مقبوضہ بیت المقدس (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی صدر محمود عباس آئندہ ہفتے نیویارک میں ہونے والے اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکا کی جانب سے مسلسل دوسرے سال ویزا نہ دیئے جانے کے فیصلے کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ’’وڈیو کانفرنس‘‘ کے ذریعے خطاب کریں گے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ انکشاف فلسطینی صدارت نے گزشتہ روز “العربیہ” اور “الحدث” چینلز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اس سےقبل فلسطینی اتھارٹی نے مسلسل دوسرے سال نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے فلسطینی صدر کو ویزا دینے سے امریکی وزارت خارجہ کے انکار کو مسترد کر دیا تھا اور اسے ایک غیر منصفانہ اقدام قرار دیا تھا۔ واضح رہے کہ امریکی وزارت خارجہ نے بدھ کو بیان میں کہا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے انعقاد سے قبل فلسطینی اتھارٹی کے حکام اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے اراکین کو ویزے جاری کرنے پر پابندی کے اقدامات میں توسیع کرے گی۔
یہ اقدام اقوام متحدہ کے سرکاری شیڈول کے مطابق جنرل اسمبلی کے 81 ویں سیشن کے اعلیٰ سطح کے ہفتے کی کارروائی میں سربراہانِ مملکت اور حکومتوں کی شرکت سے پہلے آیا، جو 8 ستمبر کو شروع ہوا تھا، جب کہ عام مباحثہ 28 ستمبر تک جاری رہے گا۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ ویزا پابندیوں میں توسیع امریکا کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کی کوششوں کے منافی اور غیر منصفانہ ہے۔
فلسطینی وزارت خارجہ نے بیان میں فلسطینی ریاست کی جانب سے اس فیصلے کو مسترد کر دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ وہ اسے ایک غیر منصفانہ اقدام سمجھتی ہے جو اعتماد بحال کرنے، فلسطینی۔امریکی تعلقات کو فروغ دینے اور دو ریاستی حل کو نافذ کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے حصول کے لیے ضروری سیاسی فضا سازگار بنانے کی کوششوں کے منافی ہے۔امریکا نے اگست 2025 میں فلسطینی صدر محمود عباس سمیت تقریباً 80 فلسطینی حکام کے ویزے مسترد کرنے یا منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔