تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) دنیا کے حالات اس قدر تیزی سے بدل رہے ہیں کہ آئے روز صبح اور شام نئے اتحاد بننا اور سیاسی تبدیلیاں ہونا معمول کی بات ہو چکا ہے۔ مغربی ایشیاء کی ابھرتی ہوئی سیاسی صورتِ حال، بالخصوص خلیجی ممالک، پاکستان ، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدوں نے خطے کی سلامتی اور سفارتی ڈھانچے میں ایک نیا موڑ پیدا کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ جسے مکہ معاہدہ بھی کہا جا رہاہے ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم، اس معاہدے کی پائیداری، اثر پذیری اور حقیقی کامیابی کا براہِ راست انحصار اس بات پر ہے کہ آیا سعودی عرب غیر ملکی خصوصاً امریکی—فوجی موجودگی اور اڈوں پر اپنا انحصار کس حد تک ختم کرتا ہے۔ امریکی اڈوں کا وجود نہ صرف خود سعودی عرب کے لیے ایک بین الاقوامی تنازعات کا موجب بن سکتا ہے بلکہ پاکستان اور خطے کے دیگر مسلم ممالک جیسے ایران کے ساتھ پائیدار اتحاد میں بڑی رکاوٹ بھی ہے۔
حال ہی میں یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ سعودی عرب میں موجود امریکی فوجی اڈوں نے ایران کے خلاف کاروائیوں میں بھرپور حصہ لیا۔ یہاں تک کہ ماضی کی جنگ میں جب ایران نے اسرائیل کے خلاف جوابی کاروائی کا آغاز کیا تھا تو یہی امریکی فوجی اڈوں سے سعودی وسائل کا استعمال کیا گیا اور ایران کے میزائلوں کو اسرائیل کے اہداف تک پہنچنے میں روکنے کی کوشش کی گئی ۔ بعد ازاں باقاعدہ امریکہ نے ان فوجی اڈوں کی مدد سے ایران کے خلاف بھرپور جارحانہ کاروائیاں انجام دی تھیں۔
تاریخی نقطہ نظر سے، سعودی عرب میں امریکی فوجی موجودگی کی جڑیں 1951ء کےدفاعی تعاون کے معاہدے (DHA) اور 1991ء کی جنگِ خلیج سے ملتی ہیں، جب شہزادہ سلطان ایئر بیس اور اسکان ولیج جیسے مقامات پر امریکی افواج تعینات کی گئیں۔ اگرچہ سعودی عرب کی موجودہ حکمتِ عملی علاقائی تنازعات سے بچنے کی رہی ہے، مگر امریکی اڈوں کا استعمال ایرانی مفادات یا خطے کے دیگر حصوں کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے لیے تشویش کا باعث بنتا رہا ہے۔یہاں تک کہ اب یہ بات دنیا کے سامنے عیاں ہو چکی ہے کہ سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈوں کا قیام اور امریکی فوج کی موجودگی سعودی عرب کے دفاع کے لئے نہیں ہے بلکہ خطے میں اسرائیل کو تحفظ دینے کے لئے ہیں۔ بالفرض جیسا کہ اسرائیل نے گریٹر اسرائیل کے نقشوں میں دکھایا ہے کہ سعودی عرب تک اسرائیل کی سرحدوں کو لایا جائے گا تو ایسے حالات میں یقینا سعودی عرب کسی طرح مزاحمت نہیں کر پائے گا کیونکہ پہلے سے موجود امریکی فوج اور فوجی اڈے اسرائیل کے عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے موجود ہیں۔
بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے باب 7 (Article 51) کے تحت، اگر کسی ریاست کی سرزمیں پر موجود اڈوں سے کسی دوسری ریاست کے خلاف فوجی جارحیت کی جائے تو متاثرہ ملک کو دفاعِ خود اختیاری یعنی Right to Self-Defenseکا حق حاصل ہوتا ہے۔ اگر امریکی افواج سعودی سرزمیں سے ایران یا کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف کارروائیاں جاری رکھتی ہیں تو اس کا جوابی ردِعمل سعودی سلامتی کو خطرے میں ڈالے گا۔حالیہ حالات میں مکہ معاہدے کے بعد سارے کا سارا دبائو پاکستان پر آ سکتا ہےاور یقینا یہ پاکستان کے لئے انتہائی مشکل کام ہو گا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے، جس میں 1982ء کا سیکیورٹی معاہدہ اور حال ہی میں طے پانے والا مکہ معاہدہ شامل ہیں۔ معاہدے کی رو سے، کسی ایک ملک پر حملہ یا سلامتی کا بحران دوسرے ملک پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر سعودی عرب میں قائم امریکی اڈے علاقائی کشیدگی کا مرکز بنتے ہیں، تو ایران کا ممکنہ جوابی ردِعمل پاکستان کو ایک انتہائی مشکل صورتِ حال میں دھکیل دے گا۔
پاکستان کی سرحدیں ایران سے ملتی ہیں اور اسلام آباد، تہران کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور سرحدی امن کا خواہاں ہے۔ ایسی صورتِ حال میں پاک سعودی دفاعی معاہدےکے سبب پاکستان پر زبردست سفارتی اور عسکری دباؤ آئے گا کہ وہ کس کا ساتھ دے۔
پاکستان بالکل بھی ایسی صورتحال نہیں دیکھنا چاہتا کہ جہاں اس خطے میں دو مسلمان برادر ممالک اور خاص طور پرہمسایہ کے خلاف جانا پڑے۔ پاکستان نے ہمیشہ اپنی خارجہ پالیسی کے اصولوں کے تحت کسی بھی عرب ملک کی جنگ میں شمولیت سے دریغ کیا ہے۔2015 میں بھی جب سعودی عرب نے یمن پر حملہ کیا تھا تو پاکستان کی پارلیمنٹ نے پاکستانی فوج کی سعودی عرب تعیناتی کو مسترد کیا تھا کیونکہ پاکستان کسی بھی مسلمان ملک کے خلاف کسی جنگ کا حصہ نہ بننے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
لہذا یہاں پر ایسی صورتحال میں بہترین حل یہی ہو سکتا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے باہمہ دفاعی معاہدے کے بعد سعودی عرب کو کچھ ایسے بولڈ اقدامات کرنے چاہئیں جس سے نہ صرف پاکستا ن پر دبائو میں کمی آئے بلکہ ساتھ ساتھ خطے میں بھی ایران سمیت تمام مسلمان ممالک کے ساتھ برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کے ایک مثالی دور کا آغاز ہو سکے۔اس آغاز کے لئے سب سے پہلا کام جو سعودی عرب کو انجام دینا چاہئیے وہ یہ ہے کہ ممکہ معاہدے کے بعد امریکہ کے سعودی عرب میں موجود فوجی اڈوں کا بند کرنے کا اعلان اور امریکی فوج کا سعودی عرب سے انخلاء کیا جائے۔سعودی عرب کی جانب سے اپنے ملک سے امریکی اڈوں اور فوجی تسلط کے خاتمے سے متعدد فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
سعودی عرب نے ایک طویل عرصہ تک امریکی تحفظ اور سیکیورٹی ڈیلز کےکے نام پر واشنگٹن کو اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کی خریداری اور مالی ادائیگیاں کی ہیں۔اگر سعودی عرب سے امریکی فوجی اڈے ختم ہوتے ہیں تو ان اڈوں کا خاتمہ سعودی معیشت پر غیر ضروری مالی بوجھ کو کم کرے گا، جو سعودی وژن جیسے معاشی اقدامات کی کامیابی کے لیے بھی اہم ہے۔اسی طرح مغربی ایشیاء میںامریکی عسکری موجودگی کا ایک بڑا مقصد تل ابیب (اسرائیل) کا تحفظ اور خطے پر مغربی غلبہ برقرار رکھنا رہا ہے۔ امریکی عسکری انخلا سے خطے کی خود مختاری بحال ہوگی۔یہ بات یقینا ایران سمیت پاکستان اور دیگر ترکیہ اور دیگر مسلمان ممالک کے فائدے میں ہے۔
اسی طرح جہاں سعودی عرب کو فائدہ ہو گا وہاں معاہدے میں شامل پاکستان اور ترکیہ سمیت خطے کے دیگر ممالک کو بھی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں لیکن اس سب باتوں کا انحصار سعودی عرب پر ہے کہ وہ اپنے ملک سے امریکی فوجی اڈوں کو ختم کرتا ہے یا نہیں۔ امریکی دفاعی خرید و فروخت پر خرچ ہونے والے کثیر مالیاتی وسائل کو اگر مسلم ممالک کے باہمی دفاعی نظام کی طرف منتقل کیا جائے تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔سعودی عرب کی جانب سے امریکہ کو دی جانے والی سیکورٹی ادائیگیاں اگر پاکستان جیسے اتحادی ملک کو باہمی سیکورٹی تعاون، مشترکہ دفاعی پروڈکشن اور تربیتی مشنز کی مد میں فراہم کی جائیں، تو اس سے پاکستان کی معیشت کو زبردست استحکام ملے گا۔پاک فوج جو کہ ایک جدید اور تجربہ کار عسکری قوت ہے، سعودی عرب کو غیر ملکی انحصار کے بغیر مکمل عسکری تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔امریکی افواج کا انخلا خطے سے خوف اور عدمِ اعتماد کے ماحول کو ختم کرے گا۔ اس سے پاکستان، سعودی عرب، ایران اور ترکی کے درمیان ایک مضبوط، غیر جانبدار اور اسلامی بلاک قائم ہوگا، جو مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کی ضامن بنے گا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مکہ معاہدے کا حقیقی ثمر اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک خطے کو غیر ملکی عسکری چھتری سے آزاد نہ کرایا جائے۔ سعودی عرب کی جانب سے امریکی اڈوں کا خاتمہ اور سیکیورٹی اخراجات کی سمت کو امریکہ سے ہٹا کر پاکستان جیسے قریبی برادر ملک کے ساتھ باہمی تعاون کی طرف موڑنا، نہ صرف سعودی عرب کی جغرافیائی خود مختاری کو یقینی بنائے گا بلکہ پاکستان کی معیشت کو سہارا دیتے ہوئے ایران اور تمام مسلم ممالک کے درمیان پائیدار امن اور ہم آہنگی کی بنیاد رکھے گا۔