Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے مغربی کنارے میں آبادکاروں کے بڑھتے حملوں پر شدید تشویش ظاہر کر دی

نیویارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے خبردار کیا ہے کہ فلسطینیوں کے گھروں پر یہودی آباد کاروں کی جارحیت اور تجاوزات ناقابل برداشت حد تک پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے قابض اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان یہودی آباد کاروں کو فوری طور پر نکال باہر کریں جو ہزاروں فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں ملوث ہیں، غیر قانونی طور پر فلسطینی زمینوں پر قبضہ کر رہے ہیں اور غیر قانونی بستیوں کو وسعت دے رہے ہیں۔

دفتر نے ایک بیان میں واضح کیا کہ نومبر سنہ 2025ء میں نابلس کے جنوب میں واقع قصبے قصرہ کے قریب ایک اسرائیلی نوآبادیاتی چوکی کے قیام کے بعد رپورٹوں کے مطابق یہودی آباد کاروں نے قصبے کے مغرب میں واقع ایریا ‘بی’ کے علاقے پر قبضہ کر لیا، جبکہ فلسطینیوں پر ان کے مظالم میں شدید اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر کے مطابق، ان پرتشدد حملوں میں گھروں پر چھاپے، جسمانی تشدد، توڑ پھوڑ، ڈکیتی، اور آگ لگانے کے واقعات شامل ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ایک مقامی مسجد کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔

یہودی آباد کاروں کے تشدد کی ایک انتہائی خطرناک مثال گذشتہ جولائی کے مہینے میں سامنے آئی، جب قصرہ کے علاقے رأس العين میں ایک نوآبادیاتی چوکی کے یہودی آباد کاروں نے قریب واقع تین فلسطینی گھروں کے پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع کر دی۔

رواں ماہ نو اگست سنہ 2026ء کو یہودی آباد کاروں نے تینوں گھروں کی طرف جانے والے تمام راستے اور دروازے بند کر دیے، ان کے درمیان ایک خیمہ گاڑ دیا اور رہائشیوں کو علاقے میں داخل ہونے یا باہر نکلنے سے روک دیا، جس کے نتیجے میں تین فلسطینی خاندان، جن میں کم از کم دو بچوں سمیت تقریباً ۱۵ افراد شامل ہیں، اپنے ہی گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔

اقوام متحدہ کے دفتر کے مطابق، ان تینوں خاندانوں کے افراد شدید خوف و ہراس کی فضا میں زندگی گزار رہے ہیں اور اپنی بنیادی ضروریات بشمول پانی اور بجلی تک رسائی سے یکسر محروم ہیں۔

ان خاندانوں نے موقع پر موجود اسرائیلی قابض افواج سے مداخلت کی اپیل کی، لیکن ان افواج نے کوئی ردعمل نہیں دیا، بلکہ دفتر کے مطابق، پیرامیڈیکس، یکجہتی قائم کرنے والے کارکنوں اور صحافیوں کو بھی ان محصور خاندانوں تک پہنچنے سے روک دیا۔

ویڈیو ریکارڈنگز میں قابض فوج کے اہلکاروں کو موقع پر یہودی آباد کاروں کے ساتھ مل کر عبادت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ بارہ اگست سنہ 2026ء کو قابض جنود نے یہودی آباد کاروں کا خیمہ تو ہٹا دیا لیکن انہیں وہاں سے دور نہیں کیا، اور وہ جمعرات تک ان گھروں کا محاصرہ کیے رہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اس بات پر زور دیا کہ قابض طاقت یعنی اسرائیل کی پشت پناہی یا خاموش رضامندی سے یہودی آباد کاروں کے کیے جانے والے یہ غاصبانہ اقدامات فلسطینی خاندانوں کی زندگی کو ناقابل برداشت بنا رہے ہیں اور ان کا واضح مقصد انہیں ان کے گھروں اور زمینوں سے بیدخل ہونے پر مجبور کرنا ہے۔

دفتر نے انتباہ دیا کہ ان تینوں فلسطینی خاندانوں کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور انہیں زبردستی جلاوطن اور بے دخل کیے جانے کے شدید خطرات لاحق ہیں۔

اقوام متحدہ نے بین الاقوامی عدالت انصاف کی اس بات کی تصدیق کی طرف اشارہ کیا کہ تمام اسرائیلی مستعمرات اور بستیوں کا قیام غیر قانونی ہے، اور اسرائیل کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام نوآبادیاتی سرگرمیاں فوری روکے اور تمام یہودی آباد کاروں کو، بشمول ان کے جو قصرہ اور جالود میں فلسطینیوں پر دہشت پھیلا رہے ہیں، وہاں سے نکالے اور مغربی کنارے میں اپنے غیر قانونی وجود کو ختم کرے۔

دفتر نے اس بات پر زور دیا کہ اس دوران قابض اسرائیل پر لازم ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے تاکہ مقامی فلسطینی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور مغربی کنارے میں غیر قانونی طور پر مقیم یہودی آباد کاروں کے حملوں کو روکا جائے اور ان کی تحقیقات کی جائیں۔

دفتر نے مطالبہ کیا کہ ان مظالم کے ارتکاب، ان کی سرپرستی یا انہیں برداشت کرنے والے تمام ذمہ داروں کا محاسبہ یقینی بنایا جائے، جس میں ان مظالم اور پامالیوں کے متناسب پابندیاں عائد کرنا بھی شامل ہے۔

وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن نے ان اعداد و شمار کو فلسطینی وجود کو ہدف بنانے والی ایک منظم روزانہ کی پالیسی قرار دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ گذشتہ جولائی کے مہینے کے دوران قابض فوج اور یہودی آباد کاروں نے دو ہزار دو سو چھپن حملے کیے ہیں۔

جولائی کے مہینے میں یہودی آباد کاروں نے نو اضلاع میں زرعی اور چراہ گاہ کے لبادے میں انتیس نئی نوآبادیاتی چوکیوں کا قیام عمل میں لانے کی کوشش کی تاکہ وسیع رقبے پر قبضہ آسان ہو سکے اور فلسطینی بستیوں کے درمیان رابطہ منقطع کیا جا سکے۔

کمیشن نے سال سنہ 2026ء کی پہلی ششماہی کے دوران مغربی کنارے میں قابض فوج اور یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں گیارہ ہزار چوہتر حملوں کی دستاویزی شہادتیں بھی جمع کی ہیں جو فلسطینیوں کے خلاف منظم تشدد کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار کی نشاندہی کرتی ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan