Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کا پھیلاؤ، علاقے ’الف‘ اور ’ب‘ بھی نشانے پر

مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض صہیونی اخبار روزنامہ ’ہآرٹز‘ کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری کی پالیسی میں ایک خطرناک اور نمایاں تبدیلی کو بے نقاب کرتے ہیں جہاں یہودی آباد کاروں نے فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام علاقوں ’الف‘ اور ’ب‘ کے اندر نئی غیر قانونی بستیوں کے قیام کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ یہ رجحان قابض اسرائیل کے اس سرکاری بیانیے کو بالکل جھوٹا ثابت کرتا ہے جس میں وہ ان تمام مذموم کارروائیوں کو ’متشدد یہودی آباد کاروں کے چند افراد‘ کی انفرادی کارروائیاں قرار دیتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گذشتہ ڈھائی برسوں کے دوران فلسطینی اتھارٹی کے زیر کنٹرول علاقوں میں کم از کم 30 نئی یہودی بستیاں قائم کی گئی ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق علاقہ ’ب‘ سے ہے جبکہ کم از کم ایک بستی علاقہ ’الف‘ زون کے اندر بنائی گئی ہے جہاں اوسلو معاہدے کے تحت سکیورٹی اور انتظامی اختیارات مکمل طور پر فلسطینی اتھارٹی کے پاس ہیں۔

روزنامہ ’ہآرٹز‘ نشاندہی کرتا ہے کہ یہ غیر قانونی بستیاں انتہائی حساس اور تزویراتی مقامات پر تعمیر کی گئی ہیں جن میں پہاڑوں کی چوٹیوں کے علاوہ سڑکوں کے قریب اور فلسطینی بستیوں اور ان کے رہائشی پھیلاؤ کے علاقے شامل ہیں۔ اس گھناؤنے اقدام کا مقصد یہودی آباد کاروں کو فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنے اور ان کے جغرافیائی و رہائشی پھیلاؤ کو ہندسی طریقے سے روکنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

بستیوں کے حوالے سے پالیسی میں خوفناک تبدیلی

’الف‘ اور ’ب‘ زون مغربی کنارے کے کل رقبے کا تقریبا 40 فیصد حصے پر محیط ہیں جہاں اوسلو معاہدے کے وقت سے ہی تمام تر انتظامی اختیارات فلسطینی اتھارٹی کے پاس چلے آ رہے تھے۔

اخبار ی کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2024ء تک قابض اسرائیل نے ان دونوں علاقوں میں کبھی بھی کوئی یہودی بستی قائم نہیں کی تھی اور اس کی نام نہاد سول ایڈمنسٹریشن بھی ہمیشہ یہی کوشش کرتی تھی کہ یہودی آباد کار ’ج‘ سے نکل کر علاقہ ’ب‘ میں قدم نہ رکھ سکیں۔

تاہم موجودہ بزدل مجرم بنجمن نیتن یاھو کی حکومت کے دور میں اس المناک حقیقت نے بالکل نیا رخ اختیار کر لیا ہے اور اب نئی یہودی بستیاں ان علاقوں میں دندناتے ہوئے قائم کی جا رہی ہیں جو پہلے باقاعدہ یہودی آباد کاری کے دائرہ کار سے باہر سمجھے جاتے تھے۔

نابلس کے جنوب میں واقع قصبہ قصرہ کے مکین اخبار کو بتاتے ہیں کہ یہودی آباد کاروں نے ’ب‘ زون کے اندر تقریباً دو کلومیٹر اندر کی طرف ایک پہاڑ کی چوٹی پر ’تل تلبوت‘ کے نام سے ایک نئی بستی بسا دی ہے۔

قصبے کے ایک باسی کا کہنا ہے کہ یہودی آباد کار معصوم فلسطینیوں کے گھروں کے بالکل قریب مسلسل گشت کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے مقامی شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل چکا ہے کیونکہ یہودی آباد کار اب بستی کے اندرونی حصوں تک پہنچنے لگے ہیں۔

قابض فوج کا قانون شکنی کا اعتراف مگر بستیوں کا تسلسل جاری

اگرچہ یہ غاصبانہ بستیاں بدستور قائم ہیں لیکن اخبار ’ہآرٹز‘ نے قابض اسرائیل کی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر آوی بلوٹ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ انہوں نے ایک حالیہ کانفرنس میں اعتراف کیا تھا کہ ’الف‘ اور ’ب‘ زونز میں بستیوں کا قیام قانون اور حکومتی ہدایات کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس وقت ’علاقہ الف اور ب میں کوئی بھی بستی موجود نہیں ہے‘۔

تاہم اخبار اس دوغلے بیان اور ان وزراء اور کِنیسٹ کے اراکین کی کھلی حمایت کے درمیان واضح تضاد کو عیاں کرتا ہے جو ان علاقوں کے اندر یہودی آباد کاروں کی سرگرمیوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔

قابض اسرائیلی فوج نے جنوری کے مہینے میں اعلان کیا تھا کہ 42 یہودی بستیاں سیاسی قیادت کی منظوری کے بغیر تعمیر کی گئی ہیں اور یہی غیر قانونی بستیاں مغربی کنارے میں ہونے والے تقریبا 90 فیصد یہودی آباد کاروں کے حملوں کی براہ راست ذمہ دار ہیں۔

اسی طرح ’یش دین‘ نامی تنظیم کی ایک رپورٹ سے یہ خوفناک حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ ان میں سے بڑی تعداد میں حملے علاقے ’الف‘ اور ’ب‘ کے اندر ہی کیے گئے جس سے قابض اسرائیل کے ان دعوؤں کی قلعی کھل جاتی ہے جو وہ قانون پر عمل درآمد کے لیے کرتا ہے۔

’الف‘ کے اندر یہودی بستی کا قیام

یہ غاصبانہ پھیلاؤ صرف علاقہ ’ب‘ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ سنجل کے جنوب میں گذشتہ برس ’ہارکيز‘ کے نام سے ایک اور بستی بھی قائم کر دی گئی ہے جو روزنامہ ’ہآرتس‘ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک علاقہ ’الف‘ کے اندر واحد معلوم بستی ہے۔

اس بستی کو اس لحاظ سے انتہائی خطرناک اور اہم حیثیت حاصل ہے کہ یہ ایسے علاقے میں واقع ہے جہاں سیکیورٹی کے تمام تر اختیارات بھی باضابطہ طور پر فلسطینی اتھارٹی کے پاس ہیں۔

اس بستی کے قیام کے چند ہفتوں بعد ہی ایک قریبی قصبے میں اپنے خاندان سے ملنے والے ایک امریکی شہری سیف اللہ موسلت کو بزدلانہ طریقے سے شہید کر دیا گیا جبکہ جولائی کے مہینے میں جب غیر ملکی صحافی اس مقام کا دورہ کرنے گئے تو یہودی آباد کاروں نے ان پر بھی شدید حملہ کر دیا۔

نئی 100 بستیوں کے قیام کے لیے خطرناک پکار

یہ شیطانی کھیل صرف یہودی آباد کاروں کی میدانی سرگرمیوں پر ہی ختم نہیں ہوتا بلکہ رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اسے قابض اسرائیلی حکومتی اتحاد کے اندر سے بھی گہرا سیاسی تعاون حاصل ہے۔

کِنیسیٹ کے اندر ’ہم گھر واپس لوٹتے ہیں‘ نامی فورم کے زیر اہتمام ہونے والی ایک کانفرنس میں جس کا عنوان ’کھلے علاقوں پر کنٹرول‘ تھا، تمام منتظمین نے کِنیسیٹ کے کئی ارکان کی موجودگی میں مطالبہ کیا کہ علاقہ ’الف‘ اور ’ب‘ کے اندر مزید 100 نئی یہودی بستیاں آباد کی جائیں۔

کِنیسیٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ تسوی فوغل نے بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے زیر کنٹرول علاقوں پر قبضہ کسی قانون سازی یا تقریروں کے ذریعے نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے کیا جانا چاہیے اور انہوں نے فورم کے اراکین کو ہدایت کی کہ وہ اپنی گھناؤنی مہم جاری رکھیں اور کسی کو بھی اپنے راستے میں رکاوٹ نہ بننے دیں۔

رپورٹ کے مطابق اس فورم کی بنیاد دو سوگوار والدین نے رکھی تھی اور اس کا مکروہ منصوبہ یہ ہے کہ زمینوں پر قبضہ کر کے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کا ایک مربوط اور متصل سلسلہ قائم کیا جائے۔

یہ فورم فخریہ انداز میں کہتا ہے کہ اس کا یہ شیطانی منصوبہ حکومت کے وزراء اور بزدل وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے قریبی ساتھیوں کے سامنے پیش کیا جا چکا ہے اور اسے مالیاتی وزیر بزلئیل سموٹريچ کی طرف سے بھرپور حمایت حاصل ہے۔

آباد کاری کا ایسا پھیلاؤ جو علاقہ ’ج‘ کی حدود سے بھی آگے نکل چکا ہے

یہ تمام تلخ حقائق یہ بات عیاں کرتے ہیں کہ مغربی کنارے میں جاری یہودی آباد کاری اب صرف علاقہ ’ج‘ تک محدود نہیں رہی جو مغربی کنارے کا تقریبا 60 فیصد حصہ ہے اور قابض اسرائیل کی وسیع تر فوجی کنٹرول میں ہے، بلکہ اب یہ ان علاقوں کی طرف بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے جو سرکاری طور پر فلسطینی اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان نئی بستیوں کے لیے مقامات کا انتخاب کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ انہیں انتہائی بلند مقامات، سڑکوں کے قریب اور فلسطینی بستیوں کے بالکل پاس جان بوجھ کر چنا جا رہا ہے تاکہ یہودی آباد کاروں کو میدانی حقائق مسخ کرنے اور فلسطینیوں کی نقل و حرکت نیز ان کے وسعت کے دائرے کو مکمل طور پر قابو کرنے میں غاصبانہ برتری حاصل ہو سکے۔

اگرچہ قابض اسرائیلی فوج یہ ڈھونگ رچاتی ہے کہ علاقہ ’الف‘ اور ’ب‘ میں بستیوں کا قیام قانون کے خلاف ہے لیکن ان کا مسلسل قائم رہنا اور وزراء اور کِنیسیٹ کے اراکین کی طرف سے ملنے والی سیاسی پشت پناہی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سرکاری دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔

یوں یہ نئی یہودی بستیاں مغربی کنارے میں جاری غاصبانہ تسلط کے راستے میں ایک اور سیاہ باب کا اضافہ کر رہی ہیں اور یہ محض زمینی قبضے کی کہانی نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد ان علاقوں کے اندر مستقل موجودگی مسلط کرنا ہے جو اوسلو معاہدے کے تحت فلسطینی اتھارٹی کے پاس ہونے چاہیے تھے تاکہ مغربی کنارے کی جغرافیائی اور آبادیاتی حالت کو ہمیشہ کے لیے تباہ کیا جا سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan