نیو یارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے ایک بار پھر اس امر پر زور دیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں امن پلان کو من و عن نافذ کیا جائے اور مکینوں تک بغیر کسی رکاوٹ کے انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے قابض اسرائیل کے جاری حملوں اور اس کے نتیجے میں بے بس شہریوں کو لاحق بڑھتے ہوئے ہولناک خطرات سے شدید خبردار کیا ہے۔
انتونیو گوتیر یس نے واضح کیا کہ قابض اسرائیل موجودہ شکل میں غزہ میں امن پلان کو قبول کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا، کیونکہ غزہ کی پٹی پر پے در پے بمباری کا سلسلہ جاری ہے اور عام شہری سنگین ترین خطرات کی زد میں ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اقوام متحدہ امن پلان کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہے، جس میں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے اسلحے کا خاتمہ، غزہ کی پٹی سے قابض اسرائیل کا انخلا، عوام تک بلا رکاوٹ انسانی امداد کی پُرستائش فراہمی شامل ہے۔
انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ امن کونسل غزہ میں اقوام متحدہ کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تنظیم کو درپیش سنگین رکاوٹوں کے باوجود عالمی ادارے کی زیر قیادت متعدد سرگرمیاں غزہ کی پٹی کے اندر بدستور جاری ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ کونسل کو اس پلان کے پہلے اور دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے سخت دشواریوں کا سامنا ہے، کیونکہ یہ کوششیں قابض اسرائیل کی طرف سے شدید مخالفت سے ٹکرا گئی ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں تدریجی الحاق سے انتباہ
مقبوضہ مغربی کنارے کے حوالے سے انتونیو گوتیریس نے نام نہاد ’تدریجی الحاق‘ کے عمل کو فوری طور پر روکنے اور نسل کشی کی طرف لے جانے والے تمام اقدامات کے خاتمے کا مطالبہ کیااور فلسطینیوں کے خلاف جاری سنگین پامالیوں پر گہرے تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے مشاہدے کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں ’تدریجی الحاق‘ کا عمل اور یہودی آباد کاروں کی وحشیانہ کارروائیاں جاری ہیں، جنہیں بعض اوقات سیکیورٹی فورسز کی پشت پناہی بھی حاصل ہوتی ہے، اس طرح کے سفاکانہ اقدامات کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔
دو ریاستی حل کے بغیر کوئی امن ممکن نہیں
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے دوٹوک انداز میں کہا کہ خطے میں اس وقت تک پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک منصفانہ دو ریاستی حل تک رسائی حاصل نہ ہو، اور فلسطینی اسرائیلی تنازع کا خاتمہ ہی مشرق وسطیٰ میں امن واستحکام کی اولین شرط ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مشرق وسطیٰ میں فلسطینی اسرائیلی بحران کے حل کے بغیر کوئی امن نہیں آ سکتا، جبکہ اسی سانس میں انہوں نے قرنِ افریقہ کے استحکام کو سوڈان کے بحران کے حل کے ساتھ بھی جوڑ دیا۔
غزہ امن پلان کے اگلے مرحلے پر شدید اختلافات
انتونیو گوتیرش کا یہ بیان غزہ میں امن پلان کے اگلے مرحلے کے نفاذ پر جاری شدید خلفشار کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، خاص کر جب گذشتہ اگست کے مہینے میں قابض اسرائیلی حکومت نے امن کونسل کی طرف سے منظور کردہ 15 نکاتی دستاویز کو یکسر مسترد کر دیا تھا اور غزہ کی پٹی سے کسی بھی قسم کے انخلا کو ’حماس‘ کے ہتھیار ڈالنے کے ساتھ مشروط کر دیا تھا۔
واضح رہے کہ امن کونسل نے گذشتہ جولائی میں غزہ میں امن پلان کی تکمیل کے لیے ایک روڈ میپ شائع کیا تھا، جس میں سیکیورٹی، انتظامی اور عبوری انتظامات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی، قابض اسرائیل کے فوجی انخلا اور غزہ کی پٹی کی تعمیرِ نو کے لائحہ عمل شامل تھے۔
دوسری طرف اقوام متحدہ برابر اس بات پر زور دے رہی ہے کہ پلان کے تمام عناصر پر من و عن عمل درآمد ناگزیر ہے، ساتھ ہی فلسطینی علاقوں میں انسانی اور سیاسی خطرات کے خطرناک حد تک بڑھنے، غزہ کی پٹی کے شہریوں کو درپیش مسلسل ہلاکتوں کے خطرات اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے جبر کے خلاف کڑی تنبیہ جاری کی جا رہی ہے۔
