غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) انسانی حقوق کی تنظیم ’یورو۔میڈیسٹرینین ہیومن رائٹس مانیٹر‘ (یورو۔میڈ) کے مطابق غزہ پٹی کی طرف جانے والی انسانی امداد پر قابض صہیونی ریاست کا کنٹرول ٹرکوں اور امدادی مقدار کی جانچ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے اس کی تخفیف و تنسيق میں حصہ لینے والے ممالک پر سیاسی شرائط عائد کرنے کی حد تک وسعت اختیار کر لی ہے جو ایک انتہائی حساس انسانی فائل کو حکومتوں اور فلسطینیوں پر دباؤ کا ایک حربہ بنا دیتا ہے۔
یہ پیشرفت قابض ریاست کی طرف سے لندن کی طرف سے مغربی کنارے میں بستیوں پر تجارتی پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کے ردعمل میں “کریات گات” میں امداد کے بین الاقوامی سپورٹ سینٹر سے برطانیہ کے نمائندوں کو باہر نکالنے کے بعد سامنے آئی ہے۔
ادارے نے بدھ کے روز ایک پریس بیان میں کہا کہ برطانیہ کا اخراج اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ مرکز اسرائیلی شرائط کے نظام کے تابع ہے جبکہ اس نے یاد دلایا کہ قابض ریاست اس سے قبل صیہونی بستیوں اور پالیسیوں پر تنقید کرنے والے موقف کی بنیاد پر اسپین اور نیدرلینڈز کو بھی اس میں حصہ لینے سے روک چکی ہے۔
سیاسی موقف کے بدلے امداد
یورو۔میڈ کا یہ ماننا ہے کہ یہ مسئلہ برطانیہ کے ساتھ سفارتی اختلاف سے کہیں آگے ہے کیونکہ یہ اس بات کو بے نقاب کرتا ہے کہ امداد کےلیے رابطہ اور ہم آہنگی میں شرکت کو قابض ریاست کے سیاسی موقف سے مشروط کیا جا رہا ہے۔
ادارے نے خبردار کیا کہ امدادی میکانزم پر کنٹرول قابض ریاست کو اس میں حصہ لینے والی جماعتوں کو متاثر کرنے کی اجازت دیتا ہے جبکہ غزہ کے باسی جو بنیادی ضروریات کو یقینی بنانے کے لیے امداد پر انحصار کرتے ہیں اس پالیسی کے نتائج کا شکار بننے والے سب سے بڑے فریق بنے رہتے ہیں۔
آبزر ویٹری کے مطابق آزاد انسانی فلاحی اداروں کو محدود کرنا امدادی نظام کو بین الاقوامی قواعد اور انسانی ضروریات کے مطابق کام کرنے کے بجائے اسرائیلی فیصلے کے تابع ایک میکانزم میں تبدیل کرنے کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔
آبزرویٹری ان حالیہ پیشرفت کو ایک وسیع تر تناظر میں رکھتا ہے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کام کرنے والی تنظیموں اور انروا کے خلاف پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
ادارہ خبردار کرتا ہے کہ ان اداروں کو کمزور کرنا غزہ میں امدادی نظام کو اس طرح سے دوبارہ تشکیل دینے کا موقع فراہم کرتا ہے جو قابض ریاست کو اس کے راستوں پر زیادہ اثر و رسوخ عطا کرے جبکہ دوسری طرف بڑھتی ہوئی انسانی ضرورت امداد کی تقسیم کے لیے ایک آزاد اور غیر سیاسی میکانزم کی موجودگی پر زور دیتی ہے۔
یورو۔میڈ اشارہ کرتا ہے کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے اقوام متحدہ کے امدادی منصوبوں کو آسان بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے، یہ مانتے ہوئے کہ قابض طاقت کی بنیادی رسد کو یقینی بنانے کی ذمہ داری امداد کی رابطہ کاری کے لیے نئے مراکز یا میکانزم قائم کرنے سے ختم نہیں ہوتی۔
ایک ایسا تصادم جو بستیوں سے شروع ہوا
حالیہ بحران اس وقت پھٹ پڑا جب برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملیبینڈ نے اپنے ملک کی طرف سے مغربی کنارے میں بستیوں سے آنے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی لگانے کے ارادے کا اعلان کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بستیاں غیر قانونی ہیں۔
قابض ریاست نے ایسے اقدامات کے ساتھ جواب دیا جن میں بیت المقدس میں برطانوی قونسل خانے کو بند کرنا، کریات گات میں امدادی مرکز سے برطانیہ کے نمائندوں کو باہر نکالنا، فلسطینی سکیورٹی فورسز کی تربیت میں لندن کی شرکت کو روکنا اور متعدد برطانوی شہریوں کے قابض ریاست میں داخلے پر پابندی شامل تھی۔
مرصد کا ماننا ہے کہ ان پابندیوں اور امدادی مرکز میں شرکت کے درمیان تعلق اس بات کو بے نقاب کرتا ہے کہ سیاسی موقف کو سزا دینے کے لیے ایک انسانی فائل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
یورو۔میڈ کے مطابق اس پیشرفت کی ہولناکی اس بات میں مضمر ہے کہ کنٹرول صرف گزرگاہوں کے ذریعے امداد کی نقل و حرکت کے انتظام سے آگے بڑھ کر اس بات پر اثر انداز ہونے تک پہنچ گیا ہے کہ اس کے انتظام و انصرام اور تنسيق میں کون حصہ لاتا ہے۔
آبزرویٹری غزہ سے محاصرہ اٹھانے اور امداد کی ہم آہنگی اقوام متحدہ اور انروا کے سپرد کرنے کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ وہ تمام ممالک کو دعوت دیتا ہے کہ وہ امداد کو سیاسی دباؤ کا ذریعہ بننے سے روکنے کے لیے حرکت میں آئیں۔
جب امداد ممالک کو سزا دینے اور فلسطینیوں پر دباؤ ڈالنے کا آلہ بن جاتی ہے تو یہ معاملہ امدادی ٹرکوں کے کنٹرول سے آگے بڑھ کر بقا کی شرائط کے کنٹرول تک پہنچ جاتا ہے کیونکہ یورو۔مید کی رو سے قابض ریاست انسانی کام کو اپنی سیاسی مرضی کے تابع کرنے کے لیے امدادی نظام پر اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتی ہے جبکہ لاکھوں فلسطینیوں کو اس میکانزم کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
غزہ میں خوراک، ادویات اور پناہ گاہیں صرف انسانی ضروریات نہیں رہ جاتیں بلکہ قابض کے ہاتھ میں پتے بن جاتی ہیں جو محاصرے کو بھوک کی پالیسی سے شہریوں کی زندگی پر کنٹرول کے ایک مربوط نظام میں تبدیل کر دیتا ہے۔
