غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی حکام نے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے 35 اسیران کو رہا کر دیا ہے، جنہیں نسل کشی کی جنگ کے دوران پٹی میں ان کے رہائشی مقامات سے مختلف مدتوں کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔
رہا ہونے والے اسیران، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے، ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے عملے کی وساطت سے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں واقع ناصر ہسپتال پہنچ گئے۔
ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے ایک مختصر بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس نے قابض حکام کی طرف سے رہا کیے جانے والے 35 نظر بندوں کی کریم ابو سالم گزرگاہ سے خان یونس میں واقع ناصر میڈیکل کمپلیکس تک منتقلی میں سہولت فراہم کی۔
قابض حکام وقفے وقفے سے غزہ کی پٹی کے محدود اسیران کو رہا کرتے رہتے ہیں، جبکہ رہائی پانے والوں میں سے اکثر کے چہروں پر تھکن اور نڈھالی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں، جو قابض صہیونی عقوبت خانوں اور حراستی کیمپوں میں اسیران کو درپیش کٹھن اور سفاک حالات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
جولائی سنہ 2026ء کے آغاز تک فلسطینی اسیران کے اداروں کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، قابض صہیونی عقوبت خانوں میں فلسطینی اسیران اور نظر بندوں کی کل تعداد تقریباً 9400 اسیر ہے، جن میں غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے 1320 نظر بند بھی شامل ہیں جنہیں قابض حکام “غیر قانونی جنگجو” کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔
اسیران کے اداروں نے واضح کیا ہے کہ ان اعداد و شمار میں وہ ہزاروں نظر بند شامل نہیں ہیں جو قابض فوج کے خفیہ فوجی کیمپوں اور حراست مراکز میں قید ہیں، جن میں سديہ تيمان کیمپ اور دیگر مراکز بھی شامل ہیں، جبکہ ان کی حالت زار اور حراستی مقامات کے بارے میں اب بھی کافی سرکاری معلومات کا فقدان ہے۔
