Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

غزہ

غزہ کا بگڑتا انسانی بحران، قومی کمیٹی فوری طور پر ذمہ داریاں سنبھالے: سرکاری میڈیا

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں سرکاری میڈیا آفس نے قومی کمیٹی برائے انتظامِ پٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر حاضر ہو کر اپنے فرائض کا آغاز کرے، کیونکہ مسلسل محاصرے، سرحدی گزرگاہوں کی بندش اور تعمیر نو کی کوششوں میں تاخیر کی وجہ سے انسانی المیہ سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔

آفس نے ایک پریس بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ قومی کمیٹی کو ذمہ داریاں منتقل کرنے کے لیے تمام ضروری انتظامی، قانونی اور لاجسٹک انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ اس نے یہ بھی اشارہ دیا کہ تکنیکی اور پیشہ ورانہ عملہ بنیادی خدمات کی فراہمی کو جاری رکھنے اور کسی بھی انتظامی خلا کو پیدا ہونے سے روکنے کے لیے اپنے فرائض انجام دیتا رہے گا۔

بیان میں متعلقہ فریقوں اور عالمی برادری سے اپیل کی گئی کہ وہ قومی کمیٹی کے غزہ کی پٹی میں فوری داخلے کو آسان بنائیں، تاکہ وہ اپنے کام کا آغاز کر سکے اور بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں اٹھا سکے۔

بیان میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا کہ سرکاری ایمرجنسی کمیٹی کو تحلیل کرنے سے متعلق فیصلہ گذشتہ جولائی میں اعلان کیا گیا تھا، جو کہ اس کے سربراہ اور حکومتی کارروائیوں کے نگراں کے قائم مقام محمد عبد الخالق الفرا کے باضابطہ استعفیٰ کے ساتھ ہی کیا گیا تھا، تاکہ معاہدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے اور پٹی کا انتظام قومی کمیٹی کو منتقل کرنے میں آسانی پیدا ہو۔

سرکاری میڈیا آفس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کی پٹی میں چوبیس لاکھ آبادی میں سے تقریباً اکیس لاکھ پچاس ہزار بے گھر افراد انتہائی کسمپرسی کے انسانی حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں آٹھ لاکھ سے زائد ایسے افراد بھی شامل ہیں جو انسانی زندگی کے لیے غیر موزوں خیموں میں رہ بسر کر رہے ہیں۔

آفس نے پچھلے اعداد و شمار میں یہ انکشاف کیا تھا کہ آٹھ اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع ہونے والی نسل کشی کی جنگ کے دوران قابض اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں ننانوے فیصد شہری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ نے پٹی کی تعمیر نو کی لاگت کا تخمینہ ستر ارب ڈالر لگایا ہے۔

اگرچہ دس اکتوبر سنہ 2025ء سے جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہے، تاہم پٹی میں قابض اسرائیل کی طرف سے قتل، گرفتاری، بمباری، گولہ باری اور دھماکوں کے ذریعے تباہی کے دائرہ کار کو وسیع کرنے جیسی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔

آفس نے قابض دشمن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے میں شامل اپنے وعدوں سے منحرف ہو رہا ہے، جن میں سرفہرست گزرگاہوں کو کھولنا اور امدادی، غذائی، طبی اور رہائشی سامان کی متفقہ مقدار کو اندر داخل کرنا ہے، جو کہ انسانی بحران کو مزید سنگین بناتا ہے اور بحالی و تعمیر نو کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan