Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

غزہ

غزہ: الزیتون محلے میں ملبے تلے دبے 9 شہداء کی لاشیں برآمد

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں سول ڈیفنس (شہری دفاع) کا عملہ تباہ شدہ مکانات اور تنصیبات کے ملبے تلے دبی لاشوں اور باقیات کو تلاش کرنے اور نکالنے کے لیے ایک کٹھن مشن میں مصروف ہے، تاکہ ان قربانی دینے والوں کے جسدِ خاکی کو بازیاب کیا جا سکے جن کا انجام سالوں گزرنے کے باوجود ملبے کی تہہ میں چھپا ہوا ہے۔

شہری دفاع کے شعبہ انخلاء کے ذمہ دار محمد ابو دان نے بتایا کہ شہری دفاع کی ٹیمیں غزہ شہر کے جنوب میں واقع حیّ الزیتون میں سلمیٰ خاندان کے گھر کو نشانہ بنائے جانے کے تقریباً تین سال بعد وہاں سے 9 شہداء کی باقیات نکالنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔

محمد ابو دان نے وضاحت کی کہ حیّ الزیتون میں مسجد بدر کے قریب واقع سلمیٰ خاندان کے اس گھر کو 20 نومبر سنہ 2023ء کو نشانہ بنایا گیا تھا، اور اس وقت اس کے اندر 17 شہداء موجود تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حملے کے فوراً بعد اہل محلہ اور عزیز و اقارب 9 شہداء کو نکالنے میں کامیاب ہو گئے تھے، جبکہ 10 شہداء کے جسدِ خاکی گھر کے ملبے تلے ہی دبے رہ گئے تھے۔

انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ شہری دفاع کا عملہ اب تک لاپتہ افراد میں سے 7 شہداء کو نکالنے میں کامیاب ہو چکا ہے، جن میں 4 بچے اور دو ضعیف خواتین شامل ہیں، جبکہ 3 شہداء کے جسدِ خاکی اب بھی ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ہمارے پاس وسائل محدود ہیں اور ملبے کے پہاڑ بہت بڑے ہیں

شہری دفاع کی ٹیموں کو لاشیں نکالنے کے دوران شدید نوعیت کی مشکلات کا سامنا ہے، جن میں سب سے بڑی رکاوٹ بھاری مشینری اور آلات کی شدید قلت ہے، کیونکہ قطاع میں ضروری تخصصی آلات کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے۔

یہ ٹیمیں گھروں اور تنصیبات کی تباہی سے بننے والے سیکڑوں ٹن کنکریٹ اور ملبے کو اٹھانے کے لیے محض ایک ہی کھدائی کرنے والی مشین (ایکسکیویٹر) پر انحصار کر رہی ہیں، ایسے عالم میں کہ تلاش کا دائرہ کار ہزاروں ٹن ملبے پر مشتمل وسیع مقامات تک پھیلا ہوا ہے۔

حملوں کو طویل مدت گزرنے کے بعد لاشوں کا گل سڑ جانا بھی انخلاء کے عمل کو مزید مشکل بنا دیتا ہے، کیونکہ کئی صورتوں میں وہ ایسی باقیات میں تبدیل ہو جاتی ہیں جن تک پہنچنے اور انہیں نکالنے کے لیے انتہائی باریک بین دستی کارروائیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

شہری دفاع کا عملہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران مسلسل خطرات کی زد میں رہتا ہے، کیونکہ تلاش، بچاؤ اور شہداء کے جسدِ خاکی نکالنے کے اس عمل میں اس کے درجنوں اہلکار شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔

شہری دفاع کی ٹیمیں بین الاقوامی کمیٹی برائے صلیبِ احمر کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت 800 گھنٹے کے کام پر مبنی ایک معاون پروجیکٹ کے دائرے کار میں یہ انخلا کا کام انجام دے رہی ہیں، جو قطاع کے مختلف حصوں میں جنگ کی طرف سے چھوڑ دی گئی تباہی کے ہولناک حجم کے مقابلے میں ایک انتہائی محدود استطاعت ہے۔

ایک رہائشی مربع کے ملبے تلے دفن 308 شہداء

غزہ شہر کے جنوب میں واقع الصبرہ میں شہری دفاع کی ٹیموں نے اگست کے آغاز میں بیک وقت کی جانے والی سب سے بڑی انخلاء کی کارروائیوں میں سے ایک کو ریکارڈ کیا، جو 22 نومبر سنہ 2023ء کو ابو شریعہ اور الحسین نامی خاندانوں کے ایک رہائشی مربع کو نشانہ بنائے جانے کے بعد عمل میں آئی تھی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس ہدف بنائے جانے کے نتیجے میں تقریباً 308 افراد شہید ہو گئے تھے، جن میں چھ سال سے کم عمر کے 44 بچے اور 37 خواتین بھی شامل تھیں، جب کہ آتشیں پٹیوں نے اس پورے رہائشی مربع کو مکمل طور پر مسمار کر کے شہداء کو ملبے تلے دبا دیا تھا۔

باقیات نکالنے کا یہ عمل 17 دن تک جاری رہا، جس دوران ٹیمیں 112 شہداء کی باقیات نکالنے میں کامیاب ہو گئیں، جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دونوں خاندانوں سے تعلق رکھنے والے 196 شہداء کی باقیات اب بھی ملبے تلے موجود ہیں۔

ابو شریعہ خاندان کی خواہش پر ان 112 شہداء کی باقیات کو ہسپتالوں میں محفوظ رکھا گیا تاکہ ان کا اجتماعی جنازہ ان کے تباہ شدہ گھروں کے ملبے کے اوپر سے شروع ہونے والے جلوس کے ساتھ اکٹھے ہی اٹھایا جا سکے۔

ملبے تلے ہزاروں لاپتہ افراد

غزہ میں شہری دفاع اور سرکاری طبی اداروں کے تخمینے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تقریباً 10 ہزار سے 15 ہزار افراد لاپتہ ہیں، جن کے بارے میں یہ گمان کیا جاتا ہے کہ ان کے جسدِ خاکی اور باقیات غزہ کے مختلف علاقوں میں تباہ شدہ مکانات اور تنصیبات کے ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔

مسلسل جاری انخلاء کا یہ عمل ایک ایسے المیے کو بے نقاب کرتا ہے جو بمباری کے تھمنے سے ختم نہیں ہوتا، کیونکہ فلسطینی خاندان اب بھی اپنے بیٹوں اور بچوں کے جسدِ خاکی کو واپس پانے اور انہیں دفنانے کے منتظر ہیں، جبکہ شہری دفاع کی ٹیمیں ملبے کے عظیم پہاڑوں اور محدود وسائل کے سامنے کھڑی ہو کر ان لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں جنہیں برسوں سے ملبے نے نگل رکھا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan