غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسرائیلی اخبار روزنامہ ’ہآرٹز‘ کی جانب سے شائع ہونے والی ایک طویل اور تہلکہ خیز تحقیقاتی رپورٹ کے اعداد و شمار قابض اسرائیلی فوج، ’شاباک‘ اور غزه کے اندر سرگرم مسلح فلسطینی ملیشیاؤں کے درمیان گٹھ جوڑ کی نوعیت میں ایک خطرناک اور معیاری تبدیلی کو بے نقاب کرتے ہیں۔ اس انکشاف کے مطابق اب ان کے مابین تعاون محض معلومات کے تبادلے یا میدانی رابطہ کاری تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کی شکل بگڑ کر اس سطح پر پہنچ چکی ہے کہ ان تخریب کار گروہوں کو قابض فوج کے ان مکروہ مقاصد کے لیے ایک باقاعدہ اجرتی بازو کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جہاں تک غاصب افواج کی رسائی انتہائی دشوار ہے۔
صحافی یردن میخائیلی کی تیار کردہ اس رپورٹ کی بنیاد سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے، مواصلاتی نیٹ ورکس، غزه کے مقامی باشندوں سے بات چیت، اقوام متحدہ کے اعداد و شمار اور قابض اسرائیلی فوج کے افسروں و غاصب فوجیوں کی غدارانہ شہادتوں پر ہے۔ اخبار کے مطابق ان خوفناک حقائق سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ ان میں سے کئی ملیشیاؤں کو قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے عسکری تحفظ اور براہ راست امداد حاصل ہے جبکہ ان کے کارندے فوجی اڈوں کے اردگرد دندناتے پھرتے ہیں ، اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ اور معصوم فلسطینی عوام دونوں کے خلاف بزدلانہ میدانی کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔
رابطہ کاری سے لے کر ’ایگزیکٹو ونگ‘ تک کا سفر
روزنامہ ’ہآرٹز‘ اس راز کو بھی فاش کرتا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان تعاون اب اس حد تک آگے بڑھ چکا ہے جو روایتی لاجسٹک مدد کے دائرے کو توڑ چکا ہے کیونکہ اب بعض ملیشیاؤں نے قابض فوج اور شاباک کے لیے ایسے مشن سر انجام دینا شروع کر دیے ہیں جن میں ان علاقوں میں گھسنا بھی شامل ہے جہاں قابض فوج کے قدم نہیں ٹک سکتے، ’حماس‘ کا جنگی سامان ضبط کرنا اور اس کے مجاہدین کا تعاقب کرنا ہے۔
اخبار کی طرف سے نقل کردہ فوجیوں کی گواہیوں کے مطابق ان غدار گروہوں کے کارندے قابض فوج کے عسکری اڈوں کے گردونواح میں کھلے عام گھومتے ہیں، مسلح گشت کرتے ہیں،ان کی ویڈیوز بناتے ہیں اور اپنے ناپاک اثر و رسوخ کو بڑھانے اور نئے دہشت گرد بھرتی کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر انہیں اپ لوڈ کرتے ہیں۔
غزه کے باوثوق ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض خطرناک کارروائیوں کے دوران قابض اسرائیلی فوج نے ان ملیشیاؤں کو توپ خانے کی زبردست کور اور ڈرون حملوں کی فضائی مدد فراہم کی جنہوں نے ان علاقوں میں ’حماس‘ کے خلاف حملے کیے جہاں تحریک آج بھی بھرپور مزاحمتی اثر و رسوخ رکھتی ہے۔
خان یونس کا خوفناک واقعہ باہم گٹھ جوڑ کی حقیقت کھول دیتا ہے
اس تحقیقاتی رپورٹ میں درج واقعات میں سے ایک ہولناک واقعہ رواں برس کے آغاز میں خان یونس کے علاقے میں پیش آیا جب قابض فوجیوں کو نام نہاد ’کوآرڈینیٹڈ ایکٹیویٹی‘ کے نام پر ایک مخصوص مقام پر بھیجا گیا تاکہ وہ ایک ملیشیا کے ساتھ مل کر گھناؤنا کھیل کھیل سکیں۔
تاہم غاصب فوجیوں نے بعد میں انکشاف کیا کہ وہ خود کو اسی ملیشیا کے اندرونی تنازع کے تصفیے کے درمیان پاتے ہیں جو اس وقت پیدا ہوا جب اس گروہ کے ایک مسلح رکن نے مبینہ طور پر غلطی سے ایک دوسرے کارندے کی بیوی پر فائرنگ کر دی جس کے بدلے میں اس دوسرے نے اسی خاندان کے ایک فرد کی دونوں ٹانگیں گولی مار کر اڑا دیں۔
روزنامہ ’ہآرٹز‘ اس واقعے کو اس بات کا منہ بولتا ثبوت قرار دیتا ہے کہ یہ بدمعاش گروہ اب قابض اسرائیل کی چھتری تلے کتنی کھلی چھوٹ کے ساتھ دندنا رہے ہیں، یہاں تک کہ جب بات ’حماس‘ کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی کی نہ بھی ہو تب بھی ان کے داخلی فسادات جاری رہتے ہیں۔
قابض دشمن کا تحفظ اور براہ راست حمایت
تحقیقات کے مطابق اسرائیلی پشت پناہی صرف سکیورٹی کور فراہم کرنے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اخبار نے متعدد ایسے اشارے بھی ریکارڈ کیے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ان غدار گروہوں کو وسیع پیمانے پر میدانی اور لاجسٹک مدد کے ساتھ ساتھ ان کے ٹھکانوں کو مستحکم کرنے اور ان کے مورچے مضبوط کرنے کا بھی بھرپور انتظام کیا جا رہا ہے۔
تحقیق میں جن سیٹلائٹ تصاویر اور ویڈیوز کا باریک بینی سے تجزیہ کیا گیا ہے ان سے انکشاف ہوتا ہے کہ ان ملیشیاؤں کے پانچ بڑے اور مرکزی کمپلیکس موجود ہیں جبکہ ایک چھٹے مقام پر بھی مسلح گروہ کے موجود ہونے کے واضح شواہد ملے ہیں۔ یہ تمام غاصبانہ اڈے قابض اسرائیلی فوج کے اڈوں اور فوجی چوکیوں کے انتہائی قریب واقع ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان ملیشیاؤں کے پاس اپنے مخصوص مواصلاتی کوڈز بھی موجود ہیں جبکہ فوجی بریفنگ کے نقشوں پر ان کے ٹھکانوں کی نشاندہی کی جاتی ہے اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز کے اندر قابض فوج اس بات کا خاص خیال رکھتی ہے کہ ان کے کارندوں کے ٹھکانوں کا درست تعین کیا جا سکے۔
متعدد مقامات پر سیمنٹ کے بلاکس اور مورچے نظر آئے ہیں جو بالکل ویسے ہی ہیں جیسے قابض اسرائیلی فوج کے فوجی اڈوں کی حفاظت کے لیے استعمال ہوتے ہیں جبکہ فوجیوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ ان ملیشیاؤں کے لیے عارضی رہائشی کمپلیکس بنائے گئے ہیں جن میں کاروان بھی نصب کیے گئے ہیں۔
ابو شباب کا کمپلیکس بڑھتی ہوئی پشت پناہی کا ایک نمایاں نمونہ
یہ رپورٹ خصوصی طور پر رفح کے مشرقی علاقے میں واقع یاسر ابو شباب نامی ملیشیا کے کمپلیکس کو اجاگر کرتی ہے جہاں سیٹلائٹ تصاویر سے بہت کم عرصے کے اندر اس جگہ پر ہونے والی خطرناک ترقی صاف دیکھی جا سکتی ہے۔
اس مقام پر جدید انجینئرنگ کے کام، ایک نئے میدان کی شاندار پختگی، ایئرکنڈیشنڈ کاروانوں کے علاوہ بچوں کے کھیل کا میدان، ایک مسجد، گروسری کی دکان اور کپڑوں کا ایک شوروم جیسی تمام سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
الشجاعیہ کے علاقے میں اخبار نے ایک مسلح ملیشیا کی طرف سے بچوں کو چھوٹی اور رنگ برنگی الیکٹرک بائیکس تقسیم کرنے کے مکروہ عمل کو دستاویزی شکل دی ہے جبکہ قابض فوج کے ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ ان گروہوں تک پہنچنے والا عسکری سازوسامان براہ راست قابض اسرائیل سے آتا ہے۔
یہ تمام گھناؤنے حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جہاں ایک طرف غزه کے عام باسی خوفناک انسانی بحران اور بنیادی ضروریات کی شدید ترین قلت کا شکار ہیں وہیں دوسری طرف ان غدار ملیشیاؤں کے لیے مال و دولت اور وسائل کے نہ ختم ہونے والے انبار کھول دیے گئے ہیں۔
حماس کے خلاف جنگ سے لے کر معصوم شہریوں کی جبری نقل مکانی تک
روزنامہ ’ہآرٹز‘ کی فراہم کردہ ان تمام خوفناک معلومات میں سب سے زیادہ بھیانک اور خطرناک بات یہ ہے کہ ان ملیشیاؤں کی سرگرمیاں صرف ’حماس‘ کے خلاف محاذ آرائی تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ فلسطینی ذرائع اور اقوام متحدہ کی اطلاعات کے مطابق یہ مکروہ عناصر غزه کے باسیوں کو زبردستی ان کے گھروں سے بے دخل کرنے اور ان کی جبری نقل مکانی کی سیاہ کارروائیوں میں بھی پوری طرح ملوث ہیں۔
رپورٹ میں پیش کی جانے والی ایک آڈیو ریکارڈنگ میں علاقے کے ایک ملیشیا کمانڈر کا یہ گھناؤنا بیان بھی موجود ہے کہ وہ قابض اسرائیلی فریق کی طرف سے یہ واضح پیغام پہنچا رہا ہے کہ اس پورے علاقے کو فوری طور پر خالی کر دیا جائے۔
اقوام متحدہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کو مسلح افراد کی طرف سے اپنے علاقے چھوڑنے کے احکامات ملے ہیں جبکہ بعض دیگر افراد کو ایسے نامعلوم افراد کی طرف سے دھمکیاں آمیز ٹیلی فون کالز موصول ہوئیں جنہوں نے خود کو قابض فوج کے کارندے ظاہر کیا اور انہیں علاقہ چھوڑنے کے لیے انتہائی مختصر مہلت دی۔
یوں یہ ملیشیاؤں کے غدار ٹولے اس منظم میدانی دباؤ کا ایک مکروہ حصہ بن چکے ہیں جو قابض فوج کی وحشیانہ عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ معصوم شہریوں کو ان کے اپنے گھر بار سے بے دخل کرنے کے لیے پوری قوت سے استعمال کیا جا رہا ہے۔
لوٹ مار اور گھروں کو نذر آتش کرنے کی ہولناک شہادتیں
ان اعداد و شمار میں قابض دشمن کے ان مددگار مسلح غنڈوں کی طرف سے غزه کے باسیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم، فائرنگ، لوٹ مار اور گھروں کو نذر آتش کرنے کے ناقابل تردید شواهد بھی شامل ہیں۔
اخبار ’ہآرتس‘ نے قابض فضائیہ کے ایک غدار افسر کا یہ بیان بھی نقل کیا ہے کہ اس نے انٹیلی جنس اور حملوں کے لیے مخصوص ایک ڈرون کے ذریعے شاباک کے ایک کارندے کی موجودگی میں اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح مسلح افراد چھوٹی ٹرکوں میں سوار ہو کر آئے، انہوں نے نہتے شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کی اور پھر عمارتوں میں گھس کر قیمتی سامان لوٹنے کے بعد ان کے گھروں کو آگ لگا دی۔
اس ہولناک شہادت سے اس مکروہ کردار پر سے سے پردہ اٹھ جاتا ہے جو یہ غدار گروہ ادا کر رہے ہیں اور اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آیا یہ لوگ واقعی صرف حماس کے خلاف کوئی مسلح قوت ہیں یا غزه کے ان مخصوص علاقوں میں ایک نئی خوفناک سیکیورٹی اور معاشرتی حقیقت مسلط کرنے کا آلہ کار بن چکے ہیں۔
ایک ایسا منصوبہ جس کا آغاز ابتدائی ایام سے ہوا
تحقیقاتی رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کا مقابلہ کرنے اور غزه کی پٹی کا انتظام چلانے کے لیے حماس کے متبادل کے طور پر مقامی غدار گروہوں کو استعمال کرنے کا گھناؤنا اسرائیلی منصوبہ جنگ کے انتہائی ابتدائی مراحل ہی سے شروع ہو چکا تھا، خاص طور پر اس وقت جب قابض اسرائیلی حکومت نے فلسطینی اتھارٹی کی غزه میں واپسی سے سختی سے انکار کر دیا تھا۔
سنہ 2025ء کے مہینے میں قابض اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتنياهو نے کھل کر اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ غزه میں سیکیورٹی اداروں کی سفارشات کی روشنی میں ان کے غدار ملیشیاؤں کو فعال کر دیا گیا ہے جو حماس کی مخالفت کرتے ہیں۔
تاہم اس شیطانی منصوبے کو دراصل اکتوبر سنہ 2025ء کی نام نہاد جنگ بندی کے بعد اس وقت عروج ملا جب غزه کی پٹی کو دو الگ تھلگ اثر و رسوخ والے حصوں میں بانٹ دیا گیا جہاں قابض افواج نے پٹی کے آدھے سے زیادہ حصے پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے جبکہ باقی علاقے اب بھی مزاحمتی دائرہ اختیار میں ہیں۔
پانچ مسلح گروہ جو پوری پٹی میں پھیلائے گئے ہیں
اس تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق غزه کی پٹی کے مختلف علاقوں میں پانچ نمایاں مسلح گروہ دندناتے پھر رہے ہیں جن میں بیت حانون، الشجاعیہ، دیر البلح، خان یونس اور رفح کے علاقے شامل ہیں اور ذرائع کے مطابق ان میں سے بعض گروہوں کے پاس سینکڑوں مسلح دہشت گرد موجود ہیں۔
یہ بدمعاش گروہ نام نہاد ’پیلی لائن‘ کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے اس پوزیشن سے فائدہ اٹھاتے ہیں جہاں سے وہ قابض فوج کے زیر کنٹرول علاقوں سے نکل کر آسانی کے ساتھ ان علاقوں کی طرف بڑھ سکتے ہیں جہاں اب بھی حماس کا غلبہ قائم ہے۔
گذشتہ مہینوں کے دوران رفح، خان یونس اور وسطی پٹی کے کیمپوں میں ان ملیشیاؤں کے کارندوں اور اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے شیر دل مجاہدین کے درمیان شدید خونریز جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں بعض مسلح گروہوں نے حماس کے چند افراد کو شہید کرنے اور ان کے ہتھیاروں پر قبضہ کرنے کے جھوٹے دعوے بھی کیے۔
ایک اور ناپاک مشن: گرا ہوا جنگی سامان اور ڈرونز کی بازیابی
ان غدار گروہوں کے ذمہ لگائے جانے والے فرائض صرف براہ راست لڑائی تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ قابض فوجیوں نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ان بدمعاش عناصر کو ان دشوار گزار علاقوں میں گھسنے کے لیے مامور کیا گیا ہے جہاں تک قابض فوج کی رسائی نہیں ہوتی تاکہ وہ سمگلنگ یا جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والی گرا ہوا یا اتاری گئی ڈرون طائروں اور دیگر آلات کو چن کر باہر لائیں۔
فضائیہ کے ایک غدار افسر نے اخبار کو بتایا کہ واضح ہدایات یہ ہوتی تھیں کہ ڈرون کو اور اس کے ساتھ موجود ہر قسم کے سامان کو باحفاظت واپس لایا جائے، خواہ اس کی کھیپ میں اسلحہ ہو یا منشیات۔
اس ذلیل مشن سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ قابض اسرائیل ان ملیشیاؤں پر کتنا زیادہ انحصار کرتا ہے تاکہ وہ ایسے علاقوں میں اپنے کالے کرتوت جاری رکھ سکے جہاں فوج براہ راست جانے کی ہمت نہیں رکھتی۔
ایسی ملیشیاؤں جن کے پاس حکومت چلانے کی کوئی سکت نہیں
اگرچہ ’ہآرٹز‘ نے ان غدار گروہوں کو فراہم کی جانے والی بھرپور مدد کا تفصیلی ذکر کیا ہے تاہم قابض فوج اور سیکیورٹی اداروں کے اعلیٰ ترین عہدیدار خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان گروہوں کی صلاحیتیں نہایت محدود ہیں۔
رپورٹ میں ایک بڑے غاصب فوجی افسر کا یہ بیان درج ہے کہ یہ ملیشیاؤں حماس سے غزه کی پٹی کا کنٹرول چھیننے کی بالکل صلاحیت نہیں رکھتیں اور وہ قابض اسرائیلی فوج کے تحفظ اور مدد کے بغیر عسکری میدان میں ایک گھنٹہ بھی ٹک نہیں سکتیں۔
یہی وجہ ہے کہ قابض فوج اس گھناؤنے استعمال کو ایک عارضی، وقتی حل اور ایک ’آپریشنل مجبوری‘ قرار دیتی ہے، نہ کہ حماس کا کوئی مستقل سیاسی یا حکومتی متبادل پیدا کرنے کا جامع منصوبہ۔
تاہم اس تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آنے والے زمینی حقائق اس سے کہیں زیادہ خطرناک سوال کو جنم دیتے ہیں: کیا یہ غدار گروہ قابض اسرائیل کی مسلسل پشت پناہی کے بل بوتے پر غزه کے مخصوص علاقوں میں مستقل طور پر اثر و رسوخ چلانے اور زمینی حقائق کو مسخ کرنے کا مستقل آلہ کار بن جائیں گے؟
ایک ایسا منصوبہ جو فوجی مجبوری اور سیاسی مفادات کے درمیان جھول رہا ہے
خلاصہ یہ کہ روزنامہ ’ہآرتس‘ کی یہ ہولناک تحقیقاتی رپورٹ ایک ایسے مذموم مکینیکل گٹھ جوڑ کی تصویر کشی کرتی ہے جو خالصتاً باہمی مفادات پر مبنی ہے: ملیشیاؤں کو قابض دشمن کی طرف سے فولادی تحفظ، ہتھیار، لاجسٹک امداد اور دندناتے پھرنے کی کھلی چھوٹ ملتی ہے جبکہ اس کے بدلے میں غاصب اسرائیل کو ایک مقامی مسلح آلہ کار مل جاتا ہے جو حماس کے خلاف میدانی غلاظت صاف کرتا ہے اور ایسے علاقوں میں اپنے مذموم مقاصد پورے کرتا ہے جہاں فوج جانے سے کتراتی ہے۔
مگر یہ شیطانی مساوات اپنے اندر انتہائی بھیانک خطرات رکھتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب معصوم شہریوں پر گولیاں برسانے، املاک لوٹنے، گھروں کو نذر آتش کرنے اور جبری نقل مکانی کرانے میں ان ملیشیاؤں کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواهد سامنے آ چکے ہیں۔
اس تمام تناظر میں یہ غدار ملیشیاؤں کا قصہ غزه کی جنگ کا کوئی عام سا ذیلی باب نہیں ہے بلکہ یہ اس وسیع تر سازش کا ایک حصہ ہے جس کا مقصد مقامی مسلح غنڈوں اور غداروں کی مدد سے غزه کی پٹی میں طاقت کے توازن کو جبراً تبدیل کرنا ہے۔
چونکہ خود قابض فوج یہ تسلیم کرتی ہے کہ یہ بدمعاش عناصر اسرائیلی تحفظ کے بغیر حماس کے سامنے ایک پل بھی نہیں ٹک سکتے لہٰذا اس گھناؤنے منصوبے کا مستقبل اب عسکری صلاحیت سے زیادہ سیاسی فیصلوں سے جڑا ہوا ہے، بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے غاصب اسرائیل پر ڈالی جانے والی ممکنہ دباؤ کی پالیسی اور نیتن یاھو حکومت کے اس عزم پر کہ وہ اس راستے پر مزید کتنی دور تک جانا چاہتی ہے یا غزه کے انتظام کے لیے کوئی اور نیا حیلہ تراشنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
