رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) رام اللہ کے مشرق میں واقع قصبہ برقا کی زمینوں کے علاقے الکرم میں یہودی آباد کاروں کی طرف سے ایک نیا خیمہ نصب کیے جانے کے بعد اب یہ پورا قصبہ چاروں اطراف سے غاصبانہ بستیوں کے شکنجے میں جکڑ چکا ہے۔
کل چھ غیر قانونی بستیوں کے بوجھ تلے دبا برقا کا خطہ تین اطراف سے غیر قانونی بستیوں کے محاصرے میں ہے جبکہ چوتھی سمت سے ساٹھ نمبر کی غاصب شاہراہ گزرتی ہے جس نے اس کی بیشتر زرعی زمینوں پر اپنا غاصبانہ تسلط جما رکھا ہے۔
برقا میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ الکرم کے علاقے میں جو کچھ ہوا ہے وہ فوری عملی اقدام کا متقاضی ہے قبل اس کے کہ یہ خیمہ ایک مستقل بستی کی شکل اختیار کر جائے اور بستی پھیل کر اتنی بڑی ہیت اختیار کر لے کہ بعد میں اسے روکنا ناممکن ہو جائے۔
اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ آج کا دن زمین پر عملی موجودگی کا ثبوت دینے، دستاویزی ثبوت اکٹھے کرنے، عوامی سطح پر نقل و حرکت تیز کرنے اور متعلقہ اداروں اور حکام پر دباؤ ڈالنے کا ہے تاکہ زمینوں کا تحفظ کیا جا سکے اور کسی بھی نئی غاصبانہ حقیقت کو مسلط ہونے سے روکا جا سکے۔
اس سے قبل برقا کی قونسل کے سربراہ صایل کنعان نے ایک پُر درد اپیل جاری کرتے ہوئے قصبے کی زمینوں اور وہاں کے باسیوں کو قابض دشمن اور یہودی آباد کاروں کے مظالم اور اس وسیع غاصبانہ پھیلاؤ سے بچانے کا مطالبہ کیا تھا جس نے قصبے کے سینکڑوں ایکڑ رقبے کو نگل لیا ہے۔
صایل کنعان نے بتایا کہ برقا کے حالات انتہائی تشویشناک ہیں کیونکہ قابض فوج کے بلڈوزر اور یہودی آباد کار زمینوں کو روند رہے ہیں، صدیوں پرانے زیتون کے درختوں کو جڑ سے اکھاڑ رہے ہیں اور غیر قانونی بستیوں اور سڑکوں کے جال کے ذریعے قصبے کا نقشہ بگاڑ رہے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ برقا کو تباہی، سفاکیت، محاصرے اور گھٹن کا سامنا ہے جبکہ قابض دشمن فلسطینی عوام سے اس ظلم کو ہٹانے کے حوالے سے دکھائی جانے والی واضح بے بسی کے سائے میں شہریوں کو نفسیاتی اور اخلاقی طور پر نشانہ بنا رہا ہے۔
یہودی آباد کاروں کے حالیہ حملوں کے حوالے سے قونسل کے سربراہ نے واضح کیا کہ یہ حملے کبھی نہیں رُکے اور انہوں نے گھروں، مساجد، زرعی زمینوں اور گاڑیوں کو اپنا نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ حملے روز بروز بڑھ رہے ہیں اور مقامی باشندوں کے لیے زندگی اتنی کٹھن ہو چکی ہے کہ دل خون کے آنسو روتا ہے اور اس درد ناک صورتحال میں فوری تبدیلی کی سخت ضرورت ہے۔
صایل کنعان نے اس عزم کا اعاده کیا کہ برقا کے غیور عوام ہی اس پاک دھرتی کے اصل وارث ہیں اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کالا بادل چھٹ جائے گا اور قصبہ ایک بار پھر اپنے سرسبز میدانوں اور چراگاہوں کے ساتھ بحال ہو گا۔
برقا قصبے کے اردگرد ، كوخاف يعقوب، جفعات آساف اور مجرون جیسی غیر قانونی بستیاں گھیرا تنگ کیے ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں مقامی باشندوں کی اپنی ہی زرعی زمینوں تک رسائی انتہائی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
یاد رہے کہ سنہ 2023ء کے مہینے اگست کے آغاز میں یہودی آباد کاروں نے برقا کے مکینوں کی ذاتی زمینوں پر ایک بستی قائم کی تھی اور قصبے کی زمینوں پر اپنے ریوڑ چرانے کے ساتھ ساتھ شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا تھا۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل چار اگست کو برقا پر حملہ کرنے والے یہودی آباد کاروں کی فائرنگ کے نتیجے میں انیس سالہ نوجوان قصی معطان جامِ شہادت نوش کر گئے تھے۔
