Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں جنگ کے بعد زندگی کی بحالی کا پہلا خواب، ایک محفوظ چھت

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں ہزاروں خاندانوں کے لیے جنگ بندی اپنے ساتھ ان کی تکالیف کا خاتمہ نہیں لے کر آئی، بلکہ اس نے انہیں ایک ایسے ماحول میں عارضی مہلت دی ہے جو اب بھی تباہی، جبری نقل مکانی اور کسی بھی لمحے جنگ کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کے خوف کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ایسے خیموں کے درمیان جو گرمی کی شدت سے بچا سکتے ہیں اور نہ ہی سردی کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور ایسے پناہ گزین مراکز میں جو زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، بار بار ایک ہی مطالبات دہرائے جا رہے ہیں: جنگ کا مستقل خاتمہ، تعمیرِ نو کا آغاز، امداد کی ترسیل اور ایک ایسی پناہ گاہ فراہم کرنا جو لوگوں کی عزتِ نفس کی حفاظت کر سکے۔

گولہ باری کی شدت میں کمی کے باوجود پٹی کے رہائشی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان کی زندگی اپنے معمول پر نہیں لوٹی، کیونکہ سرحدیں بدستور بند ہیں، خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہے، انفراسٹرکچر کی تباہی کا سلسلہ جاری ہے، اس کے علاوہ قابض فوج کا غزہ کے ایک وسیع رقبے پر کنٹرول ہے اور ان علاقوں میں مسماری اور بلڈوزر چلانے کا عمل جاری ہے جہاں فلسطینیوں کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔

محفوظ مقام کی تلاش

غزہ کے مغرب میں مچھیروں کی بندرگاہ کے قریب نصب ایک خیمے کے اندر پچاس سالہ مریم الطویل اپنے سات اہل خانہ کے ساتھ زندگی گذار رہی ہیں، یہ نقل مکانی کا ایک کٹھن سفر طے کرنے کے بعد کا انجام ہے جس کے دوران وہ اکتوبر سنہ 2023ء میں نسل کشی کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے متعدد علاقوں میں نقل مکانی کرتی رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ خیمے کے اندر زندگی ایک ناقابل برداشت روزمرہ کا بوجھ بن چکی ہے، ان کے خاندان کی اب صرف اتنی سی التجا ہے کہ ان کے گھر کی تعمیرِ نو کا کام شروع ہونے تک انہیں ایک محفوظ پناہ گاہ فراہم کی جائے جو ان کی عزتِ نفس کی حفاظت کر سکے۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ “ہم ایک حقیقی جنگ بندی چاہتے ہیں جو زندگی کی طرف واپسی کا آغاز ہو، نہ کہ کوئی ایسی عارضی مہلت جس کے بارے میں ہمیں ڈر ہو کہ وہ کسی بھی لمحے ختم ہو جائے گی”۔ وہ واضح کرتی ہیں کہ پرائیویسی کا فقدان، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے حصول میں مشکلات اور صحت کے بگڑتے ہوئے حالات خیموں میں زندگی گزارنے کو ایک مسلسل عذاب بنا دیتے ہیں۔

ایک سادہ سا خواب

غزہ کے وسط میں چوبیس سالہ رنا صابر اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ یرموک کوڑے کے ڈھیر کے قریب نصب ایک خیمے میں رہ رہی ہے، اس کے بعد کہ قابض دشمن نے غزہ کے شمال میں واقع قصبہ بیت لاھیا میں اس کا گھر تباہ کر دیا تھا۔ وہ اپنی زندگی کو ایک ایسے مقام پر “روزمرہ کی جنگ” سے تعبیر کرتی ہے جو زندگی کی بنیادی ضروریات سے عاری ہے، اس بات پر زور دیتی ہے کہ خاندان کی مصیبتوں کو کچھ کم کرنے کے لیے عارضی شیلٹرز کا حصول ایک ایسا سادہ سا خواب بن چکا ہے جس پر عمل درآمد گھر کی دوبارہ تعمیر تک ممکن ہے۔

رنا کا ماننا ہے کہ اس مرحلے پر سب سے بڑی ترجیح عارضی گھروں، تعمیراتی سامان اور ملبہ ہٹانے کے لیے درکار مشینری کی فراہمی ہے، اس کے علاوہ خوراک، ادویات، پینے کا پانی اور صفائی کا سامان مہیا کرنا بھی ضروری ہے، کیونکہ ہزاروں خاندان اب بھی انتہائی کٹھن انسانی حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

جہاں تک علاء الشرباصی کا تعلق ہے، تو انہوں نے غزہ کے مشرق میں واقع محلہ الشجاعیہ میں اپنا گھر کھو دیا، وہ کہتے ہیں کہ جنگ بندی اس وقت تک کوئی اہمیت نہیں رکھتی جب تک کہ وہ ایک ایسے مستقل معاہدے میں تبدیل نہ ہو جو مکمل طور پر جنگ کو روک دے، تعمیرِ نو کا راستہ ہموار کرے اور قابض دشمن کا انخلا یقینی بنائے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ان کے بچوں کو کسی بھی چیز سے بڑھ کر تحفظ کے احساس، سکولوں میں واپسی اور طبی دیکھ بھال کی ضرورت ہے، جبکہ خاندان کو ایک ایسے گھر کی ضرورت ہے جہاں وہ اس زندگی کا کچھ حصہ دوبارہ پا سکیں جو انہوں نے جنگ کے دوران کھو دیا تھا۔

ان توقعات کے ساتھ ساتھ رہائشیوں میں یہ شدید خدشات بھی پائے جاتے ہیں کہ قابض دشمن اس معاہدے سے مکر سکتا ہے اور فوجی حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے مسلسل خطرات کے سائے میں اس سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کر سکتا ہے، جو بے گھر افراد کے تحفظ کے احساس کو ملیا میٹ کر دیتا ہے اور جنگ بندی کے مستقبل کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیتا ہے۔

اس دوران قابض فوج غزہ کے تقریباً ستر فیصد رقبے پر مشتمل وسیع علاقوں پر اپنی غاصبانہ گرفت مضبوط کیے ہوئے ہے جو نام نہاد “یلو لائن” کے پیچھے واقع ہیں، وہ ان علاقوں کے قریب آنے والے ہر شخص پر فائرنگ جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ بقیہ عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے اور تباہ کرنے کا عمل بھی جاری ہے، جس سے مکینوں کی اپنے علاقوں میں واپسی کی راہیں مزید دشوار ہو رہی ہیں اور تعمیرِ نو کی کسی بھی حقیقی کوشش میں تاخیر ہو رہی ہے۔

بے گھر افراد کا یہ ماننا ہے کہ کوئی بھی ایسا معاہدہ جو اس بات کی واضح ضمانتیں فراہم نہ کرے کہ جنگ دوبارہ نہیں بھڑکے گی، قابض دشمن کو انخلا پر مجبور نہیں کرے گا اور انسانی امداد اور تعمیراتی سامان کے لیے سرحدیں نہیں کھولے گا، ان کے مصائب کا خاتمہ کرنے سے قاصر رہے گا۔ ان کے نزدیک جنگ کے خاتمے کا مطلب محض توپوں کی خاموشی نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ایک محفوظ گھر کی طرف واپسی، معمول کی زندگی کی بحالی، اور ان کے بچوں کو خیموں، خوف اور انتظار سے دور زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan