Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ کی مائیں، شدید گرمی اور جنگ کے بیچ زندگی کی جدوجہد میں مصروف

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) نغزہ کے ان خیموں میں جہاں سورج کی تپش روح تک کو جھلس دیتی ہے، ماؤں کی بے بسی کا ماتم فجر کے پہلےپہر ہی شروع ہو جاتا ہے۔ خیمے کے بوسیدہ تاروپود میں جب گرمی کی لہر اترتی ہے، تو فضا میں موجود حبس معصوم بچوں کے سینوں میں سانس لینا محال کر دیتی ہےاور بھنبھناتی مکھیاں و حشرات اس اجڑے دیار کو مزید عذاب ناک بنا دیتے ہیں جسے ان بے سہاروں کے لیے پناہ گاہ کا نام دیا گیا تھا۔

گرمی کے اس طوفان کے ساتھ ہی خیمہ ایک دم گھٹنے والا زندان بن جاتا ہے۔ تب ماؤں کا وہ دردناک سفر شروع ہوتا ہے جہاں وہ دستیاب بے نام اور کم ترین وسائل سے راحت کا دیپ جلانے کی تگ و دو کرتی ہیں۔ یہ جستجو عیش و آرام کی طلب نہیں، بلکہ محض ان چند لمحوں کی بھیک ہوتی ہے جن میں ان کے لعل تپتی ہوئی دھوپ اور جہنم جیسے ماحول سے دور کچھ دیر کے لیے آنکھیں موند سکیں۔

تپتے خیموں میں کٹتے کٹھن طویل دن

ماؤں کے لیے ان خیموں میں دن کی ساعتیں کسی کوہِ گراں کی طرح کٹتی ہیں، بالخصوص جب پارہ عروج پر ہوتا ہے اور ہوا کا ہلکا سا جھونکا بھی ایک ناپید حقیقت بن جاتا ہے۔

ٹھنڈک کے سامان اور پردے کے مناسب اسباب کے سرے سے مفقود ہونے پر، یہ بے بس خاندان لاٹھیوں، پرانی چادروں اور پلاسٹک کے پھٹے ٹکڑوں کو جوڑ کر اپنے سروں پر سایہ مانگنے پر مجبور ہیں، ساتھ ہی وہ خیموں کے دامن وا کر کے ہوا کی راہ بنانے کی آخری کوشش کرتے ہیں۔

ایمان زعرب کا دل چیر دینے والا بیان ہے کہ سورج کی یہ بپھری ہوئی آگ دن کے اجالے میں خیمہ بستی کو جہنم بنا دیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ اور ان جیسے بے شمار بے آسرا لوگ خیموں کے رُخ بدلنے پر مجبور ہیں تاکہ ہوا کے چند جھونکے ان کے بچوں تک پہنچ سکیں اور وہ براہِ راست سورج کی غضب ناک شعاعوں کی زد سے باہر رہ سکیں۔

زعرب ہمارے نامہ نگار کو اشک بار آنکھوں سے بتاتی ہیں کہ ان کے پاس نہ تو اے سی ہیں اور نہ ہی حفاظتی وسائل، بس یہی شکستہ لکڑیاں ہیں جنہیں وہ خیموں کے گرد کھڑا کر کے اپنی بے بسی کا مداوا کرتی ہیں۔

وہ آہیں بھر کر کہتی ہیں کہ یہ ناپائیدار حیلے حرارت کے اس طوفان کو تو نہیں روک سکتے، مگر کم از کم گھٹن زدہ فضا میں ہوا کا ایک ہلکا سا رقص تو پیدا کر ہی دیتے ہیں، جو بچوں کے بیٹھنے اور سونے کے مقامات کو سورج کی شعلہ بار تپش سے کچھ دیر کے لیے بچا لیتا ہے۔

اونچی چھت اور بے سروسامان انسانوں کی انمول ایجاد

ان بے بس خاندانوں کا ایک آزمودہ حربہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خیمے کے اندرونی کپڑے کو چھونے سے بچانے کے لیے کسی لکڑی کے سہارے بیرونی شادر کو فضا میں ذرا اونچا اٹھا کر باندھ دیتے ہیں۔

یہ انوکھا اہتمام دونوں پردوں کے مابین ایک خلا پیدا کر دیتا ہے، جس سے ہوا کا تبادلہ ممکن ہوتا ہے اور تپتی ہوئی شادر کی براہِ راست آگ خیمے کے اندر نہیں اتر پاتی، خاص طور پر جب خیمے کے گوشے کھلے چھوڑ دیے جائیں۔

مگر یہ عارضی تدبیر بھی مصائب کے حصار سے باہر نہیں؛ کیونکہ اس کا دارومدار ٹوٹے پھوٹے اوزاروں اور خیمے کو تھامنے کی گھریلو صلاحیت پر ہے، جو تیز آندھیوں اور طوفانی ہواؤں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے۔

پانی کی بوند بوند، تپتے خیموں کا واحد مرہم

کچھ بے کس خاندان اس تپتی ہوئی شادر پر پانی کے چند قطرے چھڑک کر اس کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی بھلکڑ سی آس لگائے رکھتے ہیں۔ یہ ایک بظاہر معمولی عمل ہے مگر پانی کی بوند بوند کو ترسنے والی بستی میں یہ ایک معجزے سے کم نہیں۔

یہاں پانی کا ایک ایک قطرہ ہیرے سے زیادہ قیمتی ہے، جسے پینے، پکانے اور طہارت کے لیے ہونا چاہیے، مگر ایک ماں کی ممتا اس کا کچھ حصہ اس تپتے ہوئے زندان کی آگ بجھانے کے لیے نچھاور کر دیتی ہے۔

یاسمین کے یہ روزمرہ کے دردناک مناظر دل کو چیر جاتے ہیں، جو تپتی شادر پر پانی کے چھینٹے مار کر درجہ حرارت میں ایک لمحے کی خنکی تلاش کرتی ہے۔ یہ منظر اس کرب کی مکمل تصویر ہے جہاں انسانوں کو زندہ رہنے کے لیے ابتدائی ترین اور سفاک تدبیروں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

ہوا کی فریاد اور کیڑوں کا عفریت

گرمی کو مات دینے کی یہ جنگ خیمے کی چھت تک ہی محدود نہیں رہتی، بلکہ مائیں ہوا کی خنکی کے لیے خیمے کے دامن کو کھول دیتی ہیں۔

مگر یہ حل اپنے دامن میں ایک نیا عذاب لیے ہوتا ہے؛ کہ کھلے دروازوں سے مکھیاں، زہریلے حشرات اور اڑتی ہوئی مٹی بچوں پر ٹوٹ پڑتی ہے۔ اب مائیں دو انتہاؤں کے بیچ شعلوں پر چلتی ہیں: یا تو خیمہ بند رکھ کر دم گھٹنے دیں، یا اسے کھول کر ہوا کے ساتھ آنے والی بلاؤں کو دعوت دیں۔

لینا بے بسی کی تصویر بنی سایہ اور ہوا کے ایک جھونکے کی متلاشی رہتی ہے، جب کہ سورج کی شعاعوں سے دور کوئی بھی کونہ بچوں کے لیے کائنات کی سب سے بڑی پناہ گاہ بن جاتی ہے۔

پلاسٹک کی ٹرے، معصوم بچی کی پنکھا بنی

اس سنگدل حقیقت سے مفاہمت کا سب سے دلخراش روپ یہ ہے کہ گھر کی معمولی اشیاء بھی اس جنگ میں ہتھیار بن جاتی ہیں۔

ایک عام سی پلاسٹک کی ٹرے، جو شاید باورچی خانے کے کسی کام کی ہوتی، ایک ماں کے ہاتھ میں آ کر ہوا کا جھونکا بن جاتی ہے۔ وہ اس سے اپنی معصوم شیر خوار بچی کو جھلتی ہے تاکہ وہ مکھیوں اور حبس کے عذاب سے بچ کر دو گھڑی سکون کی نیند سو سکے۔

یہ چھوٹی سی جھلک غزہ کے باسیوں کی پوری کائنات کا احاطہ کرتی ہے؛ جہاں اب کوئی چیز اپنے اصل روپ میں استعمال نہیں ہوتی، بلکہ ہر شے صرف اس لمحے کی سب سے بڑی ضرورت کا تقاضا پوری کرتی ہے۔

بقا کی جنگ، نہ کہ عیش و آرام کی تلاش

ان ماؤں کے لیے یہ سارے حیلے بہانے کسی آسائش یا حسین موسم کی چاہت نہیں، بلکہ یہ تو بس اس کم از کم آکسیجن کی تلاش ہے جو بچوں کو گرمی اور کیڑوں کے عذاب سے بچا کر چند لمحوں کی نیند عطا کر سکے۔

پانی چھڑکنا، شادر اٹھانا، خیمے کے گوشے وا کرنا، اضافی سائے بنانا اور ابتدائی ہتھکنڈوں سے ہوا پیدا کرنا، یہ سب کچھ اب روزمرہ کے کرب کا ایک ناگزیر حصہ بن چکا ہے۔

مگر یہ سراب نما حل ہمیشہ عارضی رہتے ہیں؛ شادر پر چھڑکاؤ کے لیے پانی کہاں سے آئے، چھت اٹھانے کے لیے کیل کانٹے کہاں سے ملیں، اور خیمہ کھولنے سے آفتیں اندر چلی آتی ہیں۔ یہ تدبیریں اس خیمے کے زخم پر مرہم نہیں رکھ سکتیں جو عارضی قیام کے لیے بنا تھا مگر اس کا یہ سفر مہينوں اور برسوں کا طویل عذاب بن چکا ہے۔

جب سایہ ایک انمول خواب بن جائے

غزہ کی اس دھرتی پر اب کوئی ماں ٹھنڈی رت کی آرزو مند ہے نہ کسی پرتعیش خیمے کی طلب گار؛ ان کی تو صرف اتنی سی تمنا ہے کہ ایک ایسا سایہ مل جائے جسے سورج نہ جلا سکے، خیمے کے اندر ہوا کا ایک سچا جھونکا آ سکے، اور ان کا بچہ بلا خوفِ حرارت و حشرات سو سکے۔

یاسمین کے پانی کے قطروں، لینا کی ہوا کی آس، اور ماں کے ہاتھ میں ہلتی ہوئی پلاسٹک کی ٹرے کے درمیان، یہ خاندان اس سنگدل موسمِ گرما کے سینے پر مونگ دلتے ہوئے اپنے شب و روز گزار رہے ہیں۔

آمنہ زعرب اس پوری درد بھری کہانی کا نچوڑ ان الفاظ میں بیان کرتی ہیں کہ محدود وسائل سے جڑے یہ چھوٹے چھوٹے حل دراصل بچوں پر خیمے کی سختی کو تھوڑا ہلکا کرنے کی کوشش ہیں۔

یہ کسی موسم کو بدلنے کی جنگ نہیں، بلکہ یہ فقط اور صرف سانس لینے کی جنگ ہے؛ یہ وہ ننھی سی کوششیں ہیں جو مائیں اپنے لہو سے سینچتی ہیں، اس ابدی انتظار میں کہ کوئی ایسا دن آئے گا جب خیمہ انہیں جلانے کے بجائے واقعی پناہ گاہ بنے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan