غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی فوج نے پیر کے روز غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھتے ہوئے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے اور توپ خانے سے گولہ باری کی، جس کے نتیجے میں فلسطینی پٹی میں مقامی ذرائع اور ایمرجنسی و ریسکیو حکام کے مطابق متعدد افراد زخمی ہوئے اور بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا۔
ایک طبی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ محمد عدنان بشیر نامی شہری زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے، وہ وسطی غزہ کی پٹی کے شہر دیر البلح میں شارع البرکہ کو نشانہ بنانے والی اسرائیلی بمباری میں زخمی ہوئے تھے۔
قابض فوج کے طیاروں نے غزہ شہر کے مشرقی علاقوں پر دو فضائی حملے کیے، اس کے ساتھ ہی اسی علاقے میں اسرائیلی ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ بھی کی گئی۔ ادھر قابض اسرائیلی توپ خانے نے جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر خان یونس کے جنوبی علاقوں پر گولہ باری کی۔
غزہ میں ایمرجنسی اور ریسکیو حکام نے اطلاع دی ہے کہ غزہ شہر کے مشرقی حصے میں واقع حی التفاح کے ان علاقوں میں اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری سے کئی افراد زخمی ہوئے جو قابض فوج کے کنٹرول سے باہر ہیں۔ اس کے علاوہ محلے میں مفترق السنافور کے قریب ایک گھر پر اسرائیلی توپ خانے کا ایک گولہ گرا، جس سے وہاں آگ بھڑک اٹھی۔
گذشتہ دس اکتوبر سے جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک ہونے والے مجموعی جانی نقصانات کے مطابق، شہداء کی تعداد 1262 ہو گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 4168 ہے، اس کے علاوہ 808 شہداء کی لاشیں ملبے سے نکالی گئی ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء کو غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی جارحیت کے آغاز سے لے کر اب تک مجموعی شہداء کی تعداد 73391 ہو گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 174280 تک پہنچ چکی ہے۔
