غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) دستاویزی فلم ’سحر اللثام‘ (نقاب کا جادو) اس نقاب کے اسرار کی تلاش کرتی ہے جو چہرے کو تو چھپا لیتا ہے لیکن ساتھ ہی ایک ایسی باوقار موجودگی پیدا کرتا ہے جو انسان کی ذات سے آگے بڑھ کر ایک نظریہ بن جاتی ہے۔ یہ فلم صحراء المرابطین سے لے کر میکسیکو کے جنگلات اور پھر ابو عبیدہ کی شخصیت تک کا سفر طے کرتی ہے، جس کا مقصد نقاب کو تحفظ، علامت سازی اور اسطورہ (اسطیری شان) پیدا کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر سمجھنا ہے۔
’فلمز آف اوریجنل پروڈکشن‘ کے سلسلے کی اس فلم میں ایک بنیادی اور چونکا دینے والا سوال اٹھایا گیا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جوں جوں کسی انسان کے چہرے کے نقوش چھپتے جاتے ہیں، توں توں اس کی موجودگی مزید طاقتور ہوتی چلی جاتی ہے۔ فلم اس بات کا بھی احاطہ کرتی ہے کہ کس طرح ناظرین چہرے کی غیر موجودگی کے باوجود نقاب پوش شخصیت کے ساتھ جڑ جاتے ہیں اور اس کے پیغامات پر غیر متزلزل یقین رکھتے ہیں۔
’سحر اللثام‘ کو 27 اگست سنہ 2026ء کو الجزیرہ 360 پلیٹ فارم پر ریلیز کیا گیا، جس میں نقاب کے پیچھے چھپے اس مظہر اور صحرائے عرب سے لے کر فلسطینی مزاحمت کی سکرینوں تک پھیلی اس کی تاریخی جڑوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
قصانی ہیروز سے لے کر مزاحمت کی علامتوں تک
فلم مغربی ثقافت بالخصوص سپر ہیرو کی کہانیوں میں نقاب کے کردار کا جائزہ لیتی ہے، جہاں نقاب کا تعلق ایک ایسی غیر معمولی شخصیت کی تخلیق سے ہوتا ہے جو اپنے پہننے والے کو اس کی عام زندگی سے ہٹ کر ایک منفرد شناخت عطا کرتی ہے۔
اس کے برعکس فلم یہ منکشف کرتی ہے کہ عربی پس منظر میں نقاب کا کام بالکل مختلف ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ کوئی بہادری کا کارنامہ انجام دے بلکہ یہ اس کی حفاظت کرتا ہے اور اس کی بقا کو یقینی بناتا ہے، اس طرح شخصیت کا چھپ جانا ہی اس کے باوقار وجود اور علامتی شان کو برقرار رکھنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
فلم اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے عسکری ونگ، القسام بریگیڈز کے ترجمان شہید ابو عبیدہ کی شخصیت کو اس تاریخی تبدیلی کے ایک نمایاں ترین جدید نمونے کے طور پر پیش کرتی ہے، جہاں نقاب نے کسی جنگجو کی شخصیت کو نہیں گھڑا بلکہ ایک ایسے انسان کو چھپایا جو بعد میں اپنی ذات سے بھی بلند ہو کر ایک عظیم علامت بن گیا۔
صحرا سے لے کر اجتماعی شناخت تک
فلم عرب معاشرے میں نقاب کی جڑوں کو لے کر صحرا کا رخ کرتی ہے، جہاں اس کا آغاز گرمی اور گرد و غبار سے بچنے کے ایک عملی ذریعے کے طور پر ہوا تھا، لیکن قبائلی ماحول میں پہنچ کر یہ سماجی معانی اور اجتماعی شناخت کی ایک نمایاں علامت بن گیا۔
یہ کام یوسف بن تاشفین کے تجربے کو تازہ کرتا ہے جو ان نمایاں ’نقاب پوشوں‘ میں سے ایک تھے جنہوں نے دولت المرابطین کی بنیاد رکھی تھی۔ فلم بتاتی ہے کہ صحرا میں نقاب بلوغت اور مردانگی کی نشانیوں سے جڑا ہوا ہے، جہاں فرد کا چہرہ قبیلے کی شناخت کا حصہ بن جاتا ہے اور اس کی آواز قبیلے کی ترجمانی کرتی ہے۔
فلم فلسطین کا رخ کرتی ہے اور سنہ 1936ء کی عظیم بغاوت کے دوران برطانوی استعمار کی قابض حکومت سے اپنے چہرے چھپانے کے لیے حریت پسندوں کے نقاب کے استعمال کو اجاگر کرتی ہے، اور یہ بتاتی ہے کہ کس طرح سنہ 1938ء میں قیادت نے فلسطینیوں کے لیے کوفیہ پہننے کا حکم جاری کیا تھا۔
فلم اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس طرح کوفیہ کپڑے کا ایک عام ٹکڑا نہ رہا بلکہ ایک سیاسی موقف اور مزاحمتی عمل بن گیا، اور عرب معاشرے میں نقاب محض روپوشی کا ذریعہ بننے کے بجائے خطرے کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی علامت بن گیا۔
ابو عبیدہ: جب نقاب اپنے مالک سے بھی آگے نکل جاتا ہے
فلم فلسطینی نقاب کی تاریخ میں ابو عبیدہ کی شخصیت کو ایک منفرد اور الگ نمونے کے طور پر پیش کرتی ہے، کیونکہ نقاب یہاں کوئی خیالی یا سپر ہیرو شخصیت بنانے کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد مجاہد کی جان کی حفاظت کرنا اور اسے قابض دشمن کی نظروں سے اوجھل رکھنا تھا۔
حذیفہ کحلون المعروف ابو عبیدہ کے ایک قریبی ساتھی بیان کرتے ہیں کہ عسکری ترجمان کے طور پر ان کی پہلی آمد اسی ذمہ داری کے لیے ایک آزمائش کے طور پر تھی، جس کے بعد انہوں نے اپنی موجودگی کا لوہا منوایا اور اپنا یہ کردار بخوبی نبھاتے۔
فلم یہ وضاحت کرتی ہے کہ کس طرح ابو عبیدہ کی شخصیت نے تحریک حماس کی حدود کو عبور کر کے مسلح فلسطینی جدوجہد سے جڑی ایک زندہ جاوید علامت کی شکل اختیار کر لی، اور یہ ان محققین کی گواہیوں پر مبنی ہے جنہوں نے نقاب پوش شخصیت کی اس صلاحیت کا اعتراف کیا کہ وہ فلسطینی تاریخ کی یادوں کو تازہ کرنے اور اس کی علامتوں کو زندہ کرنے کی بھرپور طاقت رکھتی ہے۔
فلم میں شامل ایک خاتون محقق کا کہنا ہے کہ ابو عبیدہ کی پہنی ہوئی سرخ کوفیہ نے فلسطینیوں کے ذہنوں میں فدائین کی پرانی تصویر کو تازہ کر دیا، اور فلسطینی منظر نامے پر ان کی مسلسل موجودگی کے تصور کو مزید پختہ کر دیا۔
بیانیہ: جب آواز نقاب کو اضافی طاقت بخشتی ہے
فلم جنگ کے دوران ابو عبیدہ کی ظفر مندی کے لمحات کو یاد کرتی ہے، جن میں سنہ 2024ء میں اسرائیلی فوجی شاؤل آرون کے اسیر ہونے کا اعلان بھی شامل ہے۔ فلم کے مطابق یہ لمحہ ایک ایسا فیصلہ کن موڑ تھا جس نے اس شخصیت کے قد کو مزید بلند کیا اور عرب و اسلامی دنیا کے عوام بالخصوص اسرائیلی دشمن کے حلقوں میں اس کے بیانیے کو ایک وسیع اور گہرا اثر عطا کیا۔
فلم کا ماننا ہے کہ چہرے کی غیبت نے ابو عبیدہ کے اثر و رسوخ کو کم نہیں کیا بلکہ اس نے ایک ایسی ذہنی تصویر بنانے میں بھرپور مدد کی جو آواز، کوفیہ، نقاب اور اس کے دلیرانہ خطبے کے ساتھ لازم و ملزوم ہو گئی، یہاں تک کہ وہ شخصیت آہستہ آہستہ ایک فرد سے نکل کر ایک روشن علامت بن گئی۔
دشمن علامت کے مقابلے میں
’سحر اللثام‘ قابض اسرائیل کی طرف سے ابو عبیدہ کی اصل شخصیت کا پردہ فاش کرنے اور اسے جسمانی و علامتی طور پر نشانہ بنانے کی بار بار کی جانے والی ناکام کوششوں کا احاطہ کرتی ہے۔ فلم بتاتی ہے کہ سنہ 2014ء میں ریڈیو لہروں کو ہیک کرنے کے بعد قابض دشمن نے ان کا نام اور تصویر تک نشر کرنے کی گھناؤنی کوشش کی تھی۔
فلم اس بات کا بھی ذکر کرتی ہے کہ کس طرح قابض اسرائیلی فوج اور شاباک کے خفیہ ادارے نے غزہ کی جنگ کے دوران سنہ 2024ء میں حذیفہ کحلون کی شہادت کا ڈھونگ رچایا، جس کا اعلان مطلوب جنگی مجرم وزیر سکیورٹی ایتمار بن گویر اور وزیراعظم بنجمن نتنياهو نے کیا تھا۔
تاہم فلم اس حتمی نتیجے پر پہنچتی ہے کہ انسان کو شہید کر دینے سے اس کی علامت ختم نہیں ہوتی، کیونکہ ابو عبیدہ کی شخصیت اب خود اپنے مالک سے کہیں زیادہ بڑی ہو چکی ہے، اور یہی حقیقت اس نام اور کردار کے ہمیشہ زندہ رہنے کا رستہ ہموار کرتی ہے خواہ خود وہ شخص ظاهری دنیا میں موجود نہ رہے۔
نقاب جو ایک نظریہ بن جاتا ہے
فلم ابو عبیدہ کے تجربے کا موازنہ میکسیکو کے انقلابی کمانڈر مارکوس (جن کا اصل نام رافائیل سباستین گوییئن ویسنتی ہے، جو زاباتا نیشنل لبریشن آرمی کے مفکر، سیاستدان اور سابق فوجی کمانڈر تھے) کے ساتھ کرتی ہے، اور ان دونوں کو ایسی شخصیات کے نمونے قرار دیتی ہے جو عام انسانوں سے بلند ہو کر ایسی علامتیں بن گئیں جو اپنے خالقوں سے بھی آگے نکل گئیں۔
’سحر اللثام‘ اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ نقابوں کے پردے فاش کرنے کی تمام تر کوششیں، خواہ وہ ابو عبیدہ کے حوالے سے ہوں یا مارکوس کے بارے میں، ان کا مقصد صرف کسی کی اصلیت کا پتہ لگانا نہیں ہوتا بلکہ اس کا اصل مقصد علامت کو چھوٹا کرنا اور اسے ایک عام انسان کی سطح پر لانا ہوتا ہے تاکہ اس کے اثر و رسوخ کو ختم کیا جا سکے۔
فلم میں پیش کی جانے والی محققین کی آراء اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ نقاب بعض اوقات ایک الٹا فریضہ انجام دیتا ہے، وہ انسان کو ایک محدود فرد سے نکال کر ایک وسیع تر علامت میں تبدیل کر دیتا ہے، جہاں وہ نظریہ اپنے مالک کی زندگی یا موت کا محتاج نہیں رہتا۔
فلم کے آخر میں ایک انتہائی طاقتور نچوڑ پیش کیا گیا ہے کہ نقاب بعض اوقات انسان کو چھپاتا نہیں ہے بلکہ اس نظریے کی طاقت کو بے نقاب کر دیتا ہے جس کی وہ ترجمانی کرتا ہے۔ جب انسان کوئی علامت بن جاتا ہے تو چہرہ اس کے پیغام کے مقابلے میں بے معنی ہو جاتا ہے، اور اس کا ظاہری وجود مٹ جانے کے باوجود اس کی غیر موجودگی ایک نئی ایسی بیداری کو جنم دیتی ہے جو فرد کی حدوں سے نکل کر ایک لافانی نظریہ بن جاتی ہے۔
