Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

غزہ کی صورتحال پر مشاورت، حماس وفد کی مصری انٹیلی جنس وزیر سے ملاقات

قاہرہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کی قیادت کے ایک وفد نے جماعت کے سیاسی بیورو کے سربراہ خلیل الحیہ کی قیادت میں عرب جمہوریہ مصر کے سرکاری دورے کے آغاز میں انٹیلی جنس ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر میں مصری انٹیلی جنس کے وزیر میجر جنرل حسن رشاد سے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران وفد نے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں ہونے والی تازہ ترین سیاسی اور عیدانی پیش رفت کا جائزہ لیا اور فلسطینی عوام کے خلاف قابض اسرائیل کی روزمرہ کی خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالی۔

وفد نے کہا کہ قابض اسرائیل شرم الشیخ کے معاہدے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے سے منہ موڑ رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ اس نے روڈ میپ کو مسترد کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، جسے اس نے مفاہمتی معاہدے کو مستحکم کرنے اور کشیدگی کو روکنے کی کوششوں میں رکاوٹ قرار دیا۔

وفد نے مغربی کنارے، مقبوضہ بیت المقدس اور قابض صہیونی عقوبت خانوں کی صورتحال پر روشنی ڈالی اور اس بات کی تصدیق کی کہ قابض کی طرف سے اپنائی جانے والی پالیسیاں ایک خطرناک تخریبی پالیسی ہیں جو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر فوری کارروائی کا تقاضا کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ حماس کے وفد میں شوریٰ کونسل کے سربراہ محمد درویش، بیرون ملک تحریک کے سربراہ خالد مشعل، مغربی کنارے میں تحریک کے سربراہ زاہر جبارین، عرب اور اسلامی تعلقات کے بیورو کے سربراہ ڈاکٹر باسم نعيم، تحریک کی سیاسی قیادت کے رکن ڈاکٹر غازی حمد شامل تھے۔

’حماس‘ کے ترجمان حازم قاسم نے اس سے قبل اس بات کی تصدیق کی تھی کہ برادر ملک مصر کے ساتھ جماعت کی ملاقاتیں ثالثوں کے ساتھ رابطوں اور سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کے فریم ورک کے اندر آتی ہیں۔

حازم قاسم نے آج اتوار کو ایک مختصر بیان میں واضح کیا کہ ثالثوں کے ساتھ تحریک کی ملاقاتیں انہیں قابض کی مسلسل خلاف ورزیوں سے آگاہ کرنے اور اسے اس روڈ میپ کی پابندی کرانے کو یقینی بنانے کے لیے ہیں جس پر ’امن کونسل‘ کے ساتھ اتفاق کیا گیا تھا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan