Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے تیز، لبنانی فوج کی تعیناتی متاثر

بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان پر اپنے فضائی حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے، جس کے تحت صور میں واقع قصبہ المنصوری پر ایک فضائی حملہ کیا گیا، جبکہ اسی دوران اس کی فوج نے النبطيہ گورنری میں واقع قصبہ مشرقی زوطر میں رہائشی عمارتوں اور شہری تنصیبات کو دھماکوں سے اڑا دیا۔

مقامی میڈیا کے ذرائع نے بتایا کہ حملے کا نشانہ قصبہ المنصوری بنا، جبکہ اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج نے قصبے میں حزب اللہ کے ایک آپریشنل اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا۔

یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ قابض دشمن کے مسلسل حملے ملک کے جنوب میں اس کی مکمل تعیناتی اور مکینوں کی اس کے قصبوں کی طرف واپسی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں، انہوں نےاس بات کی نشاندہی کی کہ قابض اسرائیلی افواج نے مشرقی زوطر میں عمارتوں اور شہری تنصیبات کو دھماکوں سے اڑا دیا ہے۔

لبنانی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی افواج نے قصبے میں سرکاری سکول، ڈسپنسری، بچوں کے نرسری اور متعدد گھروں کو تباہ کر دیا، اس کے علاوہ بلڈنگ کونسل کی عمارت کو بھی اڑا دیا گیا جسے پہلے ہی دھماکے سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

فوج نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ جنوبی دیہاتوں اور قصبوں کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ یہ حملے اس کی ذمہ داریوں کی انجام دہی اور مکمل تعیناتی کے عمل میں رکاوٹ حائل کر رہے ہیں، باوجود اس کے کہ اس کے دستے خطے میں اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔

شہری تنصیبات کی تباہی

نیشنل نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی افواج نے زوطر الشرقية کے وسط میں واقع شیخ نعیم مہدی سکول کی چار منزلہ عمارت کو بارودی سرنگوں سے اڑا کر تباہ کر دیا، اور وادی السلوقی کے راستے پر واقع قصبہ تولین کی وادی میں بھی دھماکے کیے۔

رات کے وقت قابض اسرائیلی افواج نے قصبہ حداثا میں دو دھماکے کیے اور بنت جبیل کے ضلع میں واقع قصبہ بيت ياحون میں ایک اور دھماکہ کیا۔

اسی طرح ایک اسرائیلی ڈرون نے کَفرا العاصی کے راستے پر مذہبی تقریبات کے احیا کے لیے بنے ہوئے ایک مرکز پر براہِ راست ایک میزائل داغا جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہو گئے، جبکہ ایک اسرائیلی ڈرون بیروت کے جنوبی ضاحچے کے اوپر پرواز کرتا رہا۔

قابض اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیل حزب اللہ کے نام نہاد بنیادی ڈھانچے اور سکیورٹی زون میں موجود گھروں کو مسمار کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا، اور مزید کہا کہ اس نے فوج کو لبنان کے اندر سکیورٹی زون میں طویل عرصے تک رہنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

يسرائیل کاٹز نے یہ بھی کہا کہ قابض افواج شام اور غزہ کے اندرونی علاقوں میں بھی موجود رہیں گی۔

لبنان کے اسرائیلی جواز کو مسترد کرنے کا اعلان

دوسری جانب لبنانی وزیرِ اعظم نواف سلام نے جنوبی لبنان میں دیہاتوں اور قصبوں کو تباہ کرنے کے اسرائیلی جواز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پورے کے پورے دیہاتوں کو عسکری تنصیبات قرار دینا عقل و منطق کے سراسر خلاف ہے۔

سلام نے اس بات پر زور دیا کہ جن مقامات کو اسرائیل نشانہ بنا رہا ہے ان کی نوعیت، جن میں گھر، رہائشی محلے، سرکاری دفاتر، پبلک سہولیات، عبادت گاہیں اور انفراسٹرکچر شامل ہیں، ان تمام علاقوں میں عسکری تنصیبات کی موجودگی کے دعووں کی قلعی کھول دیتی ہے۔

انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ المنصوري،مشرقی زوطر ، كفرتبنيت اور دیگر جنوبی قصبوں میں گھروں، رہائشی محلوں، بنیادی ڈھانچے، سرکاری املاک اور عبادت گاہوں کی منظم طریقے سے مسماری اور بلڈوزر چلانے کے عمل بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں اور قواعد کی سنگین پامالی ہے۔

لبنانی وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان کی خودمختاری، اس کے مکینوں کا امن اور جنوبی علاقوں کے باسیوں کا اپنی زمین پر واپسی اور اپنے قصبوں کی تعمیرِ نو کا حق ایسے معاملات نہیں ہیں جن پر کوئی سمجھوتہ کیا جا سکے۔

معاہدے کے نفاذ کے لیے متحرک عمل

سیاسی میدان میں، لبنانی صدر جوزيف عون نے امریکی جنرل کلیرفیلڈ کے ساتھ فریم ورک کے معاہدے کے نفاذ کے طریقہ کار پر بات چیت کی، جو کہ پچھلے ہفتے اسرائیل میں موصوف کی طرف سے کی گئی بات چیت کی روشنی میں تھی۔

لبنانی فوج کے کمانڈر جنرل روڈولف هيكل نے بھی امریکی جنرل کلیرفیلڈ کے ساتھ معاہدے کے انتظامات اور ان مشکلات پر تبادلہ خیال کیا جن کا سامنا فوج کو مسلسل اسرائیلی حملوں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

ہیکل نے لبنان میں اقوام متحدہ کے خصوصی کوآرڈینیٹر سے بھی ملاقات کی، جس میں عمومی حالات اور لبنان میں اقوام متحدہ کی عارضی فورس کے بعد کے مرحلے پر بات چیت کی گئی، اس کے علاوہ نیویارک میں سلامتی کونسل کے لیے اقوام متحدہ کے کوآرڈینیٹر کے متوقع دورے کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اسرائیل گذشتہ سال مارچ کے آغاز سے لبنان میں اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جن کے نتیجے میں، لبنانی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق، چار ہزار تین سو پینتیس افراد شہید اور بارہ ہزار دو سو ستتر زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ایک ملین سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

قابض اسرائیل جنوبی لبنان کے کچھ علاقوں پر دہائیوں سے قابض ہے، جبکہ اس موجودہ جارحیت کے دوران اس کی فوجیں لبنانی سرزمین کے اندر دس کلومیٹر سے زیادہ اندر تک گھس آئی تھیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan