مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے منگل کے روز مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قلندیا کیمپ اور قصبہ کفر عقب پر دھاوا بول دیا۔ اس دوران سڑکوں اور محلوں میں فوجیوں اور جنگی گاڑیوں کی بھاری نفری تعینات رہی اور کفر عقب میں قائم اقوام متحدہ کے فلاحی ادارے ’انروا‘ سے وابستہ ایک کمپلیکس کو خالی کرانے کا آغاز کر دیا گیا۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض فورسز قلندیا کیمپ اور کفر عقب کی گلیوں اور کوچوں میں پھیل گئیں، چھاپے اور تلاشی کی کارروائیاں کیں اور متعدد شہریوں سے موقع پر ہی تفتیش کی۔
اس دھاوے میں قابض اسرائیل کا انتہا پسند وزیر قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر بھی شریک تھا جس نے بیان دیا کہ قابض حکام نے “عمارت کو خالی کرانے کا آپریشن” شروع کر دیا ہے اور یہ دعویٰ کیا کہ “بیت المقدس اور اسرائیل میں اس ایجنسی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔”
ذرائع نے مزید بتایا کہ قابض فورسز نے قلندیا انسٹی ٹیوٹ میں موجود چالیس ملازمین اور تمام افراد کو یرغمال بنا لیا اور انہیں تفتیش کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ قابض فورسز نے کفر عقب کے علاقے میں دیوارِ فاصل کے قریب متعدد شہریوں کے گھروں اور تنصیبات پر نوٹس بھی تقسیم کیے جبکہ اس دوران علاقے میں فوجی اقدامات کو مزید سخت کر دیا گیا۔
کفر عقب میں قابض فورسز نے ’انروا‘ سے وابستہ قلندیا ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے احاطے کو خالی کرا لیا اور اس کی تنصیبات کو مسمار کرنے کے اقدامات کا آغاز کر دیا ۔ مقبوضہ بیت المقدس میں انروا کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے مسلسل اقدامات کا حصہ ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے خبر دی تھی کہ قابض فورسز آج بیت المقدس میں انروا سے وابستہ ایک عمارت کو مسمار کرنے کا عمل شروع کریں گی۔ اس کمپلیکس میں تعلیمی، پیشہ ورانہ اور صحت سے متعلق تنصیبات شامل ہیں اور ’انروا‘ نے اس سے پہلے اس مقام پر اس کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے ایک اسرائیلی منصوبے سے خبردار کیا تھا اور یہ واضح کیا تھا کہ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ٹریننگ سینٹر کے بیشتر حصوں کو مسمار کرنا ضروری ہے۔
قلندیا اور کفر عقب پر یہ دھاوا اس کیمپ اور اس کے گردونواح کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کے تسلسل کے ساتھ سامنے آیا ہے جو ماہِ رواں کے آغاز میں کیمپ میں ایک وسیع فوجی آپریشن کے بعد سامنے آیا ہے جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر نقصان، گرفتاریاں اور تنصیبات و گھروں کی مسماری ہوئی تھی۔
یہ اقدامات مقبوضہ بیت المقدس گورنری میں انروا اور اس کے اداروں کے خلاف قابض دشمن کی طرف سے جاری کشیدگی کے فریم ورک کے تحت کیے جا رہے ہیں جو کہ پناہ گزینوں کو خدمات فراہم کرنے کے اس کے بین الاقوامی مینڈیٹ کے باوجود اس ایجنسی کے کام کو ختم کرنے اور اس کی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کرنے کی مسلسل اسرائیلی کوششوں کے تناظر میں ہیں۔
قابض حکام نے اس سے پہلے انروا کے کام کو نشانہ بنانے والے اقدامات کا ایک سلسلہ منظور کیا تھا جن میں اسے مقبوضہ علاقوں میں کام کرنے سے روکنا اور اسے دی جانے والی سہولیات اور مراعات کو ختم کرنا شامل ہے جو کہ ایک ایسا قدم تھا جس پر فلسطینیوں اور بین الاقوامی سطح پر شدید مذمت کی گئی تھی۔
