تحریر: علی احمدی
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) وائٹ ہاوس نے بروز پیر 1 ستمبر 2026ء کے دن اعلان کیا کہ امریکہ کی بری فوج کے وزیر ڈان ڈریسکول نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا استعفی پیش کر دیا ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے سے وزارت جنگ کے کئی عہدیدار استعفی دے چکے ہیں جن میں سے آخری ڈان ڈریسکول ہیں۔ ڈان ڈریسکول وزارت جنگ میں وزیر جنگ پٹ ہیگسٹ کے بعد دوسرے نمبر کے اعلی ترین عہدے پر فائز تھے۔ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈریسکول نے وزیر جنگ سے واضح اختلافات جنم لینے کے بعد پینٹاگون سے نکل جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ استعفی پینٹاگون میں گذشتہ چند ماہ کے دوران طاری تلاطم کی فضا میں سامنے آیا ہے۔ اس دوران امریکہ کی وزارت جنگ کئی قسم کے چیلنجز سے روبرو رہی ہے جن میں خفیہ معلومات فاش ہو جانا، بجٹ کی کمی اور چند اعلی سطحی عہدیداروں کی برکناری شامل ہے۔
امریکہ کی بری فوج کے ایک اور اعلی سطحی عہدیدار رینڈی جرج بھی ان افراد میں شامل ہیں جنہیں مارچ میں اپنے عہدوں سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ یورپ اور افریقہ میں امریکہ کی بری فوج کے کمانڈر جنرل کرسٹوفر ڈاناہیو نے بھی اچانک استعفی دے دیا تھا۔ امریکہ کے وزیر جنگ پٹ ہیگسٹ کی جانب سے یکطرفہ فیصلوں نے مسلح افواج میں انتشار کی فضا پیدا کر دکی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے فاش کیا ہے کہ امریکہ کئی اعلی سطحی فوجی کمانڈرز نے وزیر جنگ ہیگسٹ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کا طول پکڑ لینا انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں امریکہ کی مسلح افواج کی دیگر خطوں میں درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیتیں کمزور ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح ملک کی اندرونی سطح پر بھی فوج کی طاقت میں کمی آ سکتی ہے۔
پٹ ہیگسٹ کی وزیر جنگ کے طور پر تقرری آغاز سے ہی بہت بڑا رسک تصور کی گئی ہے۔ وہ ٹی وی کے سابق اینکر پرسن ہیں اور قومی سیکورٹی اور دفاعی امور میں اس کا تجربہ بہت ہی کم ہے۔ وہ جس اعلی ترین عہدے پر فائز رہا ہے وہ نیشنل گارڈز میں بریگیڈیئر کا عہدہ تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے صرف ایک خصوصیت کی بنیاد پر وزیر جنگ کے عہدے کے لیے چن لیا تھا اور وہ خصوصیت ٹرمپ سے سو فیصد وفاداری تھی۔ یہ خصوصیت تقریباً ان تمام عہدیداروں میں مشترکہ ہے جنہیں ٹرمپ نے اپنی کابینہ کے لیے چنا ہے۔ اب اس رسک پر مبنی تقرری کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ پینٹاگون ایک ایسے وزیر کے ماتحت کام کرنے پر مجبور ہے جو عدم لیاقت کی بنیاد پر نہیں بلکہ محض شخصی وفاداری نہ ہونے کی بنیاد پر عہدیداروں کو برطرف یا استعفی دینے پر مجبور کر دیتا ہے۔
پٹ ہیگسٹ کی صفائی مہم کی بھینٹ چڑھنے والا تازہ ترین فوجی عہدیدار ڈان ڈریسکول ہے جس نے وزیر جنگ سے بارہا اور مسلسل جھگڑوں کے بعد خود ہی استعفی دینے میں اپنی عافیت جانی ہے۔ ایٹلانٹک اخبار کے رپورٹرز نینسی ای، یوسف، میسی راین اور مائیکل شرر نے اپنی رپورٹ میں ایک باخبر ذریعے کے بقول لکھا ہے: “ڈریسکول نے حکومت کو ہیگسٹ کی شکایت لگائی تھی اور اسے بری فوج کے تیار نہ ہونے کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ اسی طرح اس نے فوجی جرنیلوں کو برطرف کرنے کے ذریعے ہیگسٹ کی جانب سے پیدا کی جانے والی مشکلات سے بھی آگاہ کیا تھا۔” اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ ڈریسکول نے وائٹ ہاوس جا کر ہیگسٹ کی شکایت کی تھی لیکن امریکی صدر نے ہیگسٹ کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ یوں دکھائی دیتا ہے ہیگسٹ کی بری فوج سے خاص دشمنی ہے۔ خود ہیگسٹ کا کہنا ہے کہ بری فوج نے اسے دھتکارا ہوا ہے۔
ڈان ڈریسکول سے اختلاف ہیگسٹ کی جانب سے وزارت جنگ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد پیدا ہونے والی کشمکش کی واضح مثال ہے۔ اس کشمکش کی بنیادی وجہ ڈریسکول کے نائب صدر جے ڈی وینس سے قریبی تعلقات بھی بتائی جاتی ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق ہیگسٹ سمجھتا ہے کہ ڈریسکول کی جانب سے وائٹ ہاوس سے براہ راست رابطہ برقرار کرنے کا مطلب اسے نظرانداز کرنا تھا۔ ڈریسکول نے ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی تعلقات بنا رکھے تھے۔ پینٹاگون سے ٹیکنوکریٹس کے اخراج کی لہر سے متعلق واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ یورپ، ایشیا اور لاطینی امریکہ میں امریکی فوج کے کمانڈرز نے بحریہ کے اعلی سطحی کمانڈر کے ہمراہ 14 اگست کے دن ایک خفیہ دستاویز میں اعلان کیا تھا کہ وہ ہیگسٹ کی جانب سے طویل المیعاد مشن سونپے جانے کے مخالف ہیں لیکن اس کے باوجود اس کی اطاعت کریں گے۔ اسی طرح یہ استعفے اور برطرفیاں وائٹ ہاوس کی گہری ناراضگی کا بھی نتیجہ ہیں۔
ڈان ڈریسکول جو جے ڈی وینس کے کالج کے دوست ہیں کے استعفے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پینٹاگون میں امریکی نائب صدر کا اثرورسوخ بہت ہی کم ہے اور انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں بھی زیادہ شریک نہیں کیا جاتا۔ وائٹ ہاوس کے قریبی آگاہ ذرائع کے مطابق ڈریسکول اور وینس کے درمیان گہرے تعلقات بذات خود ہیگسٹ کی ناراضگی کا باعث تھے جس کی وجہ سے اس نے ڈریسکول پر دباو ڈال رکھا تھا۔ اس سے پہلے جے ڈی وینس کے قومی سلامتی کی مشیر اینڈی بیکر بھی استعفی دینے پر مجبور ہو گئے تھے۔ واشگٹن پوسٹ نے اس کے استعفے کو قومی سلامتی ٹیم میں تبدیلیوں کا حصہ قرار دیا تھا۔ اس کی جگہ جو نیا فرد لایا گیا وہ امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو سے قریبی تعلقات کا حامل ہے۔ اس تبدیلی نے جے ڈی وینس کی قومی سلامتی سے متعلق معلومات تک رسائی بہت محدود کر دی ہے۔ یوں امریکی نائب صدر روز بروز گوشہ نشین ہوتا جا رہا ہے۔