غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی کے معصوم بچوں کی طرف سے اڑائے جانے والے کاغذی جہازوں (پتنگوں) کے حوالے سے قابض اسرائیل کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں نے یورپ میں سخت تنقید کی لہر دوڑا دی ہے، جو جنیوا میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر تک جا پہنچی ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب قابض اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور وزیر جنگ یسرائیل کاٹز نے ڈرونز اور غباروں کے ساتھ ساتھ ان کاغذی جہازوں کے “منسلک مقامات” پر فوجی حملوں میں شدت لانے اور جبری انخلاء کے آپریشنز نافذ کرنے کی دھمکیاں دی ہیں۔
مشترکہ بیان اور کشیدگی کی دھمکی
ہفتے کے آغاز میں جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں بنجمن نیتن یاھو اور یسرائیل کاٹز نے اعلان کیا کہ قابض اسرائیلی فوج کاغذی جہازوں کے اڑائے جانے والے علاقوں میں اپنے حملےتیز کرے گی، ساتھ ہی وہاں کے رہائشیوں کو نکال باہر کرنے کی دھمکی بھی دی۔ یہ اعلان ایک ایسے سکیورٹی اجلاس کے بعد سامنے آیا جس میں سینئر اسرائیلی فوجی اور سکیورٹی کمانڈرز شریک تھے، جن میں چیف آف سٹاف ایال زامیر بھی شامل تھے۔
اسرائیلی میڈیا کے ذرائع کے مطابق گذشتہ چند دنوں کے دوران غزہ کی سرحد کے قریب تقریباً دس کاغذی جہاز برآمد کیے گئے اور فوج نے ان میں سے ایک کو فائرنگ کر کے گرا دیا۔
اگرچہ قابض فوج نے خود بھی متعدد رپورٹس کے مطابق اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کاغذی جہازوں میں کسی قسم کا دھماکہ خیز یا خطرناک مادہ موجود نہیں تھا اور یہ بے گھر افراد کے خیموں میں بچوں کے ہاتھ کے بنے ہوئے ہیں، لیکن اس کے باوجود قابض صہیونی لیڈروں نے انہیں پٹی میں دھمکیوں اور کشیدگی پھیلانے کا بہانہ بنا لیا ہے۔
یہ دھمکیاں گذشتہ دنوں کے دوران شدید اسرائیلی فضائی حملوں کے ساتھ جڑی رہیں جن کے نتیجے میں اڑتالیس گھنٹوں سے بھی کم وقت میں پندرہ سے زائد فلسطینی شہید ہوئے۔
اقوام متحدہ: گھناؤنی دھمکی
جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کی ترجمان راوینا شمداسانی نے اسرائیلی دھمکیوں کو ”گھناؤنا“ اقدام قرار دیا۔ انہوں نے صحافیوں کے لیے اپنے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ وہ یہ توقع رکھتی ہیں کہ ”ہر کوئی اس بات پر متفق ہوگا کہ یہ معاملہ انتہائی گھناؤنا ہے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی قیادت کی طرف سے جو کچھ جاری کیا گیا ہے وہ بیانات کے ایک سلسلے کی صرف آخری کڑی ہے، اور اس بات کی تصدیق کی کہ کمشنر کا دفتر ”ابھی تک اسرائیلی حکام کی اعلیٰ ترین سطحوں سے ناقابل قبول بیان بازی دیکھ رہا ہے، جو بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کی مکمل حقارت کا اظہار کرتی ہے، اور ہولناک جرائم کی حد تک پہنچنے والے تشدد پر ابختی ہے۔“
انہوں نے دنیا کے ممالک سے ایک بار پھر یہ مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے مکمل نفاذ اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کا محاسبہ کرانے کے لیے دباؤ ڈالیں۔
یورپی اداروں اور پریس کا ردعمل
اقوام متحدہ کے اس موقف کے ساتھ ہی یورپی اداروں اور یکجہتی تنظیموں کی طرف سے وسیع پیمانے پر ردعمل سامنے آیا:
آئرلینڈ میں ”صدقہ – آئرلینڈ فلسطین الائنس“ (Sadaka – Ireland Palestine Alliance) نامی اتحاد نے اس فائل کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور اس خصوصی اسرائیلی سکیورٹی اجلاس کا ذکر کیا جو ان ”کاغذی جہازوں“ کے بارے میں منعقد ہوا تھا جن سے نمٹنے کی دھمکی اسرائیلی حکام نے ڈرون طیاروں کی طرح دینے کا اعلان کیا تھا۔
فرانس میں ”انٹرنیشنل سالیڈیرٹی موومنٹ – فرانس“ (ISM-France) نے ”جنگی وزیر اور نیتن یاھو کاغذی جہازوں کی وجہ سے غزہ کو دھمکی دے رہے ہیں“ کے عنوان سے ایک مقالہ شائع کیا، جس میں یہ سمجھا گیا کہ یہ دھمکیاں اس بات کو بے نقاب کرتی ہیں کہ کس طرح اسرائیل غزہ میں جاری قتل عام کو جائز قرار دینے کے بہانے تراش رہا ہے، اور یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسرائیلی انتخابی تقریبات قریب آ رہی ہیں۔
کئی یورپی میڈیا پلیٹ فارمز، جن میں اطالوی ذرائع بھی شامل ہیں نے اس کہانی کو ان عنوانات کے تحت کور کیا جن میں اسرائیل کی نظر میں بچوں کے کھیل کو ”جنگی عمل“ میں بدلنے کو بیان کیا گیا، اور اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا کہ جن جہازوں کی جانچ پڑتال کی گئی ان میں کاغذ اور لکڑی کی تیلیاں کے سوا کچھ نہیں تھا، اور اس میں کسی قسم کا خطرناک مادہ نہیں پایا گیا، نیز اس کشیدگی کے ساتھ ہونے والے فضائی حملوں میں چار سالہ بچے کی شہادت کا بھی ذکر کیا گیا۔
فلسطینی امور میں دلچسپی رکھنے والے دیگر فرانسیسی اداروں اور پلیٹ فارمز نے بھی اس فائل کی پیروی کی اور کارکنوں اور تجزیہ کاروں کے موقف نقل کیے جنہوں نے یہ مانا کہ ”کاغذی جہازوں“ کے بارے میں اسرائیلی سکیورٹی بیانیہ میدانی معائنے سے سامنے آنے والی حقیقت کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔
حماس کا موقف
اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے قابض اسرائیل کی طرف سے ان جھوٹے دعوؤں اور دھمکیوں کی خطرناک نوعیت سے خبردار کیا ہے جنہیں وہ نام نہاد ”کاغذی جہازوں کا اڑایا جانا“ قرار دیتا ہے، جو کہ حقیقت میں بے گھر افراد کے خیموں میں بچوں کے محض کھلونے ہیں، جب کہ اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی کے تقریباً 70 فیصد اراضی پر قابض ہے۔
تحریک کے ترجمان حازم قاسم نے ایک پریس بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ بہانے تراشنے پر مبنی یہ دھمکیاں ہمارے عوام کے خلاف جارحیت اور خلاف ورزیوں کے تسلسل کو جائز قرار دینے کی ایک کوشش ہیں، جو غزہ کی پٹی کے بچوں کو دھمکانے تک جا پہنچی ہیں۔
انہوں نے امریکی انتظامیہ، درمیانی اور ضامن ممالک نیز امن کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ ہمارے عوام کے خلاف اپنی اس بے لگام جارحیت کو روکے، اور جنگ بندی کے راستے کو سبوتاژ کرنے کی اس کی کوششوں کو روکے، جس کی فلسطینی فریق مکمل طور پر پابندی کر رہا ہے۔
یہ سب کچھ ایک ایسے نازک ماحول میں ہو رہا ہے جو گذشتہ اکتوبر سے غزہ میں جاری ہے، جبکہ سرکاری ادارے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود روزانہ کی بنیاد پر بم فائرنگ کی ان خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دے رہی ہیں جن کا نشانہ شہری بنتے ہیں۔
