قلقیلیہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے قابض اسرائیلی فوج کے اس فیصلے کو جس کے تحت قلقیلیہ کے شمال میں واقع قصبے جیوس میں دیوارِ فاصل کے پیچھے کسانوں کی تقریباً ایک لاکھ سینتیس ہزار پانچ سو دونم زمینیں ہتھیا لی گئی ہیں، ایک کھلی چوری، نیا آباد کاری کا گھناؤنا جرم، فلسطینی سرزمین اور عوام پر صریح حملہ اور غاصب دشمن کی غاصبانہ توسیع اور جبری نقل مکانی کی پالیسی کا تسلسل قرار دیا ہے۔
جماعت نے ایک پریس بیان میں واضح کیا کہ قابض دشمن کی طرف سے شہریوں کی اراضی کے وسیع رقبے پر قبضے، مغربی کنارے کو اس کے باسیوں سے خالی کرنے اور نئی یہودی آباد کاری کے حقائق مسلط کرنے کی مسلسل کوششیں فلسطینی عوام کے استقامت اور اپنی ارضِ وطن اور حقوق کے ساتھ ان کی وابستگی کا مقابلہ کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔
حماس نے عالمی خاموشی کے سائے میں ان پالیسیوں کے جاری رہنے کی سنگینی سے خبردار کرتے ہوئے زور دیا کہ زمینوں پر قبضے کی کارروائیوں میں تیزی لانا اور یہودی آباد کاری کو وسعت دینا قابض دشمن کو فلسطینی سرزمین پر کوئی قانونی حیثیت ہرگز نہیں دے گا، اور نہ ہی یہ اقدام فلسطینی عوام کے عزم اور آزادی و حریت کی منزل کی طرف بڑھنے کے ان کے پختہ ارادے کو توڑ سکے گا۔
حماس نے مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے تمام فلسطینی عوام سے اپیل کی کہ وہ قابض دشمن کے یہودی آباد کاری کے منصوبوں کے خلاف ہر ممکنہ طریقے سے مزاحمت کو تیز کریں اور ان کا بھرپور مقابلہ کریں۔
جماعت نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور غاصب دشمن کے جرائم، یہودی آباد کاری اور اراضی کے جبری قبضے کو روکنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں، یہ کہتے ہوئے کہ یہ سفاکانہ روش بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور یہودی آباد کاری کو مسترد کرنے والے بین الاقوامی فیصلوں اور مؤقفات کو کھلا چیلنج ہے۔
قابض اسرائیل کی فوج نے قلقیلیہ کے شمال میں واقع قصبے جیوس میں دیوارِ فاصل کے پیچھے کسانوں کی تقریباً ایک لاکھ سینتیس ہزار پانچ سو دونم زمینیں چھیننے کا فیصلہ کیا تھا۔
یہ فیصلہ کسانوں کو دیوار کے پیچھے محصور ان کی زمینوں تک رسائی پر قابض اسرائیل کی مسلسل پابندیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں ان کا داخلہ سخت ترین پرمٹ کے نظام اور پیچیدہ کارروائیوں کے تابع ہے، اس کے علاوہ کسانوں کو زرعی آلات کی نقل و حمل اور اپنی فصلوں کی دیکھ بھال میں بڑھتی ہوئی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
