Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

مسجدِ اقصیٰ پر بڑھتے اسرائیلی حملوں پر بیرونِ ملک فلسطینیوں کا شدید انتباہ

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) پاپولر کانفرنس فار پالیسٹینینز ابراڈ ( بیرونِ ملک فلسطینی عوامی کانفرنس) کی القدس کمیٹی کے سربراہ حلمی البلبیسی نے مقبوضہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ میں قابض اسرائیلی دشمن کے حملوں میں ہونے والے خطرناک اضافے پر شدید غم وغصے اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے شہر کے تشخص، مکینوں کے وجود اور مقدسات پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔

البلبیسی نے پریس بیانات میں اس بات پر زور دیا کہ القدس میں جو کچھ یورشوں، گرفتاریوں، جلاوطنیوں اور مسماری کے آپریشنز کی صورت میں ہو رہا ہے، وہ ایک خطرناک پیش رفت ہے جو شہر کی شناخت، مقدسیوں کے وجود اور ان کے مقدس مقامات کو نشانہ بناتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ القدس اور مسجد اقصیٰ انتہائی نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں، کیونکہ قابض دشمن اور یہودی آباد کاروں کے حملے اب محض یلغار تک محدود نہیں رہے، بلکہ انہوں نے نئے زمینی حقائق مسلط کرنے کی کوشش میں شہر کے زندگی کے مختلف شعبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

انہوں نے اس بات کو واضح کیا کہ دھاووں، گرفتاریوں اور جلاوطنیوں کے سلسلے کے ساتھ ساتھ قلندیا پناہ گزین کیمپ کو نشانہ بنانا اور اس کی تنصیبات کو مسمار کرنا اسرائیلی اقدامات کا ایک مربوط نظام ہے جس کا مقصد مقدسیوں کا ناطقہ تنگ کرنا، انہیں جبری نقل مکانی پر مجبور کرنا، شہر کا حُلیہ بگاڑنا اور ایک نئی بستیوں کی تعمیر کا ڈھانچہ مسلط کرنا ہے۔

البلبیسی نے اس بات پر سخت زور دیا کہ القدس کوئی ایسا ثانوی یا التوا کا شکار معاملہ نہیں ہے جسے محض وقتی ردِ عمل کے ذریعے سلجھایا جا سکے، بلکہ یہ فلسطینی کاز کا مرکزی نکتہ ہے اور امت کے دل میں ایک راسخ دینی اور تاریخی مقام کا حامل ہے، جبکہ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے عقیدے میں ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ القدس اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدسات کا تحفظ صرف ایک فلسطینی یا مقدسی معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے، کیونکہ یہ مسئلہ عالمی امن و سلامتی، عبادت کی آزادی، اور دینی و انسانی ورثے سے براہِ راست تعلق رکھتا ہے۔

البلبیسی نے مسجد اقصیٰ، مقدسی عوام اور ان کے مقدسات کے تحفظ کے لیے کسی بھی تاخیر کے بغیر ایک موثر اور ہنگامی قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا، اور محض مذمت اور بیانات پر اکتفا کرنے سے گریز کرنے کی تلقین کی، ساتھ ہی انتباہ کیا کہ عالمی سطح پر پائی جانے والی یہ خاموشی قابض دشمن کو اپنی جارحیت جاری رکھنے اور القدس کی شناخت و مقام کو تباہ کرنے والے نئے حقائق مسلط کرنے کی مزید جرأت دیتی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan