتیجے میں 21 فلسطینی شہید اور 45 دیگر زخمی ہوئے۔ واقعے کے وقت عمارت میں تقریباً 101 افراد موجود تھے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی تھی۔
خستہ حال عمارتوں کا خطرہ غزہ میں محفوظ پناہ گاہوں اور دراڑوں کا شکار عمارتوں کے معائنے، انہیں سہارا دینے یا منہدم کرنے کے لیے درکار آلات کی شدید قلت کے ساتھ مزید سنگین ہوگیا ہے، جس سے شہریوں کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں کیونکہ ان میں سے بیشتر کے پاس محفوظ رہائش کے متبادل موجود نہیں۔
غزہ ملبہ ہٹانے اور تعمیر نو کے آغاز کا منتظر ہے، تاہم خستہ حال اور دراڑوں کا شکار عمارتیں شہریوں کی زندگیوں کے لیے بدستور ایک فعال خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ ایسے میں مزید عمارتوں کے انہدام سے قبل ان سے نمٹنے کے لیے بھاری مشینری، ایندھن اور عملی فیلڈ منصوبوں کی فوری ضرورت ہے۔