Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

پی ایل ایف نیوز

غزہ امن بورڈ کا مستقبل کیا ہو گا ؟

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں جاری طویل تنازع، تباہی اور انسانی بحران کے تناظر میں جامع امن منصوبے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور بین الاقوامی ثالثوں کی توثیق کے بعد ایک اہم موڑ قرار دیا گیا۔غزہ امن بورڈ نامی معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803کے ذریعہ توثیق کروائی گئی، اس منصوبہ میں 15نقاط پیش کئے گئے۔غزہ امن بورڈ نامی منصوبے کے تحت امریکی قیادت میں اسکے دو اہم حصے تشکیل دئیے گئے۔اس کا پہلا حصہ غزہ ایگزیکٹو بوڑد کہلاتا ہے ۔جس کی سربراہی نینوکلائی ملادینوف (ہائی ریپریزنٹیٹو برائے غزہ) اور بین الاقوامی نمائندے کر رہے ہیں۔اس منصوبہ کے دوسرے حصہ کا نام NCAGرکھا گیا ہے ۔یہ علی شعث کی سربراہی میں 15 غیر جانبدار فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل کمیٹی ہے جو مقامی سطح پر بنیادی سہولیات، معیشت اور بحالی کا کام دیکھے گی۔

منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت وقتی جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی، تمام اسرائیلی قیدیوں اور فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ کامیابی سے عمل میں لایا گیا۔ اس کے ساتھ ہی، حماس نے تکنیکی اور سول انتظامیہ کو بین الاقوامی سرپرستی میں قائم فلسطینی قومی عبوری کمیٹی (NCAG) کے سپرد کرنے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے اپنے سول کنٹرول سے دستبرداری کا اعلان بھی کر دیا تاکہ علاقے کی بحالی اور خدمات کا آغاز ہو سکے۔
دوسرے مرحلے کے بنیادی فریم ورک میںبورڈ آف پیس نامی بین الاقوامی سنٹرل باڈی کی سرپرستی طے کی گئی ہے، جو امریکہ، دیگر بین الاقوامی نمائندوں اور علاقائی اتحادیوں کی شمولیت سے معاشی بحالی اور فنڈنگ کا نظام سنبھالے گی۔ اس مرحلے میں فلسطینیوں کو تباہ شدہ بنیادی ڈھانچےجیسے پانی، بجلی اور ہسپتالوں کی مکمل بحالی، ہاؤسنگ پراجیکٹس اور ایک خصوصی اقتصادی زون کے قیام کی یقین دہانی کروائی گئی ہے تا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے غزہ کی معیشت کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔ تاہم، ان تمام مراعات کے بدلے حماس، اسلامی جہاد اور دیگر تمام فلسطینی دھڑوں کو اپنے عسکری ڈھانچے (سرنگوں اور ہتھیار بنانے والے مراکز) کو ختم کر کے مکمل طور پر غیر مسلح ہونے کی شرط عائد کی گئی ہے، اور تحفظاتی امور کے لیے ایک بین الاقوامی تحفظاتی فورس (ISF) کی تعیناتی تجویز کی گئی ہے۔

اس پورے عمل میں سب سے متنازع اور نازک نقطہ اسرائیلی افواج کے غزہ سے مکمل انخلاء اور سلامتی کے ضمانتوں کا ہے۔ اب تک کے تازہ ترین معاہدوں اور 15 نقاطی روڈ میپ کے مطابق اسرائیلی افواج کا انخلاء اب کسی طے شدہ وقت کا پابند نہیں رہا، بلکہ اسے فلسطینی دھڑوں کے مکمل غیر مسلح ہونے، اور امریکی کمان و بین الاقوامی فورسز کے ذریعے سیکیورٹی مانیٹرنگ کی تصدیق سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی رپورٹس اور عالمی اداروں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے پہلے مرحلے میں متعین کردہ سرحدی خطوط (Yellow Lines) سے پیش قدمی اور غزہ کے ایک بڑے حصہ پر اپنے آپریشنل اور سیکیورٹی کنٹرول کو برقرار رکھنے کا سلسلہ جاری رہا ہے۔

اسرائیل کے اس رویے اور سابقہ تمام معاہدوں کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے، عالمی سطح پر یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا غیر مسلح ہونے کے بعد اسرائیل کے مکمل انخلاء پر یقین کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

ماضی کا تجربہ، خصوصاً 1993ء کے اوسلو معاہدے سے لے کر سال 2005ء کے غزہ انخلاء تک اور حالیہ سیکیورٹی پٹی کی توسیع، یہ ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیل سلامتی کے احکامات کا بہانہ بنا کر مستقل سیکیورٹی زونز اور نگرانی جاری رکھتا ہے۔ جب تک معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں اسرائیل پر براہِ راست بین الاقوامی پابندیاں یا تعزیرات عائد کرنے کا کوئی آزاد اور غیر جانبدارانہ نفاذ کا میکانزم موجود نہیں ہوتا، تب تک محض سیاسی وعدوں یا بیانات کی بنیاد پر اسرائیل کے مکمل اور غیر مشروط سیکیورٹی انخلاء پر اعتماد کرنا انتہا درجہ کا غیر یقینی اور ایک تزویراتی رسک بن جاتا ہے۔

ایک اور اہم سوال یہ بھی اٹھ رہاہے کہ فلسطین ،لبنان کے بعد اب ایران پر بھی جنگ مسلط ہے اور ایسے حالات میں کہ ایران اس جنگ کا مقابلہ کر رہاہے اور جنگ بندی کی شرائط میں فلسطین و لبنان میں مستقل جنگ بندی کو اولین شرط قرار دیا گیا ہے۔ اس صورتحال میں ماہرین سیاسیات کا کہنا ہے کہ غزہ امن بورڈ نامی معاہدے کا مستقبل کیا ہو گا ؟ کیونکہ اسرائی تو اب غزہ سے انخلاء کرنے کے ارادے نہیں رکھتا اور دوسری طرف ایران کے ساتھ بھی جنگ جاری ہے۔
ماہرین سیاسیات کے مطابق غزہ امن بورڈ کے عملی نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ Timelineہے۔غاصب اسرائیل کا موقف ہے کہ جب تک تمام سرنگیں اور ہتھیار مکمل ختم نہیں ہوتے، فورسز کا انخلاء نہیں ہوگا۔ دوسری طرف، فلسطینی دھڑوں کو اندیشہ ہے کہ غیر مسلح ہونے کے بعد اسرائیل ماضی (مثلاً لبنان میں 1982ء یا اوسلو معاہدے کے بعد کے واقعات) کی طرح سیکیورٹی کنٹرول ختم نہیں کرے گا۔

NCAG میں حماس اور محمود عباس کی فلسطینی اتھارٹی (PA) دونوں کے براہِ راست ارکان کو شامل نہیں کیا گیا۔ اگرچہ اس کا مقصد غیر سیاسی انتظامیہ قائم کرنا ہے، لیکن مقامی عوام اور سیاسی دھڑوں کی مکمل سیاسی تائید کے بغیرامن بورڈ کے لیے غزہ کے اندرونی سیکیورٹی اور انتظامی مسائل کو سنبھالنا مشکل ترین چیلنج ہوگا۔

جہاں تک بین الاقوامی فنڈنگ کا تعلق ہے تو بین الاقوامی فنڈنگ اور خصوصی اقتصادی زون (SEZ) کے ذریعے غزہ کی بحالی صرف اسی صورت ممکن ہے جب امن بورڈانٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (ISF) کو زمینی سطح پر فوری فعال کرے۔لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ حماس اور فلسطینی عوام کا کہنا ہے کہ فلسطین کی سرزمین پر کسی بھی بیرونی فوج کی آمد کا مطلب ایسا ہی ہو گا جیسے موجودہ حالات میں فلسطین پر اسرائیل فوج ایک غاصب اور قابض فوج ہے۔دوسری طرف اگرغاصب صیہونی حکومت اسرائیل معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مستقل سیکیورٹی زونز برقرار رکھتا ہے یا آپریشنز جاری رکھتا ہے، تو امن بورڈ کے پاس اسرائیل پر پابندیاں لگانے یا قانونی کارروائی سے پابند کرنے کی کوئی آزادانہ خودمختاری نہیں ہوگی، جس سے بورڈ کا کردار محض ایک ضامن یا مبصر تک محدود رہنے کا خدشہ ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ غاصب صیہونی حکومت اسرائیل سالہا سال سے تمام قسم کے معاہدوں کی خلاف ورزی کرتی چلی آئی ہے اور اب بھی غزہ امن بورڈ فلسطینی دھڑوں کے تمام تر تعاون کے بعد بھی اسرائیلی ہٹ دھرمیوں کا شکار ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ کہنا مشکل ہے کہ غزہ امن بورڈ غزہ میں مستقل امن قائم کر پائے گا ۔لیکن یہاں فلسطینی دھڑوں کو بھی چاہئیے کہ وہ ماضی کی تاریخ سے سبق حاصل کریں اور دشمن خاص طور پر غاصب صہیونی دشمن پر اعتماد نہ کریں کیونکہ اسی اعتماد کی وجہ سے گذشت ستر سالوں میں غاصب اسرائیل نے فلسطین کے 78 فیصد علاقوں پر قبضہ جما لیا ہے۔فلسطین کا امن اور فلسطین کا دیر پا حل صرف مزاحمت اور فلسطینی عوا کے ریفرنڈم کی صورت میں ہی سامنے آ سکتا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan