Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

عراق پر امریکی قبضے کا خاتمہ یا امریکی اژدھے کی نئی کایا؟

تحریر : ولی خان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) 30 ستمبر کو عراق سے امریکی فوجی انخلا کے وعدے کے ساتھ امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور کی تبدیلی اور ٹرمپ کے نمائندے کے اختیارات میں توسیع بھی سامنے آئی ہے۔ مبصرین کے نزدیک یہ امریکی قبضے کا خاتمہ نہیں بلکہ عراق کے سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی معاملات میں ایک نئے انداز سے امریکی اثر و رسوخ کے تسلسل کی علامت ہے۔ 30 ستمبر کی تاریخ، جسے عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے لیے مقرر کیا گیا ہے، قریب آنے کے ساتھ ہی اس بات پر شکوک بڑھ رہے ہیں کہ امریکا اپنے وعدے پر کس حد تک سنجیدگی اور دیانت داری سے عمل کرے گا، خصوصاً اس لیے کہ ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اپنے وعدوں اور معاہدوں کی پابندی میں زیادہ قابلِ اعتماد نہیں رہا۔

عراقی ویب سائٹ المعلومہ نے اس حوالے سے سیاسی مبصرین کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا عراق کے لیے کبھی بھی امن کا کبوتر نہیں رہا، بلکہ اس نے ہمیشہ اپنے مفادات اور اپنے طے کردہ ایجنڈے کی بنیاد پر عراق میں پالیسی اختیار کی ہے؛ اور اب بھی وہ سانپ کی طرح صرف اپنی کینچلی بدل رہا ہے۔ یہ صورتحال حالیہ دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے ٹام بارک کی سرگرمیوں میں بھی واضح طور پر دیکھی گئی ہے۔ ان کے اقدامات محض سفارتی امور کے دائرے تک محدود نہیں رہے بلکہ وہ عراق کے داخلی معاملات میں مداخلت اور سیاسی قوتوں پر اپنی ہدایات اور شرائط مسلط کرنے کی کوششوں کی سطح تک پہنچ گئے ہیں۔ دوسری جانب، عراق اور امریکا کے درمیان طے شدہ شیڈول کے مطابق 30 ستمبر کو امریکی قیادت میں داعش مخالف اتحادی مشن کا خاتمہ اور امریکی فوجی انخلا مکمل ہونا ہے۔ عراقی حکومت نے اسے حتمی تاریخ قرار دیا ہے، جبکہ اس کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات کو سلامتی اور اقتصادی تعاون کی بنیاد پر آگے بڑھانے کی بات کی گئی ہے۔

کیا سفارت کے ناظم الامور کی تبدیلی نئے امریکی رویے کی علامت ہے؟:
معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا، کیونکہ انخلا کی تاریخ پر اتفاق کے بعد امریکا کی حالیہ سرگرمیوں نے بہت سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، بالخصوص اس وقت جب واشنگٹن نے بغداد میں اپنے سفارت خانے کے ناظم الامور جوشوا ہیرس کو تبدیل کرتے ہوئے ان کی جگہ اسٹیون فاغن کو تعینات کر دیا ہے، جو اس وقت یمن میں امریکا کے سفیر ہیں۔ بغداد میں امریکا کی آخری سفیر الینا رومانوسکی نے دسمبر 2024 کے اختتام پر اپنی ذمہ داریاں مکمل کی تھیں اور اس کے بعد سے اب تک ان کا مستقل جانشین مقرر نہیں کیا گیا۔ اس دوران بغداد میں امریکی سفارت خانے کے امور کئی ناظم الامور کے ذریعے چلائے جاتے رہے ہیں۔

عراق کی خودمختاری کے لیے امریکی خطرے کی نئی شکل پر تجزیہ کاروں کا انتباہ:
سیاسی تجزیہ کار ابراہیم السراج نے اسٹیون فاغن کے ذریعے اختیار کیے جانے والے ممکنہ نئے امریکی طرزِ عمل کو خطرناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے مرحلے میں ایسی سرگرمیاں دیکھنے میں آ سکتی ہیں جن کا مقصد عراق کے سیاسی اور خودمختار فیصلوں پر اثرانداز ہونا ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیون فاغن جس پالیسی کو آگے بڑھا سکتے ہیں، وہ خاص طور پر عراق اور خطے کے پیچیدہ سیاسی حالات کے پیشِ نظر سنگین خدشات پیدا کرتی ہے۔ امریکی سرگرمیوں کو ایسے طریقوں میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے جن کے ذریعے عراق کے قومی مفادات سے متصادم پالیسیوں یا ایجنڈوں کو مسلط کیا جائے۔ السراج نے مزید کہا کہ آنے والے مرحلے میں ہر ایسی سیاسی سرگرمی کے مقابلے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے جس کا مقصد عراق کے فیصلوں پر اثرانداز ہونا یا کسی بیرونی نقطۂ نظر کے مطابق ملک کے داخلی سیاسی منظرنامے کو ازسرِنو تشکیل دینا ہو۔

فوجی انخلا کے بعد خفیہ اثر و رسوخ کا منصوبہ:
انہوں نے سیاسی یا سفارتی ذرائع کی آڑ میں امریکی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ عراق کو اپنے خودمختار فیصلے برقرار رکھنے اور کسی بھی غیر ملکی ادارے کو اپنے داخلی امور میں مداخلت کی اجازت نہ دینے کی ضرورت ہے۔ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات باہمی مفادات اور عراق کی خودمختاری کے احترام کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار اثیر الشرع نے المعلومہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا عراق کے ساتھ ایک مختلف سیاسی اور سفارتی انداز میں برتاؤ کر رہا ہے۔

انہوں نے بھی بغداد میں امریکی سفارتی نمائندگی کی سطح کم کرنے اور سفیر کے عہدے سے ناظم الامور کی سطح پر آنے پر حیرت کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق اور امریکا کے تعلقات کو باضابطہ سفارتی ذرائع اور دونوں ممالک کے تعلقات کی نوعیت کے مطابق مناسب سفارتی سطح کے ذریعے چلایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں امریکی سفیر کی عدم موجودگی اور صرف ناظم الامور پر اکتفا کرنا محض رسمی نوعیت سے بڑھ کر سیاسی معنی رکھتا ہو سکتا ہے۔ الشرع نے مزید کہا کہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکی حکومت عراق کی حکومت یا اس کے سیاسی عمل کے ساتھ معمول کے سفارتی طریقہ کار کے مطابق برتاؤ نہیں کر رہی اور ممکنہ طور پر یہ عراق کے سیاسی عمل کو واشنگٹن کی جانب سے تسلیم نہ کیے جانے کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ عراق میں امریکی ناظم الامور کی تقرری اور موجودہ مرحلے میں ان کی تبدیلی ممکنہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں اختیار کیے جانے والے نئے طریقۂ کار کو ظاہر کرتی ہے، خصوصاً واشنگٹن کی جانب سے 30 ستمبر کو عراق میں اپنی فوجی موجودگی مکمل طور پر ختم کرنے کے اعلان کے بعد۔ یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ امریکی حکومت اثر و رسوخ کے لیے نئے راستے کھول رہی ہے، بالخصوص داخلی، سیاسی اور اقتصادی معاملات میں۔ بغداد میں امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور کی تبدیلی نے اس کے وقت اور مقصد کے حوالے سے بہت سے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

مثلاً کیا یہ تبدیلی عراق سے امریکی انخلا کے بعد کے مرحلے اور اس ایجنڈے سے متعلق ہے جو صدر ٹرمپ نے مستقبل میں بغداد کے لیے طے کر رکھا ہے؟۔ مبصرین کے مطابق، یہ اقدام تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال سے الگ نہیں ہے۔ چنانچہ اس کے نتیجے میں 30 ستمبر کے بعد عراق میں امریکی موجودگی اور اثر و رسوخ کے مستقبل کے حوالے سے مزید بڑے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan