غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے 13 ایسے اسیران کو رہا کر دیا جنہیں انہوں نے سات اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد گرفتار کیا تھا۔
ایک مقامی ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیل نے کرم أبو سالم گزرگاہ کے راستے غزہ کے 13 اسیران کو رہا کر دیا، اور انہیں ریڈ کراس کے عملے کی ہمراہی میں علاج معالجے کی غرض سے خان یونس کے ناصر میڈیکل کمپلیکس منتقل کر دیا گیا۔
موصولہ ذرائع کے مطابق رہا ہونے والے قیدیوں میں احمد سجيع عبدو العشرة (عمر 30 سال)، محمود عوض سعيد الحلو (عمر 32 سال)، سعيد محمود أحمد دهليز (عمر 53 سال، سکنہ رفح)، نافذ زكی خليل يونس (عمر 62 سال، سکنہ غزہ)، علي يوسف محمد ابو حماد (عمر 53 سال، سکنہ رفح)، محمد زكي خليل يونس (عمر 58 سال، سکنہ غزہ)، محمد حاتم محمد أبو عودة (عمر 25 سال، سکنہ بيت حانون)، عبدالله صلاح محمد قشطة (عمر 31 سال، سکنہ رفح)، رامي يحيى خليل أبو خضرة (عمر 48 سال، سکنہ النصيرات)، أسعد رائد أسعد عبدالله (عمر 28 سال، سکنہ خان یونس)، نبيل علي حسن دهمان (عمر 60 سال، سکنہ بيت لاهيا)، عدنان فارس أحمد شلوف (عمر 47 سال، سکنہ رفح)، اور صبحي ماجد محمد أبو ريالہ (عمر 26 سال، سکنہ غزہ)۔
قابض فوج نے غزہ پر اپنی سفاک جارحیت کے دوران ہزاروں شہریوں کو گرفتار کیا ہے، اس کے علاوہ مقبوضہ علاقوں اور مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں غزوی مزدوروں کو بھی حراست میں لیا۔ انہیں انتہائی وحشیانہ قسم کے تششد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ان میں سے تقریباً 100 اسیران جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔
