Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

امریکی مشرق وسطی کا خاتمہ

تحریر: علی احمدی

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) 1991ء میں پہلی خلیجی جنگ کے بعد سے خلیج فارس پر امریکی آرڈر حکمفرما رہا ہے لیکن اب اس میں تیزی سے زوال آنا شروع ہو گیا ہے۔ اس زوال کی بنیادی وجوہات میں ایران کے خلاف امریکی صیہونی جارحیت کا فوجی اور اسٹریٹجک شکست سے دوچار ہونا، مسئلہ فلسطین کو نظرانداز کر دینا، پرانے آرڈر میں بنیادی خامیاں پائے جانا اور امریکہ کی جانب سے علاقائی اتحادیوں سے بے اعتنائی شامل ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف جنگ میں مطلوبہ اہداف حاصل کرنے اور حتی خطے میں اپنے ان اتحادیوں کی حفاظت کرنے میں بھی ناکامی کا شکار ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی سرزمین فوجی اڈوں کے لیے امریکہ کو فراہم کر رکھی ہے۔ اس طرح امریکہ کی وہ سیکورٹی حیثیت اور اعتبار برباد ہو چکا ہے جس نے خطے میں امریکہ کی فوجی موجودگی کی بنیاد فراہم کر رکھی تھی۔

دوسری طرف اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی راہ حل کو مکمل طور پر ترک کر چکی ہے جبکہ مقبوضہ سرزمینوں کو اسرائیل کے ساتھ ملحق کرنے اور غزہ جنگ جیسے اقدامات کے باعث امریکہ کی بھی امن مذاکرات کے ذریعے عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان صلح کروانے کی تمام تر کوششیں بے نتیجہ ہو گئی ہیں۔ مزید برآں، امریکہ کی جانب سے مقبوضہ فلسطین خاص طور پر مغربی کنارے میں غیرقانونی یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے میں ناتوانی بھی صورتحال مزید ابتر ہو جانے کا باعث بنی ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے غزہ میں مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی کے باوجود صیہونی رژیم کی غیر مشروط حمایت نے عالمی سطح پر اس کی اخلاقی حیثیت ختم کر دی ہے جبکہ ایران کے خلاف جنگ میں فوجی شکست نے اس کی فوجی برتری کا بھرم بھی توڑ ڈالا ہے۔

امریکہ اس وقت ناراض اور مایوس اتحادیوں سے روبرو ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم خطے میں لاقانونیت اور بدامنی میں ہی اپنا فائدہ سمجھتی ہے لہذا پوری ڈھٹائی سے تسلط پسندانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ اگر امریکہ اپنا یہ انداز اور رویہ تبدیل نہیں کرتا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا انجام بھی ماضی کی برطانوی اور فرانسیسی سلطنتوں جیسا ہی ہو گا اور وہ ہمیشہ کے لیے مشرق وسطی میں اپنا اثرورسوخ کھو بیٹھے گا۔ نیا آرڈر تو ہر صورت میں تشکیل پا کر ہی رہے گا چاہے اس میں امریکہ کا کوئی کردار پایا جاتا ہو چاہے نہ پایا جاتا ہو۔ گذشتہ چند عشروں سے امریکہ کا اصلی مقصد مشرق وسطی میں اپنے تمام اتحادیوں کو ایک آرڈر کے تحت اکٹھا کرنا تھا۔ ایسا آرڈر جس کا بنیادی مقصد اسرائیل کی حفاظت کرنا تھا۔

ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ بھی اس پالیسی سے ہٹ کر نہیں تھی بلکہ ٹھیک اسی پالیسی کے تحت تھی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس فوجی جارحیت کے ذریعے ایران سے درپیش تمام خطرات کو ایک ساتھ ختم کر دینے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ وہ ایران کے ساتھ وہی کام کرنا چاہتا تھا جو 2003ء میں امریکہ عراق کے ساتھ کر چکا تھا۔ لیکن حزب اللہ لبنان اور حماس کے خلاف اسرائیلی جنگوں کے منصوبہ سازوں کی طرح ایران کے خلاف جنگ کے منصوبہ سازوں نے بھی کچھ غلطیوں کا ارتکاب کیا۔ ان کی پہلی غلطی یہ تصور تھا کہ وہ فوجی طاقت کے ذریعے تمام تر اہداف حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ایران کی طاقت کا غلط اندازہ لگایا اور انہیں یقین نہیں تھا کہ ایران اپنے دفاع کی طاقت رکھتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے یہ سمجھا ہوا تھا کہ خطے کے اتحادی ہر قیمت پر ان کا ساتھ دیں گے۔

وہ سمجھتے تھے کہ مشرق وسطی میں ان کے اتحادی اپنی عوام کی جان و مال کی پرواہ کیے بغیر پوری طرح امریکہ کا ساتھ دیں گے اور ایران کے خلاف جنگ میں بھرپور حصہ لیں گے۔ لیکن جب ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر تابڑ توڑ حملے شروع کیے اور جنگ انفرااسٹرکچر تک پھیلنے لگی تو خطے کے ممالک نے جنگ روکنے کا شدید مطالبہ کر دیا۔ امریکہ کی برتری ایک رات میں ہی ختم نہیں ہو گی بلکہ اسے کچھ عرصہ لگے گا کیونکہ خطے کے حکمرانوں پر ابھی تک امریکہ کی فوجی طاقت کی دھاک بیٹھی ہوئی ہے۔ غزہ کے خلاف اسرائیل کی جنگ اور ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ نے بہت سے حقائق برملا کر دیے ہیں۔ عالمی سطح پر امریکہ کی سپرپاور کی حیثیت کو جو دھچکہ پہنچا ہے وہ ناقابل تلافی ہے اور آئندہ امریکی حکومتیں بھی اس کا ازالہ نہیں کر پائیں گی۔

اب اس بات کا وقت آن پہنچا ہے کہ امریکہ سفارتی عمل کا پابند ہو جائے اور ایران کو خطے کی طاقت کے طور پر قبول کر لے۔ اسی طرح امریکہ کو اسرائیل سے متعلق اپنی گذشتہ پالیسی پر بھی نظرثانی کرنی پڑے گی۔ علاقائی سطح پر استحکام کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کرتے ہوئے دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز آ جائے اور سوڈان اور لیبیا جیسے ممالک میں پراکسی جنگیں بھی ختم کر دے۔ اسی طرح اسے چاہیے کہ وہ عراق اور لبنان حکومتوں پر اسلامی مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے لیے دباو بھی مت ڈالے۔ خطے کی عوام امریکہ کی منافقت کو اچھی طرح بھانپ چکی ہے اور ان کے دل میں امریکہ کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ امریکی آرڈر اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے اور یورپی سلطنتوں کی طرح امریکہ کا تسلط اور اثرورسوخ بھی تاریخ کے کوڑے دان کی نذر ہو جائے گا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan