غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ شہر کے مغرب میں واقع غزہ بندرگاہ کے اندر ایک کیفے پر قابض اسرائیل کے ڈرون حملے کے نتیجے میں چھ فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ یہ غزہ کی پٹی میں شہریوں کو نشانہ بنانے کے سلسلے کی تازہ ترین سفاکیت ہے۔
ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ امدادی ٹیموں نے ہدف بننے والی جگہ سے چھ شہداء اور متعدد زخمیوں کی لاشیں نکالیں اور انہیں طبی امداد کے لیے الشفاء ہسپتال منتقل کیا۔
یہ قتل عام ایسے وقت میں ہوا ہے جب قابض اسرائیل جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود غزہ کی پٹی میں رہائشی علاقوں اور پناہ گزینوں کے مراکز کو نشانہ بنا رہا ہے۔
ادھر فلسطین کی وزارت صحت نے اعلان کیا کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران قابض اسرائیل کی جارحیت کے نتیجے میں ایک شہید کی لاش اور دو زخمی ہسپتالوں میں لائے گئے ہیں۔
وزارت صحت نے اپنی روزانہ کی شماریاتی رپورٹ میں بتایا کہ گیارہ اکتوبر سنہ 2026ء کو جنگ بندی کے بعد سے شہداء کی کل تعداد 1266 ہو گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 4200 تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ 813 افراد کی لاشیں ملبے سے نکالی گئی ہیں۔
وزارت کے مطابق سات اکتوبر سنہ 2023ء کو غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی جارحیت کے آغاز سے اب تک شہداء کی مجموعی تعداد 73400 اور زخمیوں کی تعداد 174312 ہو گئی ہے۔
وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ ابھی بھی کئی لاشیں ملبے تلے اور سڑکوں پر موجود ہیں، کیونکہ ایمبولینس اور شہری دفاع کی ٹیمیں تاحال ان تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔
