ادلب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے شمال مغربی علاقے ادلب کے دیہی علاقوں میں واقع ابو الظهور ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے والے قابض اسرائیل کے فضائی حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے.اسے شامی عرب جمہوریہ کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی اور خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک خطرناک خطرہ قرار دیا ہے۔
تحریک کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ شامی سرزمین کو نشانہ بنانا قابض حکومت کی طرف سے خطے کے ممالک اور ان کے عوام کے خلاف مسلط کردہ منظم ریاستی دہشت گردی کی ایک اور مکروہ مثال ہے، جو کہ ملک کی خودمختاری اور اس کی سرزمین کے تقدس کی کھلی پامالی ہے۔
اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے قابض اسرائیل کی طرف سے جاری غنڈہ گردی کی پالیسی، علاقائی ممالک پر حملوں اور ان کی خودمختاری کی پامالی کے سنگین نتائج سے خبردار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان جارحانہ کارروائیوں کا جاری رہنا خطے کو مزید کشیدگی اور عدم استحکام کی طرف دھکیل دے گا۔
جماعت نے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کو رکوانے کے لیے فوری اقدامات کرے، جاری سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، اور قابض ریاست پر اس کے حملے بند کرنے کے لیے مؤثر دباؤ ڈالنے کی غرض سے عملی لائحہ عمل اختیار کرے۔
’حماس‘ نے ان پامالیوں میں ملوث اسرائیلی ذمہ داروں کو بین الاقوامی عدالتوں کے کٹہرے میں لانے اور ان کا محاسبہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس امر پر زور دیا کہ ریاستوں کی خودمختاری اور خطے کے عوام کے امن کو نشانہ بنانے والی جارحیت کا فوری سدباب کیا جائے۔
’حماس‘ کا یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قابض اسرائیل نے ادلب کے دیہی علاقے میں ابو الظهور ایئرپورٹ پر بمباری کی ہے، جو کہ شام کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے تسلسل اور خطے کے امن و استحکام پر ان کے تباہ کن اثرات کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔
