نابلس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یہودی آباد کار قابض فوج کی سرپرستی میں مسلسل دسویں روز بھی نابلس کے جنوب میں واقع قصبہ قصرہ کے علاقے جبل رأس العین میں تین فلسطینی گھروں کا ظالمانہ محاصرہ جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ محصور خاندانوں کے انسانی حالات مزید ابتر ہونے اور پانی خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہونے کے سنگین خطرات منڈلا رہے ہیں۔
قصرہ کے بلدیہ کے سربراہ عبد العظیم وادی نے بتایا کہ محاصرہ شدہ خاندانوں کو آنے والے چند گھنٹوں کے اندر پانی اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ وہ فوری طور پر ادویات کی سخت ضرورت میں مبتلا ہیں اور جو تھوڑی بہت امداد ان تک پہنچی ہے وہ بالکل ناکافی ہے اور انہیں مزید امداد درکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قصبے میں محصور فلسطینی خاندان خوراک اور ادویات کی فراہمی کی التجا کر رہے ہیں جبکہ بلدیہ نے ریڈ کراس اور ہلال احمر نیز دیگر ذمہ داران سے رابطہ کرکے ان خاندانوں کا محاصرہ توڑنے کے لیے مداخلت کی پرزور اپیل کی ہے مگر یہودی آباد کار اور قابض فوج بدستور ان پر کڑا پہرہ دیے ہوئے ہیں۔
عبد العظیم وادی نے اس امر پر زور دیا کہ قابض حکومت قصرہ کے معاملے میں جان بوجھ کر تاخیر اور سستی سے کام لے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قابض فوج کے لیے یہودی آباد کاروں کو منٹوں میں باہر نکالنا بالکل آسان ہے لیکن ہم پچھلے دس دنوں سے مسلسل محاصرے میں زندگی گزار رہے ہیں جبکہ متاثرہ خاندان خوراک اور ادویات کی سخت قلت کا شکار ہیں۔
قصبہ قصرہ ہزاروں ایکڑ زمین پر قبضہ کرنے اور قصبے کے اطراف میں واقع گھروں کے باسیوں کو جبری طور پر بے دخل کرنے کے مذموم منصوبے کے تحت مسلسل یہودی آباد کاروں کے حملوں کی زد میں ہے جس کا مقصد اردگرد کی غیر قانونی بستیوں کو وسعت دینا، نئی کالونیاں بنانا اور بائی پاس سڑکیں نکال کر فلسطینی دیہات کو الگ تھلگ کرنا اور نیا استعمار مسلط کرنا ہے۔
بلدیہ کے سربراہ نے ان خاندانوں کا محاصرہ فوری طور پر ختم کرنے اور ان کی بنیادی ضروریات زندگی کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی مداخلت کا پرزور مطالبہ کیا اور ان کی جان و مال کے نقصان کی تمام تر ذمہ داری قابض اسرائیل پر عائد کی۔
