Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

امریکی اڈوں کی تباہی کے بارے میں امریکی کمانڈر کا اعتراف

نقطہ نظر – مائیک مولن
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ملک کے اعلیٰ ترین فوجی عہدیدار رہنے والے مائیک مولن نے اتوار کے روز اعتراف کیا کہ امریکا کو یہ توقع نہیں تھی کہ ایران خطے میں موجود اس کے اڈوں کو تباہ کر دے گا۔ امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سابق چیئرمین مائیک مولن نے اے بی سی نیوز سے گفتگو میں مغربی ایشیا میں تعینات امریکی فوجیوں، بالخصوص طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن کے اہلکاروں کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اس طیارہ بردار بحری جہاز کے طویل مشن کے بارے میں کہا کہ یہ صورتحال قابلِ ذکر اور انتہائی مشکل رہی ہے۔ یہ تعیناتیاں بہت، بہت مشکل ہوتی ہیں۔

تاریخی طور پر ہم عام طور پر کسی بندرگاہ پر جا سکتے تھے، وہاں آرام کرتے، مرمت کا کام مکمل کرتے اور پھر دوبارہ کارروائیوں میں واپس آ جاتے تھے۔ حتیٰ کہ ویتنام کی جنگ کے دوران بھی ہم ایسا کرتے تھے۔ مولن نے مزید کہا کہ موجودہ مسئلہ آپریشنل علاقے (AOR) میں ان مقامات سے متعلق ہے جہاں ہم یہ کام انجام دیتے ہیں۔ بحرین، جو اس وقت تنازع کے بیچ میں ہے، یا بحرین اور متحدہ عرب امارات، یہ مقامات اب خود اہداف بن چکے ہیں۔ لہٰذا ان اثاثوں کی حفاظت اور سلامتی انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ سادہ الفاظ میں کہیں تو اب ایسی کوئی آسان جگہ موجود نہیں جہاں ہم بندرگاہ پر جا کر رک سکیں۔

ابراہام لنکن کے عملے کی صورتحال پر تشویش:
امریکی بحریہ کے سابق سربراہ نے یو ایس ایس ابراہام لنکن کے اہلکاروں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خبروں میں جو کچھ میں نے دیکھا، اسے مدنظر رکھتے ہوئے میں یقیناً جہاز کی صورتحال کے بارے میں فکرمند تھا۔ میں جانتا ہوں کہ کمانڈر، بالخصوص لنکن کے کمانڈر، ان مسائل سے نمٹنے کے لیے بہت محنت کر رہے ہیں۔ میرا یہ بھی خیال ہے کہ حقیقت شاید ان مختلف رپورٹس کے درمیان کہیں موجود ہے۔

ہمیں توقع نہیں تھی کہ ایرانی ہمارے اتحادیوں کے اڈے تباہ کر دیں گے:
مائیک مولن نے ان اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کا ذکر کرتے ہوئے، جو ان امریکی بحری جہازوں کو سہولیات فراہم کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں ہمیں واضح طور پر یہ توقع نہیں تھی کہ ہمارے اتحادیوں کے اڈے، جہاں ہماری افواج پہلے سے موجود تھیں، ایرانیوں کے ہاتھوں تباہ کر دیے جائیں گے۔ سابق امریکی فوجی کمانڈر نے وضاحت کی کہ یہ صورتحال بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات میں پیش آئی۔ لہٰذا وہ مقامات جہاں ہم عام طور پر آرام اور سکون کے لیے جاتے تھے، اب قابلِ استعمال نہیں رہے۔ چنانچہ منصوبہ بندی کے حوالے سے میرا خیال ہے کہ ہمیں صورتحال کے مطابق فوری طور پر فیصلے کرنا پڑے، اور اس کے لیے کوئی جگہ تلاش کرنا انتہائی مشکل ہو گیا۔ نتیجتاً بنیادی طور پر آپ کو سمندر ہی میں رہنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

امریکا کے پاس طیارہ بردار بحری جہاز کم ہیں:
مولن نے امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کی کمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان جہازوں، ان کے اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کو بنیادی طور پر واپس آنا چاہیے، یہ سمجھنا چاہیے کہ اگلے مشن کے لیے کس طرح تیاری کرنی ہے، لیکن اس میں وقت لگتا ہے۔ خاص طور پر طیارہ بردار بحری جہازوں کے معاملے میں، میرا مطلب ہے کہ ہمارے پاس صرف 11 جہاز ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں میں سابق وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کے ساتھ اس بحث میں شامل تھا کہ ہمارے طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعداد 12 سے کم کرکے 11 کر دی جائے۔ میرا خیال ہے کہ موجودہ ماحول میں، اگر ہم انہیں اسی طرح تعینات کرنے جا رہے ہیں، تو ہمیں واقعی زیادہ تعداد میں طیارہ بردار بحری جہازوں کی ضرورت ہے۔

ابراہام لنکن کی 9 ماہ سے مسلسل سمندر میں موجودگی:
یو ایس ایس ابراہام لنکن، جس پر 5 ہزار سے زیادہ ملاح اور میرینز موجود ہیں، تقریباً 9 ماہ سے مسلسل سمندر میں ہے اور حالیہ دنوں میں اس کی صورتحال خاصی خبروں میں رہی ہے۔ ایران کے خلاف جنگ کے دوران اس جہاز کے نامناسب حالات کے حوالے سے مختلف رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ ان میں خوراک اور دیگر ضروری اشیا کی کمی، صحت و صفائی اور پلمبنگ کے مسائل، ڈاک کی ترسیل میں خلل، معمول کے مطابق بندرگاہوں پر رکنے کے مواقع نہ ملنا اور امریکی فوجیوں کے حوصلے میں شدید کمی شامل ہیں۔ بعض اہلکاروں کے اہل خانہ نے فوجیوں کی بگڑتی ہوئی ذہنی کیفیت کے بارے میں بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ بعض ملاحوں کی جانب سے جہاز سے سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوششوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جنہیں بعض خاندانوں اور ذرائع نے خودکشی کی کوشش قرار دیا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan