غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی وزارتِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں ہسپتالوں اور مریضوں کو آکسیجن کی فراہمی کو مکمل معطلی اور شدید خطرہ لاحق ہے۔وزارت صحت اس بات کی تصدیق کی ہے کہ باقی بچنے والے پلانٹس کی آپریٹنگ صلاحیت مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، جو بار بار آنے والی خرابیوں اور انجینئرنگ ٹیموں کے ان کی مرمت سے قاصر ہونے کے باوجود اپنی استطاعت سے بڑھ کر کام کر رہے ہیں۔
وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے اعداد و شمار سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ انتہائی پیچیدہ تکنیکی اور میکانی حالات میں اب بھی چونتیس میں سے صرف بارہ آکسیجن پلانٹس کام کر رہے ہیں، جو صحت کی سہولیات اور طبی خدمات فراہم کرنے والوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔
وزارت کے اعداد و شمار سے یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ تیس میں سے صرف چار آکسیجن سلنڈر بھرنے والی مشینیں اس وقت فعال ہیں، جبکہ انہیں ہنگامی مرمت کے کاموں کی تکمیل سے انجینئرنگ ٹیموں کو محروم رکھے جانے کے باعث کسی بھی لمحے اچانک بند ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔
وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ آکسیجن کی فراہمی زندگی بچانے والے اور انتہائی اہم شعبوں کے ساتھ ساتھ گھروں میں علاج کی سہولت پانے والے مریضوں کے لیے بنیادی اور سب سے بڑا رگِ حیات ہے۔
وزارت نے مطالبہ کیا ہے کہ ضروری پرزہ جات اور تکنیکی آلات لانے کے لیے راہداریوں کو فوری اور براہ راست کھولا جائے، اور ایک قریب الوقوع طبی اور انسانی سانحے سے بچنے کے لیے نئے آکسیجن پلانٹس کی ہنگامی اور فوری فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
وزارت نے مہینے کے آغاز میں انتباہ کیا تھا کہ غزہ کی پٹی میں صحت کا نظام ایک غیر معمولی تباہی سے دوچار ہے، اور اس بات کی تصدیق کی تھی کہ قابض دشمن کی جاری جارحیت کے سائے میں ریاستِ فلسطین میں ہیلتھ سیکٹر اپنی تاریخ کے خطرناک ترین مرحلے سے گزر رہا ہے۔
صحت سے متعلق اشیاء کی قلت کے بحران کے تازہ ترین اعداد و شمار سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ستتالیس فیصد بنیادی ادویات اور ستااسی فیصد لیبارٹری ٹیسٹ کے مواد کا ذخیرہ صفر تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ترپن فیصد طبی استعمال کی اشیاء ختم ہو چکی ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں پر زبردست دباؤ اور شدید کمی کا سامنا ہے جہاں بستروں کے پُر ہونے کی شرح ایک سو تیس فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔
غزہ میں صحت کے نظام کے انہيار کے حوالے سے طبی رپورٹوں اور بین الاقوامی بیانات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور اس صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اڑتیس میں سے چھبیس ہسپتال خدمات کی فراہمی سے باہر ہو چکے ہیں، جس سے پٹی میں زیرِ علاج مریضوں اور زخمیوں کو لاحق خطرات میں مزید شدت آ گئی ہے۔
