غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) شمالی غزہ کے سینے پر حق کی شمع جلانے والے “ٹیلی ویژن العربی” کے نڈر اور بلند حوصلہ نامہ نگار، فلسطینی صحافی محمد صابر عرب کا اسرائیلی فوجی عدالت کے کٹہرے میں نمودار ہونا محض ایک قانونی کارروائی یا پیشی کا عام سا منظر نہیں تھا۔ یہ ایک ایسا دردناک دریچہ تھا جس نے غیبت اور ہجر کے ان تاریک برسوں کا احاطہ کر لیا، جو ظلم و ستم، بھوک کے کڑے پہروں، روح کو چھلنی کر دینے والی ایذا رسانیوں اور اس قیدِ تنہائی میں گزرے جن کا مقصد سچائی کی اس توانا آواز کو مٹانا تھا۔ یہ ایک ایسے انسان کی تصویر تھی جس کے چہرے کی شادابی اور خدوخال کو اسیری کی چکی نے پیس ڈالا، مگر اس کے عزم کی چٹان آج بھی پورے قد کے ساتھ اپنی جگہ قائم ہے۔
محمد عرب جب انتہائی نحیف اور نڈھال جسم کے ساتھ اس عدالت میں لائے گئے، تو ان کے چہرے کی لکیریں اس المناک داستان کی گواہی دے رہی تھیں جو قابض غاصبوں کی جیلوں میں انسانیت کے خلاف لکھی جا رہی ہے۔ یہ وہ سچا صحافی ہے جس کا جرم صرف یہ تھا کہ اس نے غزہ کے میدانِ جنگ سے خونی حقائق، نسل کشی کے ہولناک مناظر اور قابض دشمن کے مظالم کو دنیا کی آنکھوں تک پہنچایا۔ اس فریضے کی پاداش میں اسے کیمرے کی آزاد فضا سے چھین کر سلاخوں کے اس پار دھکیل دیا گیا، جہاں وہ اپنے اہل خانہ، اپنے چاہنے والوں اور اس دنیا سے کٹ کر رہ گیا۔
الشفا کے ویرانوں سے تاریک ترین گہرائیوں تک
18 مارچ سنہ 2024ء کا وہ سیاہ دن تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی، جب قابض درندوں نے الشفا میڈیکل کمپلیکس کے مقدس حصار کے اندر سے محمد عرب کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروفِ عمل تھے۔
اس گرفتاری کے لمحے سے لے کر اب تک ایک ایسا لامتناہی عذاب شروع ہوا جس نے انہیں اندھیروں میں ڈوبے ہوئے فوجی حراستی کیمپوں سے ہوتے ہوئے “نیگیو” (نقب) جیل کے غاروں تک پہنچا دیا۔ یہ وہ بے رحمانہ ماحول ہے جہاں ہزاروں فلسطینی قیدیوں نے غیر انسانی اذیتوں کا سامنا کیا۔ محمد عرب کا رابطہ اس ظالم دنیا سے یکسر کاٹ دیا گیا، کوئی اپنوں کی زیارت کا پروانہ اور نہ ہی وکلاء اور حقوقِ انسانی کے اداروں کو رسائی کی اجازت۔ ان کی حالتِ زار کی ہلکی سی کرن بھی بس کبھی کبھار کسی بند دروازے کے سوراخ سے لیک ہونے والی ان اطلاعات کی صورت میں باہر آتی جو انسانی حقوق کے محافظوں کے ہاتھ لگ جاتی تھیں۔
بنیادی انسانی حقوق کے لیے بھی طویل جنگ
یہ قید محض چار دیواری کا نام نہیں ہے بلکہ یہ انسانیت کی توہین اور بنیادی ترین حقوق سے محرومی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ دو سال سے زائد طویل اسیری کے بعد، ایک صحافی کو اپنے حق کے لیے عدالت کے دروازے پر یہ فریاد کرنی پڑی کہ اسے گرم موسم کے مطابق چند کپڑے اور شیونگ کے دوران آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے کی معمولی سی اجازت ہی دے دی جائے۔
جب جینے کے یہ انتہائی ابتدائی اور معمولی تقاضے بھی عدالتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے جائیں، تو ذرا سوچیے کہ قابض فوج کی غلاظت سے بھری ان کالی کوٹھریوں میں فلسطینی اسیران، خصوصاً غزہ کے باسیوں پر کیا گزرتی ہوگی۔
تشدد کے وہ نقوش جو مٹائے نہیں جا سکتے
یہ درد صرف ضروریات کی کمی تک محدود نہیں تھا؛ وکیل خالد محاجنہ نے جب جون کے مہینے میں “سدی تیمان” کے ہولناک کیمپ میں محمد عرب سے پہلی قانونی ملاقات کی، تو روح کو لرز دینے والے انکشافات سامنے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے محمد عرب کے مبارک ہاتھوں اور پیروں کو مستقل ہتکڑیوں میں جکڑ کر رکھا جاتا، ہفتوں ان کی آنکھوں پر ظلم کی پٹیاں بندھی رہتیں اور انہیں نیند اور دواؤں کی ایک ایک بوند تک کے لیے تڑپایا جاتا۔
وہ کربناک مناظر جن میں دیگر قیدیوں کے زخمی ہاتھ پاؤں لوہے کی ان جکڑوں کے زہر آلود ہونے کی وجہ سے سڑ گئے اور انہیں اپنے اعضاء سے محروم ہونا پڑا، اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ وہاں انسانیت کی کوئی قدر باقی نہیں۔ فوجی عدالت کے کٹہرے میں کھڑے محمد عرب کا زرد رنگ اور گھلا ہوا جسم اس بات کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہا تھا کہ دشمن نے ان کے جسم کو توڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
بے بنیاد الزامات کا ظالمانہ سوانگ
انسانی حقوقی اداروں اور وکلاء کی زبان سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ محمد عرب پر کسی قسم کا کوئی واضح یا قانونی جرم ثابت نہیں کیا گیا، بلکہ انہیں محض ایک ظالمانہ قانون “غیر قانونی جنگجو” کی آڑ میں قید میں رکھا گیا ہے۔ فوجی عدالتوں کے یہ تمام ہتھکنڈے صرف اس بات کا بہانہ ہیں کہ اسیر کی آواز کو کیسے ہمیشہ کے لیے دبا دیا جائے۔
محمد عرب کا کیس اس لیے بھی پوری دنیا کے ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے کہ وہ صرف ایک قیدی نہیں بلکہ سچائی کا وہ قلم اور کیمرہ ہے جسے جبر کی طاقت سے توڑنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔
جب قلم اور کیمرہ سلاخوں کے پیچھے قید ہو جائے
محمد عرب کی یہ روح فرسا داستان غزہ کے ان تمام بہادر صحافیوں کی تاریخ کا حصہ ہے جنہوں نے اس مقدس زمین پر اپنے خون سے روشنی لکھی ہے۔ فلسطینی جرنلسٹس سنڈیکیٹ کی گواہی کے مطابق، اس نسل کشی کی جنگ میں 265 سے زائد صحافی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، جبکہ 150 سے زیادہ صحافی آج بھی قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔ چالیس سے زائد غیور صحافی خواتین سمیت آج بھی اسیر خانوں میں ان ظالمانہ قوانین کے تحت تڑپ رہے ہیں۔
ایک سچی تصویر اور انمٹ المیہ
عدالت کے اس کٹہرے میں کھڑے محمد عرب کی وہ تصویر محض ایک کمزور جسم یا ایک لاچار صحافی کی تصویر نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسے حریت پسند کی شبیہ تھی جس کی روح کو کوئی زنجیر جھکا نہیں سکی۔ ان کے تھکے ہوئے نقوش ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ ہر اسیر کے پیچھے ایک بکھرا ہوا خاندان، ایک حسیں زندگی اور ہزاروں ادھورے خواب وابستہ ہیں۔
آج دنیا بھر کے انصاف پسند اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا یہ فرضِ منصبی ہے کہ وہ محمد عرب اور ان تمام مظلوم صحافیوں کی فوری رہائی کے لیے اٹھ کھڑے ہوں، تاکہ سچائی کا یہ سورج ایک بار پھر پوری آب و تاب کے ساتھ دنیا کے افق پر چمک سکے۔
